Jump to content

Chintaman2004

Members
  • Content Count

    18
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

Chintaman2004 last won the day on June 21

Chintaman2004 had the most liked content!

Community Reputation

7 Neutral

About Chintaman2004

  • Rank
    Member

Personal Information

  • Education Level
    B.Com.

Converted

  • Yahoo! Messenger
    sir_hassan2002

Recent Profile Visitors

169 profile views
  1. ہم وہ سیاہ نصیب ہیں طارق کہ شہر میں کھولیں دکان کفن کی تو لوگ مرنا چھوڑ دیں
  2. محبت کے سفر میں کوئی بھی رستا نہیں دیتا زمیں واقف نہیں بنتی فلک سایا نہیں دیتا خوشی اور دکھ کے موسم سب کے اپنے اپنے ہوتے ہیں کسی کو اپنے حصے کا کوئی لمحہ نہیں دیتا نہ جانے کون ہوتے ہیں جو بازو تھام لیتے ہیں مصیبت میں سہارا کوئی بھی اپنا نہیں دیتا اداسی جس کے دل میں ہو اسی کی نیند اڑتی ہے کسی کو اپنی آنکھوں سے کوئی سپنا نہیں دیتا اٹھانا خود ہی پڑتا ہے تھکا ٹوٹا بدن فخریؔ کہ جب تک سانس چلتی ہے کوئی کندھا نہیں دیتا زاہد فخری
  3. کب ضیا بار ترا چہرۂ زیبا ہوگا کیا جب آنکھیں نہ رہیں گی تو اجالا ہوگا مشغلہ اس نے عجب سونپ دیا ہے یارو عمر بھر سوچتے رہیے کہ وہ کیسا ہوگا جانے کس رنگ سے روٹھے گی طبیعت اس کی جانے کس ڈھنگ سے اب اس کو منانا ہوگا اس طرف شہر ادھر ڈوب رہا تھا سورج کون سیلاب کے منظر پہ نہ رویا ہوگا یہی انداز تجارت ہے تو کل کا تاجر برف کے باٹ لیے دھوپ میں بیٹھا ہوگا دیکھنا حال ذرا ریت کی دیواروں کا جب چلی تیز ہوا ایک تماشا ہوگا آستینوں کی چمک نے ہمیں مارا انورؔ ہم تو خنجر کو بھی سمجھے ید بیضا ہوگا
  4. جو وہ مرے نہ رہے میں بھی کب کسی کا رہا بچھڑ کے ان سے سلیقہ نہ زندگی کا رہا لبوں سے اڑ گیا جگنو کی طرح نام اس کا سہارا اب مرے گھر میں نہ روشنی کا رہا گزرنے کو تو ہزاروں ہی قافلے گزرے زمیں پہ نقش قدم بس کسی کسی کا رہا
  5. شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا کوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگا پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھا جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا بانیٔ جشن بہاراں نے یہ سوچا بھی نہیں کس نے کانٹوں کو لہو اپنا پلایا ہوگا بجلی کے تار پہ بیٹھا ہوا ہنستا پنچھی سوچتا ہے کہ وہ جنگل تو پرایا ہوگا اپنے جنگل سے جو گھبرا کے اڑے تھے پیاسے ہر سراب ان کو سمندر نظر آیا ہوگا
  6. تم اتنا جو مسکرا رہے ہو کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو آنکھوں میں نمی ہنسی لبوں پر کیا حال ہے کیا دکھا رہے ہو بن جائیں گے زہر پیتے پیتے یہ اشک جو پیتے جا رہے ہو جن زخموں کو وقت بھر چلا ہے تم کیوں انہیں چھیڑے جا رہے ہو ریکھاؤں کا کھیل ہے مقدر ریکھاؤں سے مات کھا رہے ہو
