Jump to content

Leaderboard


Popular Content

Showing content with the highest reputation since 04/21/2019 in all areas

  1. 1 point
  2. 1 point
    اُس کو پانے کا کہاں سوچا تھا اچھا لگتا تھا سو محبت کرلی
  3. 1 point
    پہلے دوستی، پھر محبت، اور پھر بلاوجہ نفرت بڑی ترتیب سے ایک شخص نے تباہ کیا مجھے
  4. 1 point
    عاشقوں کی عید بعض اوقات غیر ارادی طور پرایسی کوئی حرکت سرزد ہو جاتی ہے، جس کے بارے میں جلد یا دیر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ سر پکڑ کر سوچنے لگتے ہیں کہ ہم نے ایسا کیوں کیا؟ کوئی معقول وجہ بھی سجھائی نہیں دیتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ حرکت بے وقوفی یا نادانی کے نام سے یاد رہ جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک حرکت پچھلے ہفتے مجھ سے سرزد ہو گئی۔ عاشقوں کی عید قریب آ رہی تھی۔ ’عاشقوں کی عید‘ کا نام سن کر آپ چونک گئے ہوں گے۔ پہلی مرتبہ جب میں نے اس عید کے بارے میں سنا تھا، تب میں بھی چونک پڑا تھا۔ اب تک میں دو عیدوں کے بارے میں سنتا اور ان کو مناتا رہا ہوں۔ عاشقوں کی عید میرے لیے نئی عید تھی۔ ’عیدِ عشّاق‘ سے میرا تعارف ایک ماہ قبل ہوا۔ مختلف ذرائع ابلاغ سے پتا چلا کہ عیدِ عشّاق یا عاشقوں کی عید، چاہنے اور محبت کرنے والوں کی عید ہے۔ اس دن محبت کرنے والے ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اپنی وفاؤں کا اظہار کرتے ہیں اور یہ عہد بھی کرتے ہیں کہ ہر دم یوں ہی ایک دوسرے کو چاہتے رہیں گے۔ اس عید کی مبارک باد دینے اور اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لیے کاغذ کا ایک ٹکڑا اہم رول ادا کرتا ہے۔ عاشق اس دن ایک دوسرے کو کارڈ پیش کرتے ہیں۔ کسی نے بتایا کہ یہ کاغذ کا ٹکڑا دل کی علامت ہے اور عاشقوں کے پاس ایسے کئی کاغذ کے ٹکڑے رہتے ہیں ! عاشقوں کی عید کے دن صرف کارڈ سے کام نہیں چلتا بلکہ ’علامتی دل‘ کے ساتھ حسبِ مقدور تحفے تحائف دیے جاتے ہیں۔ تحفے محبت کی پائیداری کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ یہ ایک طرح کی رشوت ہے جو محبت کرنے والے ایک دوسرے کو دیتے اور لیتے رہتے ہیں۔ میرے دل نے بھی چاہا کہ میں عاشقوں کی عید مناؤں اور کسی کو کارڈ اور تحفہ بھیجوں۔ میں نے اپنی زندگی کا جائزہ لیا تو ایک بھی لڑکی ایسی نہ ملی، جس سے مجھے عشق ہوا تھا۔ عشق تو دور کی بات ہے، کوئی لڑکی ایسی بھی نہ تھی، جو پہلی نظر میں پسند آئی تھی۔ کسی کو پسند کرنے اور چاہنے یا کسی سے عشق کرنے سے پہلے ہی بزرگوں نے غالباً حفظ ماتقدم کے طور پر میری شادی کر دی تھی۔ اب میرے لیے بیگم ہی ایک ایسی ہستی تھیں بلکہ ہیں، جنھیں میں عاشقوں کی عید پر کارڈ بھیج سکتا تھا لیکن مجھے بیگم میں ایسی کوئی خاص بات نظر نہیں آئی کہ میں انھیں خوشی خوشی کارڈ بھیجتا۔ دوسروں کے بارے میں سوچا تو اپنی عزت اور اپنا سر یاد آیا۔ ادھیڑ عمر میں دونوں کے متاثر ہونے کا امکان تھا۔ آخر مجبور ہو کر میں نے بیگم ہی کو کارڈ بھیج کر عاشقوں کی عید منانے کا ارادہ کیا۔ عاشقوں کی عید کے لیے شہر میں جگہ جگہ کارڈ کی دکانیں کھل گئی تھیں۔ کبھی ان دکانوں میں جانے کا مجھے اتفاق نہیں ہوا تھا۔ میں پہلی بار ان دکانوں میں بیگم کے لیے کارڈ لینے کی غرض سے قدم رکھا۔ بھانت بھانت کے کارڈ دیکھ کر میں چند لمحوں کے لیے چکرا گیا۔ مختلف شکل و صورت کے کارڈ دستیاب تھے۔ کوئی دل تو کوئی بیضوی شکل کا کارڈ تھا۔ کسی کارڈ میں پھول لگے تھے تو کسی میں دل لٹک رہا تھا۔ کسی میں خوبصورت فقرے لکھے تھے تو کسی میں اشعار درج تھے۔ کسی میں ہونٹ ’دست بوس‘ تھے تو کسی میں دل معانقہ کر رہے تھے۔ چند کارڈ ناکام محبت کی داستان تھے۔ ایک کارڈ پر دل زخمی تھا تو دوسرے کارڈ میں آنکھوں سے اشک رواں تھے۔ قصّہ مختصر، ڈھیر سارے اچھے کارڈ دیکھ کر میں سب سے بہترین کارڈ کا انتخاب کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا تھا۔ دوچار گھنٹے یوں ہی ’کارڈ گردانی‘ میں ضائع ہو گئے۔ آخر آنکھ بند کر کے ایک کارڈ اٹھا لیا اور اسے اپنی محبت یعنی بیگم کے لیے پسند کر لیا۔ اس کارڈ کی یہ خوبی مجھے پسند آئی کہ کارڈ کھولنے پر موسیقی بجتی تھی۔ ایک طرح سے یہ کارڈ ایک ساز بھی تھا۔ کھول بند کر کے اسے بجایا جا سکتا تھا۔ کارڈ سادہ تھا۔ اس پر کچھ لکھا نہ تھا۔ دام چکانے کے بعد میں سوچنے لگا کہ اگر پہلے سے کارڈ پر ’اقوالِ زرّیں ‘لکھے بلکہ چھپے ہوئے ہوتے تو میں کچھ لکھنے کی زحمت سے بچ جاتا لیکن اب کارڈ پر کچھ نہ کچھ تو لکھنا تھا۔ کم سے کم نام لکھنا ضروری ہے لیکن صرف نام لکھنا کون سا کمال ہے۔ اپنا نام تو اَن پڑھ شخص تک لکھ بلکہ اتار لیتا ہے۔ میں تو پڑھا لکھا ہوں۔ ثبوت کے طور پر دوچار ڈگریاں میرے پاس ہیں۔ اس لیے دل نے مشورہ دیا کہ کارڈ پر مجھے بہت کچھ لکھنا چاہیے۔ لیکن کیا لکھوں؟ بہت سوچا۔ کچھ سجھائی نہ دیا۔ کارڈ لکھنے کا پہلے سے مجھے تجربہ بھی نہ تھا۔ ایک دوست سے مدد چاہی تو انھوں نے صلاح دی۔ ’جو دل میں آئے لکھ دو، یہ دل کا معاملہ ہے۔ کارڈ پر لکھی عبارت کو نقاد نہیں پڑھتے۔ دل کی بات دل والے تک پہنچانا مقصد ہے۔ بات کی نہیں کارڈ بھیجنے والے کی اہمیت ہوتی ہے اور اس کی قدر کی جاتی ہے۔ ‘ اس مخلص مشورہ کے باوجود کوئی خیال ذہن میں نہ آیا۔ بیگم کا تصور کرتے ہوئے لکھنے کا ارادہ کیا۔ قیاس تھا کہ بیگم کے خیال سے الفاظ ڈھلتے چلے آئیں گے یا چند اشعار ہی یاد آ جائیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس جمالیاتی تصور کے برخلاف ذہن میں بیگم کی خواہشات اور یاد دہانیاں ابھرنے لگیں۔ شام جلد آئیے، شاپنگ کے لیے جانا ہے۔ دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرتے مت بیٹھ جایئے۔ گیس ختم ہو گئی ہے، واپس آ کر گیس لانا ہے، تبھی ڈنر ملے گا۔ اسکول میں بچی کے داخلے کے لیے سفارش کروانی ہے۔ ٹیلر ماسٹر پچھلے دو ہفتوں سے چکر لگوا رہا ہے، اس کی خبر لیجیے، وغیرہ۔ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ ’کارڈ پر کیا بیگم کی فرمائشوں اور گھر کے کاموں کی فہرست لکھ دوں؟