Jump to content
  • Member Statistics

    291
    Total Members
    38
    Most Online
    lady2000
    Newest Member
    lady2000
    Joined
  • Forum Statistics

    1,148
    Total Topics
    5,865
    Total Posts
  • Upcoming Events

  • Posts

    • اُن کی وہ جفا اپنی وفا یاد رہے گی دلچسپ محبت کی خطا یاد رہے گی   دنیا کی ہر اِک بات اگر بھول بھی جاؤں مجھ کو ترے ملنے کی دُعا یاد رہے گی   دھڑکن میں ترا نام ہی پاؤں گا ہمیشہ کچھ بات نہ اب تیرے سِوا یاد رہے گی   شرما کے نگاہوں کا چُرا لینا وہ مجھ سے مجھ کو یہ نرالی سی اَدا یاد رہے گی   اب تک ہیں مجھے یاد وہ لمحاتِ جدائی پائی جو محبت میں سزا یاد رہے گی   چاہے بھی جو فیصلؔ تو تجھے بھول نہ پائے ہر ایک تری بات پِیا یاد رہے گی
    • وفا کی رہ میں کچھ حائل نہیں ہے ارادہ ہو تو کچھ مشکل نہیں ہے   نہ آئیں لوٹ کر گزرے زمانے وہ باتیں اور وہ محفل نہیں ہے   محبت وہ سمندر ہے کہ جس کا ملا کوئی کہیں ساحل نہیں ہے   بس اس میں رہ گزر ہے اور سفر ہے کوئی بھی عشق کی منزل نہیں ہے   خِرد والو خِرد کی بات چھوڑو طبیعت اس طرف مائل نہیں ہے   ہر اِک لمحہ تمہاری یاد آئی کبھی دل آپ سے غافل نہیں ہے   مجھے سب کچھ ملا ہے پیار سے ہی کہوں کیسے کہ کچھ حاصل نہیں ہے   وہ کیوں لوگوں سے کہتا پھر رہا ہے کہ یہ پہلا سا وہ فیصلؔ نہیں ہے
    • وہ آئے گا کلی بن کر چٹک کر ہم بھی دیکھیں گے کہ خوشبوئے محبت سے مہک کر ہم بھی دیکھیں گے   میں جتنا اس میں کھو جاؤں گا اپنا آپ پاؤں گا تری یادوں کے گلشن میں بھٹک کر ہم بھی دیکھیں گے   جو ہونا ہو چکا اب تو سبھی بیکار ہیں باتیں جو لگنی لگ چکی اب تو بھَڑک کر ہم بھی دیکھیں گے   ہمیں معلوم ہے تجھ کو بھُلا نہ پائیں گے لیکن تری یادیں خیالوں سے جھٹک کر ہم بھی دیکھیں گے   پتہ لگ جائے گا مجھ کو سرُور آئے گا اس میں کیا تری گلیوں میں دانستہ بھٹک کر ہم بھی دیکھیں گے   نہ اتنا ظرف چھوٹا ہے مگر فیصلؔ یہ دل چاہے وہ نظروں سے پلا دے تو بہک کر ہم بھی دیکھیں گے
    • بیتے ہوئے لمحات میں جھانکا نہیں کرنا اس دل کو کسی وقت بھی تنہا نہیں کرنا   اب ہاتھ سے چھُوٹے نہ کبھی صبر کا دامن اس آنکھ کے قطرے کو بھی دَریا نہیں کرنا   ہے یاد ابھی تک مجھے اپنا یہ سبق بھی اوقات سے بڑھ کر کبھی دعویٰ نہیں کرنا   اب بھول کے بھی درد کے قصے نہیں سننا چنگاریِ دل کو کبھی شُعلہ نہیں کرنا   نکلا ہے یہی پہلی محبت کا نتیجہ اس طرح کسی شخص کو چاہا نہیں کرنا   ہم جیسے فقیروں کا ہے شیوہ یہی فیصلؔ سہنا ہے سبھی کچھ کبھی شکوہ نہیں کرنا