  7. اس پر تمہارے پیار کا الزام بھی تو ہے اچھا سہی قتیلؔ پہ بدنام بھی تو ہے آنکھیں ہر اک حسین کی بے فیض تو نہیں کچھ ساگروں میں بادۂ گلفام بھی تو ہے پلکوں پہ اب نہیں ہے وہ پہلا سا بار غم رونے کے بعد کچھ ہمیں آرام بھی تو ہے آخر بری ہے کیا دل ناکام کی خلش ساتھ اس کے ایک لذت بے نام بھی تو ہے کر تو لیا ہے قصد عبادت کی رات کا رستے میں جھومتی ہوئی اک شام بھی تو ہے ہم جانتے ہیں جس کو کسی اور نام سے اک نام اس کا گردش ایام بھی تو ہے اے تشنہ کام شوق اسے آزما کے دیکھ وہ آنکھ صرف آنکھ نہیں جام بھی تو ہے منکر نہیں کوئی بھی وفا کا مگر قتیلؔ دنیا کے سامنے مرا انجام بھی تو ہے
  8. اسے منا کر غرور اس کا بڑھا نہ دینا وہ سامنے آئے بھی تو اس کو صدا نہ دینا خلوص کو جو خوشامدوں میں شمار کر لیں تم ایسے لوگوں کو تحفتاً بھی وفا نہ دینا وہ جس کی ٹھوکر میں ہو سنبھلنے کا درس شامل تم ایسے پتھر کو راستے سے ہٹا نہ دینا سزا گناہوں کی دینا اس کو ضرور لیکن وہ آدمی ہے تم اس کی عظمت گھٹا نہ دینا جہاں رفاقت ہو فتنہ پرداز مولوی کی بہشت ایسی کسی کو میرے خدا نہ دینا قتیلؔ مجھ کو یہی سکھایا مرے نبیؐ نے کہ فتح پا کر بھی دشمنوں کو سزا نہ دینا
  9. گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں بچ نکلتے ہیں اگر آتش سیال سے ہم شعلۂ عارض گلفام سے جل جاتے ہیں خود نمائی تو نہیں شیوۂ ارباب وفا جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں ربط باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیں گے دشمن آشنا جب ترے پیغام سے جل جاتے ہیں جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
  10. دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا صبح دم چھوڑ گیا نکہت گل کی صورت رات کو غنچۂ دل میں سمٹ آنے والا کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیا آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتنا ہے وہی مجھ کو سر دار بھی لانے والا میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
  11. گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا مدتوں کے بعد کوئی ہم سفر اچھا لگا دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں اس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا باغباں گلچیں کو چاہے جو کہے ہم کو تو پھول شاخ سے بڑھ کر کف دل دار پر اچھا لگا کوئی مقتل میں نہ پہنچا کون ظالم تھا جسے تیغ قاتل سے زیادہ اپنا سر اچھا لگا ہم بھی قائل ہیں وفا میں استواری کے مگر کوئی پوچھے کون کس کو عمر بھر اچھا لگا اپنی اپنی چاہتیں ہیں لوگ اب جو بھی کہیں اک پری پیکر کو اک آشفتہ سر اچھا لگا میرؔ کے مانند اکثر زیست کرتا تھا فرازؔ تھا تو وہ دیوانہ سا شاعر مگر اچھا لگا
  12. اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا لیکن شہر کی خاموشی بھی دھیان میں رکھنا میرے جھوٹ کو کھولو بھی اور تولو بھی تم لیکن اپنے سچ کو بھی میزان میں رکھنا کل تاریخ یقیناً خود کو دہرائے گی آج کے اک اک منظر کو پہچان میں رکھنا بزم میں یاروں کی شمشیر لہو میں تر ہے رزم میں لیکن تلوار کو میان میں رکھنا آج تو اے دل ترک تعلق پر تم خوش ہو کل کے پچھتاوے کو بھی امکان میں رکھنا اس دریا سے آگے ایک سمندر بھی ہے اور وہ بے ساحل ہے یہ بھی دھیان میں رکھنا اس موسم میں گل دانوں کی رسم کہاں ہے لوگو اب پھولوں کو آتش دان میں رکھنا
