Jump to content

lady2000

Members
  • Content Count

    26
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

2 Neutral

About lady2000

  • Rank
    Active member
  1. Yeh Ishq e Mohabbat Ki Riwayat Bhi Ajeeb Hai, Paaya Nahi Hai Jisko Ussey Khona Bhi Nahi Chahte
  2. پہلے دوستی، پھر محبت، اور پھر بلاوجہ نفرت بڑی ترتیب سے ایک شخص نے تباہ کیا مجھے
  3. اے دوست محبت کے صدمے تنہا ہی اٹھانے پڑتے ہیں رہبر تو فقط اس رستے میں دو گام سہارا دیتے ہیں
  4. میں محبت کرتا ہوں تو ٹوٹ کے کرتا ہوں یہ کام مجھے ضرورت کے متابق نہیں آتا
  5. اُس کو پانے کا کہاں سوچا تھا اچھا لگتا تھا سو محبت کرلی
  6. کوئی زندگی کی آزمائشوں سے گزرا کوئی عشق کا روگ لگا بیٹھا کوئی قلم سے درد لکھنے لگا کوئی شاعر خود کو بنا بیٹھا عظیم حیدر
  7. احمقانہ ہے درد بیاں کرنا عقلمندی ہے ضبط کی انتہا کرنا
  8. lady2000