‘ تصور اور حقیقت کے درمیان کشمکش کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے جھنجھلا کر ٹیلی ویژن پر بجنے والے ایک گیت کے ابتدائی دو بولوں کو کارڈ کے بیچ میں سرخ رنگ کی روشنائی سے لکھ ڈالا ؎ آپ کا دل ہمارے پاس ہے ہمارا دل آپ کے پاس ہے ’فلمی شعر‘ تحریر کرنے کے بعد میں اپنے آپ سے شرمندہ ہوا۔ یہ شعر نہیں، کسی بنیے کا بہی کھاتہ لگتا ہے۔ یہ کوئی بات ہوئی کہ آپ کا دل میں نے اپنے پاس رکھ لیا ہے اور آپ نے بدلے میں میرا دل لے رکھا ہے۔ چلیے حساب برابر ہوا۔ میں اس تک بندی سے مطمئن نہیں تھا لیکن کچھ کیا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ اب اسے مٹایا اور نہ ہی کاٹا جا سکتا تھا۔ کارڈ خراب ہو جاتا اور اس کارڈ کو ضائع کرنے میں پورے سو روپے کا نقصان تھا۔ نیا کارڈ خریدنا اور پھر سے سوچنے کی مشقّت الگ تھی۔ اس لیے اسی شعر اور کارڈ سے کام چلا لینے کا فیصلہ کیا۔ یہ سوچ کر بھی اپنے آپ کو بہلا لیا کہ کارڈ لکھنے کا پہلا تجربہ ہے۔ اگلے برس عاشقوں کی عید پر اچھی عبارت اور اچھے اشعار کا انتخاب کروں گا۔ ابھی کارڈ پر بہت جگہ باقی تھی۔ اس شعر کے علاوہ بھی مجھے اور بھی کچھ لکھ کر خالی جگہ پُر کرنی تھی۔ میں نے پھر ایک مرتبہ سوچا کہ کیا لکھوں۔ کیا بیگم کے حسن کی تعریف کروں؟ عقل نے سمجھایا۔ جب تعریف کرنی چاہیے تھی تب کچھ نہیں کہتے تھے۔ خاموش رہتے تھے۔ اب بیس سال بعد بیگم کی خوبصورتی کے گن گاؤ گے تو وہ سوچیں گی کہ طنز کر رہے ہو۔ بیگم کے حسن کی مدح سرائی سے میں دستبردار ہوا۔ بہت دیر تک بھی کچھ بہتر سجھائی نہ دیا تو میں نے شعر کے اطراف ’آئی لَوْ یو‘ لکھ کر حصار باندھا۔ یہ کام بہت آسانی سے ہو گیا لیکن قرار نہ آیا۔ آئی لَوْ یُو کے علاوہ بھی کچھ ہونا چاہیے۔ بہت غور کیا۔ کوئی ڈھنگ کی بات نہ سوجھی۔ پھر خیال آیا کہ اپنی محبت کا اظہار دوسری زبانوں میں بھی کرنا چاہیے۔ انٹرنیٹ پر اس موقع یعنی ’عیدِ عشّاق‘ کے لیے ’آئی لویو‘ کا مختلف زبانوں میں ترجمہ فراہم کیا گیا تھا کہ معلوم نہیں معشوق کون سی زبان جاننے والا ہو گا۔ میں نے ’میں تم سے محبت کرتا ہوں ‘ کو چند مختلف زبانوں میں کارڈ پر نقل کیا۔ اب کارڈ بھر چکا تھا۔ آخر میں جلی حروف میں اپنا نام لکھ کر میں نے اس اکتا دینے والے کام سے نجات پائی۔ کارڈ کو معطر کیا اور معطر کارڈ کو لفافے میں ڈال کر لفافہ اچھی طرح بند کیا۔ اب کارڈ کو مکتوب الیہ یعنی بیگم تک پہنچانا تھا۔ خیال آیا کہ گل دستہ اور چاکلیٹ کے ڈبے کے ساتھ میں خود بیگم کی خدمت میں کارڈ پیش کروں۔ ایسا کرنے میں دو عدد خدشات لاحق تھے۔ پھول خریدنے کو بیگم فضول خرچ قرار دیں گی اور چاکلیٹ کے ڈبے کو دیکھ کر بد پرہیزی کا الزام دھریں گی کہ ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے باوجود چاکلیٹ خریدے گئے اور دونوں صورتوں میں بیگم ڈانٹیں گی ضرور! میں نے گل دستہ اور چاکلیٹ کے ساتھ کارڈ دینے کا خیال ترک کیا اور صرف کارڈ دینے کا ارادہ کیا لیکن نہ جانے کیوں کارڈ دینے کے خیال سے ہی دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ شاید اس لیے کہ میں یہ کام زندگی میں پہلی مرتبہ کرنے جا رہا تھا یا پھر دوستوں کے مطابق میں بیگم سے ڈرتا ہوں۔ دوست غلط کہتے ہیں۔ بھلا عید کی مبارک باد اور آئی لَوْ یو لکھا ہوا کارڈ دینے میں ڈر کیسا؟ یہ میری دوسری شادی کا کارڈ تو ہے نہیں کہ بیگم اسے دیکھ کر پھٹ پڑیں گی۔ اس طرح اپنے آپ کو ڈھارس دینے کے باوجود ذاتی طور پر کارڈ دینے کی ہمت نہ ہوئی تو میں نے محکمۂ ڈاک کو تکلیف دی۔ لفافے پر احتیاطاً ضرورت سے زیادہ ڈاک ٹکٹ چپکائے کہ کارڈ کے سفر میں کوئی مشکل پیش نہ آئے اور کارڈ کا سفر آسان ہو جائے۔ جلی حروف میں بیگم کا نام اور اپنے گھر کا پتا کمپیوٹر سے کمپوز کر کے چسپاں کیا کہ ڈاکیے کو پڑھنے میں آسانی ہو۔ کارڈ کو ڈاک کے حوالے کرتے ہوئے دعا کی ’خدایا، کارڈ کو اپنی منزل تک وقت پر اور خیریت سے پہنچا دے۔ ‘کہیں ایسا نہ ہو کہ کارڈ کئی برسوں بعد اس وقت پہنچے جب ہم دونوں میں سے کوئی بقیدِ حیات نہ ہو۔ تب ہمارے بچے یا بچوں کے بچے کارڈ وصول کر کے ہمیں یاد کریں اور یہ بات خبر بن کر اخباروں میں چھپے ! کارڈ کو ڈاک کے حوالے کرنے کے بعد میں بے چینی سے انتظار کرنے لگا کہ دیکھوں کارڈ کیا گل کھلاتا ہے۔ میں نے سوچا کہ بیگم کارڈ پا کر خوشی سے پھولے نہیں سمائیں گی۔ وہ ممنون اور شکرگزار نگاہوں سے مجھے دیکھیں گی اور پھر نظریں جھکائے مجھے ’عیدِ عشّاق ‘ کی مبارک باد پیش کریں گی۔ شاید گھٹی گھٹی آواز میں ’آئی لَوْ یو۔ ۔ ۔ ٹو‘ کہیں اور شرما کر میری نگاہوں سے اوجھل ہو جائیں۔ میں کمرہ کمرہ ڈھونڈوں اور انھیں کچن میں میرے لیے چائے بناتا پاؤں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کارڈ کو مجھ سے چھپا کر رکھیں اور خود بھی سرپرائز دینے کے لیے میرے نام ایک جوابی کارڈ پوسٹ کریں۔ اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو انتظار بہت طویل ہو جائے گا اور میں کارڈ ملنے پر بیگم کو خوش ہوتے ہوئے دیکھ نہ سکوں گا۔ اس طرح کے کسی بھی غیر متوقع واقعہ سے بچنے کے لیے میں نے دفتر سے دو دن کی چھٹی لی اور گھر پر کارڈ کی آمد کے باعث ہونے والے ہنگامے کا انتظار کرنے لگا۔ میں نے کارڈ ملنے کے بعد کا پروگرام بھی بنایا۔ بچوں کو گھر پر رکھ کر صرف ہم دونوں لانگ ڈرائیو پر جائیں گے اور اکٹھے باہر ڈنر اُڑائیں گے۔ اس طرح دو چار گھنٹے ساتھ گزارنے کے بعد پھر بچوں سے آ ملیں گے۔ عاشقوں کی عید کا دن آ پہنچا۔ میں بے چینی سے ڈاکیہ کا انتظار کرنے لگا۔ دوپہر کے قریب انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور ڈاکیہ لفافہ لے آیا۔ میں چھپ کر بیگم کو کارڈ وصول کرتے ہوئے دیکھنے لگا۔ بیگم نے لفافہ ہاتھوں میں لیا۔ کچھ حیران اور کچھ پریشان ہوئیں۔ لفافے کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ کچھ بڑبڑائیں اور پھر لفافے کا تفصیل سے جائزہ لینے لگیں۔ بند لفافے کے اندر جھانکنے کی ناکام کوشش کی۔ چہرے پر فکر مندی کے آثار نمایاں ہوئے۔ کچھ دیر یوں ہی لفافے کو ہاتھ میں اٹھائے سوچا اور لفافہ کھولا اور ڈرتے ڈرتے کارڈ باہر نکالا۔ کارڈ کھولتے ہی موسیقی بجنے لگی۔ بیگم گھبرا گئیں۔ ہاتھوں سے کارڈ چھوٹ کر زمین پر گر پڑا۔ چند لمحے بیگم گم صم رہیں۔ پھر انھوں نے اپنے آپ کو سنبھالا۔ فرش سے کارڈ اٹھا کر پڑھنے لگیں۔ چہرے پر خوشی اور شرم و حیا کا رنگ چھانے کے بجائے غصّہ کی سرخی ابھرنے لگی اور پھر غصّہ سے ’ لال پیلی‘ ہوتے ہوئے انھوں نے فرمایا۔ ’لفنگا۔ ۔ ۔ لُچا۔ ۔ ۔ بدمعاش۔ ۔ ۔ ‘ غیر متوقع اختتام جسے ’اینٹی کلائمکس‘ کہتے ہیں، دیکھ کر میں الجھن میں پڑ گیا۔ بہت سوچا کہ کیا بات ہو گئی۔ کچھ پلے نہ پڑا تو میں نے بیگم سے پوچھا۔ ’کیا بات ہے؟‘ بیگم نے کارڈ میری جانب بڑھاتے ہوئے جواب دیا۔ ’کسی بدمعاش اور آوارہ شخص نے یہ کارڈ بھیجا ہے۔ ‘ ’کیا مطلب، کون بدمعاش۔ کون آوارہ۔ ‘ میں نے کارڈ کو ہاتھ نہ لگاتے ہوئے استفسار کیا۔ ’کسی نے آپ کے نام سے مجھے محبت بھرا کارڈ بھیجا ہے۔ معلوم کرنا پڑے گا کہ کس نے ایسی اوچھی حرکت کی ہے؟‘ بیگم نے وضاحت کی۔ ’آپ ایسا کیوں سوچتی ہیں، ہو سکتا ہے کہ کارڈ میں نے ہی بھیجا ہو۔ ‘ میں نے حقیقت کی جانب اشارہ کیا۔ ’نہیں۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ یہ حرکت کسی پاکھنڈی نے کی ہے۔ ‘ بیگم نے مجھے ایک نئے خطاب سے نوازا۔ ’بھلا میں آپ کو کارڈ کیوں نہیں بھیج سکتا؟‘ ’ اس لیے کہ آپ نے ایسا پہلے کبھی نہیں کیا۔ یہ ایک آسان جواب ہے۔ اس کے علاوہ کارڈ کلچر ہمارے یہاں رائج نہیں ہے۔ میں آپ کو اچھی طرح سے جانتی ہوں۔ آپ نمائش اور نمود کے حامی نہیں ہیں۔ آپ نے کبھی اپنی زبان سے اقرار نہیں کیا، جو اس کارڈ میں لکھا ہے۔ ڈھنگ سے دو گھڑی بیٹھ کر مجھ سے بات کرنے کی توفیق آپ کو کبھی ہوئی نہیں۔ آپ بھلا کارڈ کیا لکھیں گے۔ اور پھر آپ مجھ سے دور کہاں رہتے ہیں۔ روز ہی آمنا سامنا رہتا ہے۔ کارڈ بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔ کارڈ دینا ہی تھا تو ہاتھ میں تھما دیتے، جیسے دفتر سے آتے ہی ٹفن کا ڈبّہ مجھے پکڑا دیتے ہیں۔ ‘ بیگم نے اپنی دانست میں میرے کارڈ نہ بھیجنے کی وجوہات گنائیں۔ میرے جذبات کا خون تو ہوہی چکا تھا۔ کچھ دیر سوچتا رہا کہ معاملے کو کیسے رفع دفع کروں۔ کچھ نہ سوجھا تو میں نے پوچھا۔ ’ کارڈ میں کیا لکھا ہے؟‘ ’خود دیکھ لیجیے۔ ‘ بیگم نے پھر کارڈ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’ایک فلمی گانے کے بول لکھ کر کسی بے حیا چھوکرے کی طرح آئی لَوْیو کا وظیفہ پڑھا ہے۔ ‘ میں نے اس بار بھی کارڈ کو ہاتھ نہ لگایا اور عرض کیا۔ ’مجھے کبھی اپنی محبت کا اعتراف کرنے کا موقع نہیں ملا۔ شاید اسی لیے میں نے یہ تحریری بیان دیا ہے کہ سند رہے اور وقتِ ضرورت کام آئے۔ ‘ ’اس کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے اور آپ کو پتا ہے اور ہمیں ایک دوسرے پر بھروسا ہے۔ یوں ہی بیس سال نہیں بیت گئے۔ اگر ہمیں یہ پتا نہ ہوتا تو بیس دن بھی گزارہ مشکل تھا۔ ‘ بیگم میرے عذر کو رد کرتے ہوئے بولیں۔ کچھ دیر خاموش رہ کر بیگم نے سوال کیا۔ ’آپ بتائیے، آپ کا کون سا دوست اس قسم کا مذاق کر سکتا ہے؟‘ بیگم میرے جواب کا انتظار کیے بغیر خود ہی میرے دوستوں کا محاسبہ کرنے لگیں۔ ایسی حرکت عاطف صاحب کر نہیں سکتے۔ مجھے پتا ہے، وہ بہت شریف انسان ہیں۔ خان صاحب سے اس قسم کی حرکت کی امید کی جا سکتی ہے لیکن وہ ڈرتے بہت ہیں۔ کوئی ان کا ساتھ دے تو وہ ایسا مذاق کر سکتے ہیں۔ ہو نہ ہو شریف صاحب نے یہ کارڈ بھیجا ہو گا۔ وہ بہت ماڈرن اور روشن خیال بنے پھرتے ہیں۔ آپ کے ان دوست پر بھی شک کیا جا سکتا ہے جن کا بھلا سا نام ہے لیکن بھونڈے مذاق کرتے رہتے ہیں۔ پچھلی ملاقات میں کہہ رہے تھے کہ بھابی آپ اپنے شوہر پر نظر رکھیں اور اس کی جاسوسی کرائیں، وہ اوور ٹائم کرنے لگا ہے۔ ‘ اپنے دوستوں کا امیج خراب ہوتا دیکھ کر میں نے سنجیدگی سے کہا۔ ’بیگم۔ یہ کارڈ میں نے ہی بھیجا ہے۔ ‘ ’آپ نے !‘ بیگم نے تعجب سے کہا۔ ’نہیں۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ آپ اپنے دوستوں کو بچانے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ ‘ ’یقین کرو۔ میں نے ہی یہ حرکت کی ہے۔ ‘میں نے اقبالِ جرم کرنے کے ساتھ ثبوت پیش کیا۔ ’غور سے دیکھیے تو آپ میری ہینڈ رائٹنگ پہچان پائیں گی۔ ‘ بیگم چشمہ لگا کر کارڈ کو نظروں کے قریب کر کے دیکھنے لگیں تو میں نے ندامت سے کہا۔ ’میں ہی وہ لُچا، لفنگا، بدمعاش، آوارہ اور بے حیا شخص ہوں جس نے آپ کو کارڈ بھیجا ہے۔ ‘ ’۔ ۔ ۔ لیکن۔ ۔ ۔ آپ نے۔ ۔ ۔ مجھے کارڈ کیوں بھیجا؟ ‘ بیگم نے حیرانی اور بے یقینی کی کیفیت میں دریافت کیا۔ ’ہرسال چودہ فروری کو عاشقوں کی عید منائی جاتی ہے۔ اس دن عاشق اور چاہنے والے ایک دوسرے کو کارڈ بھیجتے ہیں، تحفے دیتے ہیں، پھول پیش کرتے ہیں، چاکلیٹ کھلاتے ہیں۔ سو میں نے بھی آپ کو یہ کارڈ روانہ کیا تھا۔ ‘ میں نے بیگم کو’ ویلنٹائن ڈے ‘ کے بارے میں بتایا۔ ’عاشقوں کی عید! ویلنٹائن ڈے !!بھلا یہ بھی کوئی عید ہوئی۔ میں نے پہلے کبھی ایسی کسی عید کے بارے میں نہیں سنا۔ ‘ بیگم کی حیرانی برقرار رہی۔ ’میں نے بھی پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ پچھلے سال دوسال سے ٹیلی ویژن اور انٹر نیٹ پر ویلنٹائن ڈے کے بارے میں سنتا اور دیکھتا آ رہا ہوں۔ آپ کو معلوم ہے، فروری کے مہینے کو رومانی مہینہ کہتے ہیں اور شاید اسی لیے اس مہینے کے دن سب مہینوں سے کم ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر یہ بھی بتایا گیا کہ اس دن، نئے سال کے بعد سب سے زیادہ کارڈ بیچے اور بھیجے جاتے ہیں اور۔ ۔ ۔ ‘ میں معلومات کا خزانہ لٹا رہا تھا کہ بیگم نے بات مکمل کرنے نہیں دی اور تیوریاں چڑھا کر میرا جملہ مکمل کیا’۔ ۔ ۔ اور میں ٹیلی ویژن دیکھ کر بگڑ گیا اور خود بھی کارڈ بھیجنا شروع کر دیا!‘ صورتِ حال کی نزاکت کے پیش نظر میں خاموش رہا، کیا جواب دیتا۔ بیگم نے طیش میں آ کر کارڈ کے پرزے پرزے کر دیے اور آنکھیں نکال کر اونچی آواز میں پوچھا۔ ’عاشق صاحب، آپ نے اور کس کس کو عاشقوں کی عید کی مبارک باد بھیجی ہے؟‘ اب یہ بتانا غیر ضروری ہے کہ میں بغلیں جھانکتے ہوئے اس گھڑی کو کوس رہا تھا، جب میں نے ویلنٹائن ڈے کارڈ بیگم کو بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ٭ ٭ ٭
  5. 1 point