  13. مزاج ہم سے زیادہ جدا نہ تھا اس کا جب اپنے طور یہی تھے تو کیا گلہ اس کا وہ اپنے زعم میں تھا بے خبر رہا مجھ سے اسے گماں بھی نہیں میں نہیں رہا اس کا وہ برق رو تھا مگر وہ گیا کہاں جانے اب انتظار کریں گے شکستہ پا اس کا چلو یہ سیل بلا خیز ہی بنے اپنا سفینہ اس کا خدا اس کا ناخدا اس کا یہ اہل درد بھی کس کی دہائی دیتے ہیں وہ چپ بھی ہو تو زمانہ ہے ہم نوا اس کا ہمیں نے ترک تعلق میں پہل کی کہ فرازؔ وہ چاہتا تھا مگر حوصلہ نہ تھا اس کا
  14. اجنبی شہر کے اجنبی راستے میری تنہائی پر مسکراتے رہے میں بہت دیر تک یونہی چلتا رہا تم بہت دیر تک یاد آتے رہے زہر ملتا رہا زہر پیتے رہے روز مرتے رہے روز جیتےرہے زندگی بھی ہمیں آزماتی رہی اور ہم بھی اسے آزماتے رہے زخم جب بھی کوئی ذہن و دل پر لگا زندگی کی طرف اک دریچہ کھلا ہم بھی گویا کسی تار کے ساز تھے چوٹ کھاتے رہے گنگناتے رہے کل کچھ ایسا ہوا میں بہت تھک گیا اس لئے سن کے بھی ان سنی کر گیا پچھلی یادوں کے بیتے ہوئے کارواں دل کے زخموں کا در کھٹکھٹاتے رہے اجنبی شہر کے اجنبی راستے میری تنہائی پر مسکراتے رہے میں بہت دیر تک یونہی چلتا رہا تم بہت دیر تک یاد آتے رہے
  15. Suna Hai Log Usay Aankh Bhar Ke Dekhte Hain So Us Ke Shahar Mein Kuch Din Thehar Ke Dekhte Hain Suna Hai Rabt Hai Usko Kharaab Halon Se So Apne Aap Ko Barbaad Karke Dekhte Hain Suna Hai Dard Ki Ga-Hak Hai Chashm-E-Naaz Uski So Ham Bhi Uski Gali Se Guzar Kar Dekhte Hain Suna Hai Usko Bhi Hai Sheir-O-Shaeri Se Shaghaf So Ham Bhi Moajze Apne Hunar Ke Dekhte Hain Suna Hai Bole To Baton Se Phol Jharte Hain Yeh Baat Hai To Chalo Baat Kar Ke Dekhte Hain Suna Hai Raat Use Chaand Taktaa Rehta Hai Sitare Baam-E-Falak Se Utar Kar Dekhte Hain Suna Hai Din Ko Use Titliyaan Satati Hain Suna Hai Raat Ko Jugnu Thehr Ke Dekhte Hain Suna Hai Hashr Hain Uski Ghazal Si Aankhein Suna Hai Usko Hiran Dasht Bhar Ke Dekhte Hain Suna Hai Uski Siyah Chashmagi Qayamat Hai So Usko Surma Farosh Aankh Bhar Ke Dekhte Hain Suna Hai Uske Labon Se Gulab Jalte Hain So Ham Bahaarh Pe Ilzaam Dhar Ke Dekhte Hain Suna Hai Aaeinaa Tamasil Hai Jabin Uski Jo Saadaa Dil Hai Use Ban-Sanwar Ke Dekhte Hain Suna Hai Uske Badan Ke Taraash Aise Hain Ke Phol Apni Qabaaein Katar Ke Dekhte Hain Suna Hai Uski Shabistaan Se Mut-Tasil Hai Bahisht Makeen Udhar Ke Bhi Jalve Idhar Ke Dekhte Hain Ruke Toh Gardishein Uska Tawaaf Karti Hain Chale To Usko Zamaane Thehr Ke Dekhte Hain Kahaniyan He Sahi Sab Mubalghe He Sahi Agar Woh Khawab Hai Tou Taabir Kar Ke Dekhte Hain Ab Usake Shehar Mein Thehrein Ke Koch Kar Jaein "Faraz" Aao Sitare Safar Ke Dekhte Hain
×
×
  • Create New...