    • کچھ ہم نہ کہیں گے تجھے رُسوا نہ کریں گے دنیا سے تِرے پیار کا چرچا نہ کریں گے   صورت تو دکھا جاؤ کہ تسکین ہو دل کی ہم آنکھ ملانے کا تقاضا نہ کریں گے   اِک بار وہ کہہ دے کہ نہیں کوئی بھی رشتہ تنہائی میں ہم بیٹھ کے رویا نہ کریں گے   مخمور نگاہوں کا ملے جام چھلکتا ہم لوگ طلب ساغر و مینا نہ کریں گے   جس چیز کے بدلے میں ترا پیار گنوا دوں ہم زیست میں ایسا کبھی سودا نہ کریں گے   مل جائے وہ اِک شخص تو مل جائے گی دنیا بعد اس کے کوئی اور تمنا نہ کریں گے   حالات کی گرمی سے جھُلس جائے گا فیصلؔ گر پیار کا ٹھنڈا سا وہ سایہ نہ کریں گے
    • محبوب ہو ساجن مِرا دلدار کوئی ہو دل میں رہی حسرت مرا غمخوار کوئی ہو   کوئی تو ہو دنیا میں جو دُکھ درد بھی بانٹے ٹوٹے ہوئے سپنوں کا خریدار کوئی ہو   دل چیز ہے کیا جان بھی ہم نام لگا دیں انمول سی چاہت کا طلبگار کوئی ہو   آ جائیں گے بازار میں ہم بکنے کی خاطر لینے کے لیے تو سرِ بازار کوئی ہو   کوئی تو ہو جو دیکھے اِدھر آنکھ اُٹھا کر میرا بھری دنیا میں طرفدار کوئی ہو   ویرانۂ دل میں نہیں دیکھا کوئی فیصلؔ خواہش ہے کہ آبادی کا آثار کوئی ہو
    • سب یہ کہتے ہیں تم بے وفا ہو گئے لوگ سارے ہی اب تو خفا ہو گئے   جو ملا مجھ کو وہ داغ ہی دے گیا جو بھی ساتھی ملے کیا سے کیا ہو گئے   سب ہی بیگانے بیگانے ہونے لگے اپنے سب دُور کی اب صدا ہو گئے   عمر گزری ہے میری سسکتے ہوئے سارے درد و الم آشنا ہو گئے   ایسی تقدیر ہو گی یہ سوچا نہ تھا میری قسمت کے تارے فنا ہو گئے   ہر طرف ہی یزیدوں کی اب فوج ہے سارے رستے ہی کرب و بلا ہو گئے   میرے حصے کے جو سُکھ تھے مجھ کو ملے کر کے اِک ایک سارے جُدا ہو گئے   کیا رکھیں آس مل جائیں گی منزلیں خود جو بھٹکے تھے وہ رہنما ہو گئے   جا رہے ہو اے فیصلؔ کفن اوڑھ کے تم سبھی مشکلوں سے رِہا ہو گئے  
    • کھو کر میں کسے اور کدھر ڈھونڈ رہا ہوں آئے نہ سمجھ کس کو اِدھر ڈھونڈ رہا ہوں   بھٹکا ہوا ہوں دشت کے پُر خار سفر میں دکھلائے جو رہ ایسی نظر ڈھونڈ رہا ہوں   گزرے تھے جہاں سے کبھی ہم دونوں کے سائے کب سے میں وہی راہ گزر ڈھونڈ رہا ہوں   پاگل ہوں میں کتنا، ہیں عجب خواہشیں میری تاریک سی راتوں میں سحر ڈھونڈ رہا ہوں   اُکھڑے نہ جو طوفان سے اور تیز ہَوا سے بکھرے نہ خزاں میں وہ شجر ڈھونڈ رہا ہوں   اِس دل کے دریچے میں کئی لوگ ہیں آئے جو رُوح میں اُترے وہ نظر ڈھونڈ رہا ہوں   ہیں لوگ بہت پر یہاں انسان نہیں ہیں ہو پورا جو انساں وہ بشر ڈھونڈ رہا ہوں   کتبہ ہو لکھا جس پہ ترے نام کا فیصلؔ وہ قبر میں ہر ایک نگر ڈھونڈ رہا ہوں  
    • سلام بیادِ امامِ عالی مقامؓ   ابن حیدرؓ نے کی ہے وہ دیں سے وفا مرحبا مرحبا دیکھ کر جس کو خود ہی خدا نے کہا مرحبا مرحبا   بند پانی ہوا سارا گھر لُٹ گیا پر جگر دیکھئے پاس ہر چیز تھی پر نہیں کچھ کِیا یہ نظر دیکھئے کی نہیں اہلِ بیعت نے آہ و بکا مرحبا مرحبا   جب نکالی تھی برچھی وہ اکبر کے سینے سے دلگیر نے صبر کی انتہا کر دی تھی اُس سمے پیارے شبیرؓ نے عرش سے فرش تک اِک یہی تھی صدا مرحبا مرحبا   ریگِ کربل کو وہ ذو فشاں کر گئے جو کہ پیاسے رہے دینِ حق کو وہ پھر سے جواں کر گئے جو کہ پیاسے رہے اُن