    اچھی آنکھوں کے پجاری ہیں میرے شہر کے لوگ توں مرے شہر میں آئے گا تو چھا جائے گا ھم قیامت بھی اُٹھائیں گے تو ھوگا نہیں کچھ تُو فقط آنکھ اُٹھائے گا تو چھا جائے گا پھُول تو پھُول ھیں ، وہ شخص اگر کانٹے بھی اپنے بالوں میں سجائے گا تو چھا جائے گا یُوں تو ھر رنگ ھی سجتا ھے برابر تجھ پر سُرخ پوشاک میں آئے گا تو چھا جائے گا پنکھڑی ھونٹ ، مدھر لہجہ اور آواز اُداس یار ! تُو شعر سُنائے گا تو چھا جائے گا جس مصور کی نہیں بِکتی کوئی بھی تصویر تیری تصویر بنائے گا تو چھا جائے گا جبر والوں کی حکومت ھے فقط چند ہی روز صبر میدان میں آئے گا تو چھا جائے گا
  6. 1 point
    کبھی اس طرح میرے ہمسفر سبھی چاہتیں میرے نام کر اگر ہو سکے تو کبھی کہیں میرے نام بھی کوئی شام کر میرے دل کے ساۓ میں آ ذرا میری دھڑکنوں میں قیام کر یہ جو میرے لفطوں کے پُھول ہیں تیرے رستے کی یہ دُھول ہیں کبھی ان سے سن میری داستاں کبھی ان کے ساتھ کلام کر
  7. 1 point
  8. 1 point
  9. 1 point
    کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہا کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہا خلوص تو ہے مگر اعتبار جاتا رہا کسی کی آنکھ میں مستی تو آج بھی ہے وہی مگر کبھی جو ہمیں تھا خمار جاتا رہا کبھی جو سینے میں اک آگ تھی وہ سرد ہوئی کبھی نگاہ میں جو تھا شرار جاتا رہا عجب سا چین تھا ہم کو کہ جب تھے ہم بے چین قرار آیا تو جیسے قرار جاتا رہا کبھی تو میری بھی سنوائی ہوگی محفل میں میں یہ امید لیے بار بار جاتا رہا
  10. 1 point
    خاموشی رات کی دیکتھا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں خاموشی رات کی دیکتھا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں مد ہوش اکثر ہوجاتا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں ہوش والوں میں جاتا ہوں تو الجھتی ہے طبعیت سو با ہوش پڑا رہتا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں تو من میں میرے آ جا میں تجھ میں سما جاؤں ادھورے خواب سمجھتا ہوں اورتجھے سوچتا ہوں جمانے لگتی ہیں جب لہو میرا فر خت کی ہوائیں تو شال قر بت کی اوڑھتا اور تجھے سوچتا ہوں
  11. 1 point
    جب سے تیری چھاپ لگی ہے مجھے جب سے تیری چھاپ لگی ہے مجھے ہر لحظہ آس سی لگی ہے مجھے کر دیگا سرشار اک روز تو مجھے کیوں یہ خوش گمانی سی رہتی ہے مجھے لوگ کہتے ہیں بڑا مغرور ہے میرا سجن پھر بھی میری تو سانس بندھی ہے ۴ سے بھلا کسی نے پتھر کو پگھلتے ہے دیکھا؟ نہ جانے کیوں مجھے پتھر سے آبشار نکالنے کی ضد سی چڑھی ہے؟ آآنکھیں بن گئی ہیں ساکت سی جھیلیں کچھ ایسے عکس کی اس کے شبیہ سی بنی ہے
  12. 1 point
    حسین سا چہرہ میری آنکھوں میں جو اک حسین سا چہرا ہے اس پہ گیسوے دراز کا پہرا ہے کل شب رخ انور سے نقاب جو ہٹایا تمام رات چاند اسے دیکھنے کو ٹھہرا ہے ہم شیش محل والوں سے کیونکر محبت کر بیتھے یہ جانتے ہوئے بھی، کہ قسمت میں چادر صحرا ہے قسمت نے ہمیں، تیری جھولی میں ڈال دیا ناصر چلو اب دیکھتے ہیں، کیا سلوک تیرا ہے
  13. 1 point
    سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری یادوں کی خوشبو کھڑکیوں میں رقص کرتی ہے ترے غم میں سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں نہ جانے ہو گیا ہوں اس قدر حساس میں کب سے کسی سے بات کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں میں سارا دن بہت مصروف رہتا ہوں مگر جونہی قدم چوکھٹ پہ رکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہر اک مفلس کے ماتھے پر الم کی داستانیں ہیں کوئی چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں بڑے لوگوں کے اونچے بدنما اور سرد محلوں کو غریب آنکھوں سے تکتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ترے کوچے سے اب میرا تعلق واجبی سا ہے مگر جب بھی گزرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے مرے دل پر وصیؔ میں جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
  14. 1 point
    کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا تُو بڑے پیار سے بڑے چاوْ سے بڑے مان کے ساتھ اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو اور بےتابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میں تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو میں تیرے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا جب کبھی موڈ میں آ کر مجھے چوما کرتی تیرے ہونٹوں کی حدت سے دہک سا جاتا رات کو جب بھی تُو نیندوں کے سفر پر جاتی مَرمَریں ہاتھ کا اک تکیہ بنایا کرتی میں ترے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتا تیری زلفوں کو تیرے گال کو چوما کرتا جب بھی تو بند قبا کھولنے لگتی جاناں کاپنی آنکھوں کو ترے حُسن سے خیرہ کرتا مجھ کو بےتاب سا رکھتا تیری چاہت کا نشہ میں تری روح کے گلشن میں مہکتا رہتا میں ترے جسم کے آنگن میں کھنکتا رہتا کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا وصی شاہ
  15. 1 point
    اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا تم جہاں میرے لئے سیپیاں چنتی ہوگی وہ کسی اور ہی دنیا کا کنارہ ہوگا زندگی! اب کے مرا نام نہ شامل کرنا گر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہوگا جس کے ہونے سے میری سانس چلا کرتی تھی کس طرح اس کے بغیر اپنا گزارا ہوگا یہ اچانک جو اجالا سا ہوا جاتا ہے دل نے چپکے سے ترا نام پکارا ہوگا عشق کرنا ہے تو دن رات اسے سوچنا ہے اور کچھ ذہن میں آیا تو خسارہ ہوگا یہ جو پانی میں چلا آیا سنہری سا غرور اس نے دریا میں کہیں پاؤں اُتارا ہوگا کون روتا ہے یہاں رات کے سناتوں میں میرے جیسا ہی کوئی ہجر کا مارا ہوگا مجھ کو معلوم ہے جونہی میں قدم رکھوں گا زندگی تیرا کوئی اور کنارہ ہوگا جو میری روح میں بادل سے گرجتے ہیں وصی اس نے سینے میں کوئی درد اتارا ہوگا کام مشکل ہے مگر جیت ہی لوں گا اس کو میرے مولا کا وصی جونہی اشارہ ہوگا
  16. 0 points
    آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر پھوٹ کر رونے لگے ہیں ، میں محبت اور تم ہم نے جونہی کر لیا محسوس منزل ہے قریب راستے کھونے لگے ہیں میں ، محبت اور تم چاند کی کرنوں نے ہم کو اس طرح بوسہ دیا دیوتا ہونے لگے ہیں میں ، محبت اور تم آج پھر محرومیوں کی داستانیں اوڑھ کر خاک میں سونے لگے ہیں میں ،محبت اور تم کھو گئے انداز بھی ، آواز بھی، الفاظ بھی خامشی ڈھونے لگے ہیں میں ، محبت اور تم
×
×
  • Create New...