    فیصلہ

    فیصلہ ماریہ نورین وہ ایک چھوٹا سا بچہ تھا۔ اس نے اسی معاشرے میں آنکھ کھولی تھی۔ جس میں رہنے والوں کی خواہشات کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ اس کی بھی چند معصوم سی خواہشات تھیں۔ سکول کا اچھا سا بستہ کتابیں ٹافیاں کھلونے اور اسی طرح کی چند دوسری چیزیں جو وہ اپنے ہم عمر بچوں کے ہاتھوں میں دیکھتا تھا۔ وہ کون تھا؟ یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ خود بھی نہیں۔ اس کا کیا نام تھا؟ معاشرے میں اسے لوگ ننھا کہہ کر پکارتے تھے ننھے کی ایک چھوٹی سی دنیا تھی جس میں وہ اٹھتا بیٹھتا تھا۔ کام کرتا اور سو جاتا تھا۔ یہ دنیا ایک چھوٹی سی دکان اور دو کمروں پر مشتمل تھی۔ جس میں وہ کام کرتا اور سوتا تھا یہ دکان اور گھر اس کے استاد کا تھا۔ ا سے ارد گرد کے ماحول سے کوئی سروکار نہ تھا۔ لیکن پھر ایک د ن ایسا بھی آیا کہ جب اس کی دنیا میں انقلاب آ گا۔ ادھر بیٹھ ذرا یہ ادھر سے کھول۔ استاد کے احکامات پر وہ اس طرح عمل کرتا جیسے وہ کوئی مشین ہو۔ استاد ہی تھا جو اس کا سب کچھ تھا۔ وہ اسے باپ کی طرح سمجھتا تھا۔ اور استاد نے بھی اسے بیٹوں کی طرح پالا تھا۔ لیکن کام کے معاملے میں وہ ذرا رعایت نہیں کرتا تھا۔ یہ کیا کر رہے ہو؟ ادھر سے کھولو۔ استاد کی آواز پر وہ چونکا ورنہ وہ تو کسی اور ہی دنیا میں پہنچا ہو ا تھا۔ وہ جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگا۔ لیکن پھر بھی اس کا ہاتھ ٹھیک طرح نہیں چل رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے ذہن میں ایک کار کے مالک کے الفاظ گونج رہے تھے۔ استاد تمہیں شرم نہیں آتی اتنے معصوم بچے سے کام لیتے ہو۔ یہ تو اس کے کھیلنے کودنے کے دن ہیں۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں جناب لیکن ا س مہنگائی کے دور میں ہم غریب لو گ کیا کریں ؟ تعلیم اس قدر مہنگی ہے کہ اس کی کتابوں یونیفارم اور سکول کی فیس کا خرچ کون نکالے۔ ویسے بھی اس نے ایک دن پڑھ لکھ کر مکینک ہی بننا ہے۔ یہ تمہارا بچہ نہیں ہے نا اس لے تم اس کے ساتھ زیادتی کر رہے ہو۔ اس کے بعد کیا باتیں ہوئیں اسے کچھ یاد نہیں تھا۔ بس یہ آخری جملہ تیر کی طرح اس کے ذہن میں چبھ گیا تھا اور بار بار یہی جملہ گونج رہا تھا۔ لگتا ہے آج کام میں دل نہیں لگ رہا ہے تمہارا استاد کا لہجہ سخت تھا۔ نہیں تو… نہیں تو ایسی کوئی بات نہیں۔ بس صبح سے سر میں درد ہے۔ اس نے بہانہ کیا۔ اچھا! پہلے کیوں نہیں بتایا۔ جا اندر جا کا دراز میں رکھی شیشی سے ای گولی کھا لے اور ہاں … گولی کھ ا کر آرام کرنا استاد کا لہجہ نرم ہو گیا تھا۔ لگتا ہے بیچارا رات بھر کام کرنے کی وجہ سے تھک گیا ہے رات دیر سے جو سویا تھا۔ استادنے بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا لیکن ننھے نے جاتے جاتے بھی یہ الفاظ سن لیے۔ استاد میرا خیال کرتا ہے لیکن میں اس کا کیا لگتا ہوں ؟ وہ میرا کیوں خیال کرنے لگا۔ اسے تو بس اپنے کام سے غرض ہے ڈرتا ہے میں بیمار پڑ گیا تو اس کا اتنا کام کون کرے گا؟ اس نے دل میں سوچتے ہوئے اپنے آپ سے خود کلامی کی پھر یہی باتیں سوچتے سوچتے وہ سو گیا۔ جب بیدار ہوا تو اس کے کا ن میں وہ مانوس آواز سن رہے تھے جو کل اس نے سنے تھے اگر تم کہو تو میں اس کی تعلیم کا خرچ اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔ میرا اپنا سکول ہے اسے کسی قسم کا مسئلہ نہیں رہے گا۔ وہ تو ٹھیک ہے … استاد کی آواز میں لڑکھڑاہٹ تھی۔ لیکن ویکن چھوڑو۔ میری بات مان لو۔ میں تمہیں سوچنے کا موقع دیتا ہوں۔ اگر تمہیں ننھے سے ذرا بھی محبت ہے تو اس سے یہ کام مت لو۔ یہ بچوں کے حقوق کے منافی ہے۔ اس کے بعد آوازیں آنا بند ہو گئیں۔ شاید وہ چال گیا تھا۔ ننھا فوراً اٹھا اور پھر کام میں جٹ گیا لیکن اب وہ دیکھ رہا تھا کہ استاد کچھ کچھ پریشان ہے اور کن اکھیوں سے بار بار اس کی طرف دیکھتا۔ آخر کار جب رات ہوئی اور دونوں کھانا کھانے بیٹھے تو استاد نے ننھے کی طرف دیکھ کر کہا ننھے تمہیں پتا ہے کہ آج وہی لال گاڑی والے سیٹھ آئے تھے جنہوں نے تمہیں پڑھنے کے لیے کتاب دی تھی۔ ہاں ہاں وہی جو مجھے پڑھنے کا کہ رہے تھے۔ ننھا دل ہی دل میں خوش ہو کر بولا۔ آج کیا کہہ رہے تھے وہ؟ اس نے انجان بن کر پوچھا۔ کہتے تھے کہ تمہیں ان کے سکول میں داخل کرا دوں وہ تمہاری تعلیم کا خرچ اٹھانے کے لیے تیار ہیں لیکن ان کی ایک شرط ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ تم سے ورکشاپ میں کام نہ لوں وہ تمہیں اپنے پاس رکھ لیں گے سکول کے کام کاج وہ تم سے لیں گے۔ استاد تم نے کیا کہا؟ ننھا جھٹ بول پڑا۔ میں تو بس تمہارے جواب کا منتظر ہوں۔ یہ فیصلہ تمہیں خود کرنا ہے کہ اپنے استاد کے پاس رہنا ہے یا ماسٹر صاحب کے پاس۔ وہ یہ سن کر بہت خوش ہو ا لیکن جب استاد کو چھوڑنے کی بات آئی تو اس کے دل میں عجب سی کشمکش شروع ہو گئی۔ وہ کچھ نہ بول سکا۔ لیکن استاد یہ کہہ کر کھانا چھوڑ کر اٹھ گیا کہ اس نے صاف محسوس کیا کہ استاد آنکھوں میں آنے والے آنسوؤں کو چھپانا چاہتا ہے۔ ایک طرف اس کا استاد تھا اور دوسری طرف ماسٹر صاحب اب اس کی آرزوئیں اور خواہشات پوری ہونے کا وقت آ گیا تھا۔ لیکن اس کے دل میں عجیب سی کسک تھی۔ آخر مجھے کیا ہو گیا ہے ؟ اس نے سوچا مجھے کیا پڑی ہے محنت مشقت کرنے کی۔ ان تمام تسلی دینے والی باتوں کے باوجود وہ اپنے دل کو تسلی نہ دے سکا۔ اب اسے انداز ہو رہا تھا کہ اس کے استاد کا اس سے کیا رشتہ ہے ؟ استاد اس نے بھرائی ہوئی آواز میں استاد کو مخاطب کیا میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ مجھے ایسی تعلیم نہیں چاہیے جو مجھے اپنوں سے بیگانہ کر دے۔ مجھے وہ تعلیم چاہے جو تم مجھے دیتے ہو یہ کہہ کر وہ بے اختیار استاد ک گلے لگ گیا۔ دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ نہیں ننھے ایسا نہیں ہو گا۔ تم سکول میں پڑھو گے۔ میں نے سوچ لیا ہے۔ میں نے یہ فیصلہ بہت پہلے ہی کر لیا تھا لیکن میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم کس کا ساتھ دیتے ہو؟ استادنے ننھے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ہکا۔ لیکن استاد… اس نے خوش ہو کر کہا۔ لیکن اب میری ایک شرط ہے ؟ اس نے کہا۔ وہ کیا؟ استاد نے حیران ہو کر پوچھا۔ استاد میں شام کو تمہارے ساتھ کام کروں گا۔ ننھے نے معصومیت سے کہا تو استاد نے خوشی سے اسے پھر گلے سے لگا لیا ہاں ہاں !! کیوں نہیں ننھے ؟ ٭٭٭
  9. رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا اور کیا دیکھنے کو باقی ہے آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا آس اُس در سے ٹوٹتی ہی نہیں جا کے دیکھا ، نہ جا کے دیکھ لیا وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا آج اُن کی نظر میں کچھ ہم نے سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا فیض تکمیلِ غم بھی ہو نہ سکی عشق کو آزما کے دیکھ لیا
  10. وہ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﻢ ﻧﻮﺍﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ ﺭﮨﺎ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﯽ ﮔﺰﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺷﮑﺴﺘﮧ ﺩﻝ ﺗﮭﮯ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺷﮑﺴﺘﮧ ﭘﺎﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﻋﺪﺍﻭﺗﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ، ﺗﻐﺎﻓﻞ ﺗﮭﺎ، ﺭﻧﺠﺸﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺑﭽﮭﮍﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﮭﺎ ، ﺑﮯ ﻭﻓﺎﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﺑﭽﮭﮍﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻏﺰﻝ ﻏﺰﻝ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﺴﮯ ﭘﮑﺎﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﮈﻭﺑﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺩﻥ صدﺍ ﺗﻮ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﻋﺠﯿﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺭﺍﮦ ﺳﺨﻦ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻧﺼﯿﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮔﺌﮯ ﺁﺧﺮ، ﺟﮩﺎﮞ ﺭﺳﺎﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ
  11. اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانا دل کا تم بھی منہ چوم لو بے ساختہ پیار آ جائے میں سناؤں جو کبھی دل سے فسانا دل کا نگہ یار نے کی خانہ خرابی ایسی نہ ٹھکانا ہے جگر کا نہ ٹھکانا دل کا پوری مہندی بھی لگانی نہیں آتی اب تک کیوں کر آیا تجھے غیروں سے لگانا دل کا غنچۂ گل کو وہ مٹھی میں لیے آتے تھے میں نے پوچھا تو کیا مجھ سے بہانا دل کا ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہ ہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا دے خدا اور جگہ سینہ و پہلو کے سوا کہ برے وقت میں ہو جائے ٹھکانا دل کا میری آغوش سے کیا ہی وہ تڑپ کر نکلے ان کا جانا تھا الٰہی کہ یہ جانا دل کا نگہ شرم کو بے تاب کیا کام کیا رنگ لایا تری آنکھوں میں سمانا دل کا انگلیاں تار گریباں میں الجھ جاتی ہیں سخت دشوار ہے ہاتھوں سے دبانا دل کا حور کی شکل ہو تم نور کے پتلے ہو تم اور اس پر تمہیں آتا ہے جلانا دل کا چھوڑ کر اس کو تری بزم سے کیوں کر جاؤں اک جنازے کا اٹھانا ہے اٹھانا دل کا بے دلی کا جو کہا حال تو فرماتے ہیں کر لیا تو نے کہیں اور ٹھکانا دل کا بعد مدت کے یہ اے داغؔ سمجھ میں آیا وہی دانا ہے کہا جس نے نہ مانا دل کا
  12. ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھا حقیقت میں جو دیکھنا تھا نہ دیکھا تجھے دیکھ کر وہ دوئی اٹھ گئی ہے کہ اپنا بھی ثانی نہ دیکھا نہ دیکھا ان آنکھوں کے قربان جاؤں جنہوں نے ہزاروں حجابوں میں پروانہ دیکھا نہ ہمت نہ قسمت نہ دل ہے نہ آنکھیں نہ ڈھونڈا نہ پایا نہ سمجھا نہ دیکھا مریضان الفت کی کیا بے کسی ہے مسیحا کو بھی چارہ فرما نہ دیکھا بہت درد مندوں کو دیکھا ہے تو نے یہ سینہ یہ دل یہ کلیجا نہ دیکھا وہ کب دیکھ سکتا ہے اس کی تجلی جس انسان نے اپنا جلوا نہ دیکھا بہت شور سنتے تھے اس انجمن کا یہاں آ کے جو کچھ سنا تھا نہ دیکھا صفائی ہے باغ محبت میں ایسی کہ باد صبا نے بھی تنکا نہ دیکھا اسے دیکھ کر اور کو پھر جو دیکھے کوئی دیکھنے والا ایسا نہ دیکھا وہ تھا جلوہ آرا مگر تو نے موسیٰ نہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا گیا کارواں چھوڑ کر مجھ کو تنہا ذرا میرے آنے کا رستا نہ دیکھا کہاں نقش اول کہاں نقش ثانی خدا کی خدائی میں تجھ سا نہ دیکھا تری یاد ہے یا ہے تیرا تصور کبھی داغؔ کو ہم نے تنہا نہ دیکھا
  13. اُن کی وہ جفا اپنی وفا یاد رہے گی دلچسپ محبت کی خطا یاد رہے گی دنیا کی ہر اِک بات اگر بھول بھی جاؤں مجھ کو ترے ملنے کی دُعا یاد رہے گی دھڑکن میں ترا نام ہی پاؤں گا ہمیشہ کچھ بات نہ اب تیرے سِوا یاد رہے گی شرما کے نگاہوں کا چُرا لینا وہ مجھ سے مجھ کو یہ نرالی سی اَدا یاد رہے گی اب تک ہیں مجھے یاد وہ لمحاتِ جدائی پائی جو محبت میں سزا یاد رہے گی چاہے بھی جو فیصلؔ تو تجھے بھول نہ پائے ہر ایک تری بات پِیا یاد رہے گی
  14. وفا کی رہ میں کچھ حائل نہیں ہے ارادہ ہو تو کچھ مشکل نہیں ہے نہ آئیں لوٹ کر گزرے زمانے وہ باتیں اور وہ محفل نہیں ہے محبت وہ سمندر ہے کہ جس کا ملا کوئی کہیں ساحل نہیں ہے بس اس میں رہ گزر ہے اور سفر ہے کوئی بھی عشق کی منزل نہیں ہے خِرد والو خِرد کی بات چھوڑو طبیعت اس طرف مائل نہیں ہے ہر اِک لمحہ تمہاری یاد آئی کبھی دل آپ سے غافل نہیں ہے مجھے سب کچھ ملا ہے پیار سے ہی کہوں کیسے کہ کچھ حاصل نہیں ہے وہ کیوں لوگوں سے کہتا پھر رہا ہے کہ یہ پہلا سا وہ فیصلؔ نہیں ہے
×
×
  • Create New...