کے دَر کی ہے مشہور جُود و سخا مرحبا مرحبا   کچھ بچایا نہیں اپنی خاطر نبی کے نواسے نے پھر اِک وہ تاریخ لکھی جو لکھی لہُو سے پیاسے نے پھر دیں پہ قربان اصغرؓ تلک کر دیا مرحبا مرحبا   اپنے عمّو سے وہ پیاس دیکھی گئی نہ سکینہ کی جب زِین گھوڑے پہ ڈالے وہ کہتے گئے پانی لاؤں گا اب غازی عباسؓ نے پھر وہ پانی بھرا مرحبا مرحبا   کوئی ثانی نہیں تُو نے احساں کیا ہے وہ اسلام پر سارا کنبہ کیا تو نے قربان اللہ کے نام پر ہے دو عالم مفخرّ تری ذات پر سیّدِ کربلاؓ مرحبا مرحبا   سر کٹانے کا جب مرحلہ آ گیا حیدریؓ خوں اُٹھا ہے یہ عالم گواہ کہ انہوں نے ہے پھر حق ادا کر دیا پیچھے مڑ کر نہ دیکھا کسی نے ذرا مرحبا مرحبا   ساری دنیا پہ تُو نے ہے ثابت کیا اے شہیدِ امامؓ اس زمانے کو پھر سے ہے بتلا دیا جو ہے تیرا پیام نیزے کی نوک پہ بھی ہے قرآں پڑھا مرحبا مرحبا   شاہِ کرب و بلا تیری شان اولیٰ کیسے لکھے قلم جو گرائے گا کوئی نہ محشر تلک وہ لگایا علم تو محمدؐ کا ہے اور محمدؐ تِرا مرحبا مرحبا   دینِ اسلام پر ننھے سے بچے بھی ہو رہے ہیں فدا خالی جھولی ہوئی دین ہے بچ گیا اور کچھ نہ بچا تیرِ حُرمل بھی معصوم اصغرؓ سہا مرحبا مرحبا   نجس دربار میں شامی بازار میں کون ہے ذات وہ مرحلے سارے ہی پورے وہ کر گئے صبر کے ساتھ جو بی بی زینبؓ کا دیکھو ذرا حوصلہ مرحبا مرحبا
    • نعت شریف   عاصی و گناہگار و سیہ کار ترے ہیں جیسے بھی ترے ہیں مری سرکار ترے ہیں   اتنی ہے بسی دل میں محبت تری آقاؐ سو بار جنم لیں تو ہر اِک بار ترے ہیں   مانجھی تو ہمارا ہے تو ہی ایک سہارا گردابِ جہاں سے تو لگا پار ترے ہیں   دنیا کے یہ سورج یہ فلک چاند ستارے گلشن بھی سبھی اور یہ گلزار ترے ہیں   فیصلؔ تو پریشان ہوا کر نہ دکھوں میں غم کیا تجھے کونین کے مختار ترے ہیں
    • نعت شریف   بے نواؤں کو نوا دی آپؐ نے سب اندھیروں کو ضیا دی آپؐ نے   آئے وہ بن کر مسیحائے جہاں لا علاجوں کو شفا دی آپؐ نے   وصف یہ دیکھا جہاں نے آپؐ کا ظلم سہہ کر بھی دُعا دی آپؐ نے   اُن کے در پہ جو بھی مجرم آ گیا اُس کو رحمت کی سزا دی آپؐ نے   نامکمل تھا جہاں اُن کے بغیر محفلِ عالم سجا دی آپؐ نے   سب ہی مظلوموں کو دے دی ہے زباں ظلم کی شمع بجھا دی آپ نے   بعد میرے آئے نہ کوئی نبی بات یہ سب کو بتا دی آپؐ نے   جو بھی فیصلؔ اُن کے در پر آ گیا اس کو کملی میں جگہ دی آپؐ نے  
    • نعت شریف   کر دو کرم کی اِک نظر اے سیّدِ خیر البشرؐ   بس اِک اشارا ہو ترا یہ زندگی جائے سنور   ہے بس میری خواہش یہی درپیش ہو وہ اِک سفر   اِک خواب میری زندگی چوکھٹ تری میرا ہو سَر   کر دے منوّر قلب کو تیرا ہے ایسا پاک در   درماں نہیں کچھ اور اب بس آپ میرے چارہ گر   انگشت کی جنبش سے پھر ٹکڑے ہوا تھا یہ بدر   اس آس پہ جیتا ہوں میں پہنچوں گا لے کے چشمِ تر   دنیا نے مانگا جو بھی ہے تو مانگ فیصلؔ اُن کا در
    • غزل اس پری رو پہ میں اک لکھوں گا رقم جس میں رودادِ الفت کروں گا   مجھے لے چلو کوئے جاناں کی جانب جہاں سے یہ چلتے ہوئے میں کہوں گا   مرے لب پہ رقصاں سدا ذکر تیرا میں مرتے ہوئے بھی ترا نام لوں گا   مسرت مجھے بیکراں ہو گی حاصل خبر تیری آمد کی جب بھی سنوں گا   یہی بات میری سمجھ حرفِ آخر ترے سنگ ناقِدؔ جیوں گا مروں گا
    • کرب میں ہر دم جیون اپنا پیہم حال اجیرن اپنا   آگ لگی ہے میرے من میں ہر پل سوزاں ہے تن اپنا   بربادی نے ڈیرے ڈالے کب سے ویراں گلشن اپنا   برسوں کی مہمان ہزیمت آگ کا بھاگ نشیمن اپنا   اپنی ہستی کیا ہے ناقِدؔ؟ روگ کا مسکن ہے من اپنا
    • رہوں کرب میں ہے اسی کی مشیت مرا زندہ رہنا بھی ہے اک اذیت   اجاگر کرے کوئی کیسے حقیقت؟ ہے کم ہی دلوں کو یہ جذبہ ودیعت   سکوں کیسے بھٹکے بھلا پاس میرے؟ زمانے نے کر دی مکدر طبیعت   سیہ کار لگتی ہے خلقت عموماً کسی کو کرے کوئی کیسے نصیحت؟   کریں گے ستم یاد اپنے وہ ناقِدؔ اٹھائیں گے کاندھے پہ جب میری میت
    • رہا تیرگی میں کوئی عمر بھر پسِ مرگ پہنچی نویدِ سحر   مرے ساتھ ہر دم رہی بے کسی نہ مونس بنا کوئی بھی چارہ گر   مصائب سے بوجھل مری زندگی نہ ہو کیوں پریشاں مرا ہم سفر   بڑے مجھ پہ احساں ہی اس ذات کے وہ آقا وہ مولا وہ نورِ نظر   ہمیشہ دکھوں سے تعلق رہا مرا دل تھا ناقِدؔ غموں کا نگر
    • تیری الفت کی یہ ایک سوغات ہے میری آنکھوں میں اشکوں کی برسات ہے   ایسا بے کل کیا ہے ترے پیار نے یہ خبر بھی نہیں دن ہے یا رات ہے   دہر کی کچھ سمجھ مجھ کو آتی نہیں مجھ کو درکار کشف و کرامات ہے   ہے مری زندگی کرب کی زندگی مجھ پہ طاری سدا ایک سکرات ہے   کارگر جس کی کوئی بھی کاوش نہیں اس کے ہونٹوں پہ حرفِ مناجات ہے   ناقِدِؔ بے نوا کیسا ذوقِ سکوں تو کہ مرہونِ امواجِ ظلمات ہے
    • بوجھ زمیں کا ہم ہیں یارو پاس ہمارے غم ہیں یارو   ہر دم سوز گداز میں غلطاں دکھ اپنے کب کم ہیں یارو؟   برسوں کی مہمان ہے غربت آنکھیں بھی پرنم ہیں یارو   کیوں اعراض کرے نہ دنیا؟ اپنے ساتھ الم ہیں یارو   ناقِدؔ کے دل کی محفل میں سارے درد بہم ہیں یارو  
    • نظر نظر میں ملال سا ہے محبتوں کو زوال سا ہے   نہیں مجھے اور کچھ تمنا مجھے تیرا ہی خیال سا ہے   ہے دور دورہ سا بے حسی کا خلوص و الفت کا کال سا ہے   تری جدائی کا ایک دن بھی مری نگاہوں میں سال سا ہے   خبر بھی ہے تجھ کو اس کی ناقِدؔ جو تیرے دکھ میں نڈھال سا ہے
    • غموں نے کئی روپ جیون میں دھارے بدن سوختہ ہے جگر کے ہیں پارے   ہمیشہ رہا ہے بھنور میں سفینہ نہیں دیکھے اس نے کبھی بھی کنارے   یہاں لوگ سارے پریشاں پریشاں کسی کی کوئی کیسے قسمت سنوارے؟   مری جان لگتے ہو کچھ مضطرب سے ہیں بدلے ہوئے آج تیور تمہارے   نہ گھر ہے نہ کوئی ٹھکانہ ہے ان کا مرے مولا جائیں کہاں غم کے مارے؟   سدا کرب میں زیست ناقِدؔ گزاری نہ دے پائے راحت مقدر ہمارے
  • Topics

×