Jump to content

shariahandbiz.com

Members
  • Content Count

    47
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

0 Neutral

About shariahandbiz.com

  • Rank
    Well-known member
  1. تینوں نے اپنے خاوندوں کا گلا نہ کرنے کا عہد کیا اور کام میں جت گئیں. اس کہانی کا آغاز 15 سال قبل ہوا تھا جب دھول پور کے گاوں کریم پور میں تین عورتیں "انیتا", "ہری پیاری" اور "وجے شرما" نے اپنی شادی کرکے اپنا اپنا گھر سمبھالا. اتفاق سے تینوں کے شوہر کچھ کام کاج نہیں کرتے تھے, جس کی وجہ سے گھر کی مالی حالت نہایت ابتر تھی. گھر میں کھانے پینے اور پہننے کو کچھ نہ تھا, جس کی وجہ سے گھر میں اکثر لڑائی جھگڑا رہنے لگا تھا. تینوں عورتیں ایک جیسے مشکل حالات سے گزر رہیں تھیں. جب کبھی وہ اکٹھی ہوتی ہیں تو اپنے اپنے مسائل کا رونا رونے لگتیں اور اپنے شوہروں کا گلہ شکوہ کیا کرتیں. تینوں کا دکھ سانجھا تھا جس نے ان تینوں کو آپس میں سہیلیاں بنا دیا. ایک دن تینوں نے اپنے خاوندوں کا گلا نہ کرنے کا عہد کیا اور اس مشکل کا حل تلاش کرنے لگیں اور آخر کار انہیں اپنے مسئلے کا حل مل گیا. ان تینوں سہیلیوں نے اپنا گھر چلانے کے لئے خود ہی کچھ کرنے کی تھانی اور ساہوکار سے سود پر چھ چھ ہزار روپے لے کر بھینسیں خریدیں. انہیں گاؤں میں کسی نے بتایا تھا کہ تم اگر بھینس پالو گی تو گاؤں میں دودھ کی خریداری کرنے والے بیوپاری گھر آکر دودھ خرید کر لے جائیں گے اور اچھی بھلی آمدنی ہونے لگی گی اور گھر کا چولہا جلتا رہے گا اور گھر کا نظم بھی عمدگی سے چلتا رہے گا. جب وہ بھینسے خرید سکین تو وہ ایک نئی مشکل میں پھنس گئیں. گوالا روز کسی نہ کسی بہانے دودھ لینے سے انکار کر دیتا اور پھر بلیک میل کر کے اونے پونے داموں پر ان سے دودھ خرید لیتا کبھی کہتا کہ دودھ میں فیٹ ہہت کم ہے تو کبھی کہتا دودھ میں پانی بہت ہے, اسلئے ڈیری والوں نے پیسے نہیں دیے, اس طرح تینوں قرض نہ اتار سکتی تھی اور دن بدن سود کی وجہ سے قرض بڑھ رہا تھا. جب حالات بگڑے تو مجبورا تینوں سہیلیاں بھینس کا دودھ لے کر خود ہی ڈیری جانے لگی. وہاں جا کر پتہ چلا کے گوالہ تو انہیں آدھے پیسے دیتا تھا پھر اسی دن سے یہ تینوں ہی دودھ لے کر ڈیری جانے لگی اور رفتہ رفتہ اپنا قرض اتار دیا. اب ان کو دودھ کے کاروبار کی سمجھ آ چکی تھی ان تینوں نے مشورہ کرکے ایک جیپ کرائے پر لی اور آس پاس کے گاؤں سے بھی دودھ جمع کرنے لگی اور ایک دودھ والی کمپنی کے کلیکشن سنٹر پر جانے لگیں, ان کی آمدنی میں اضافہ ہونے لگا. "انیتا" کہتی ہیں کہ تب ہم نے دن رات کام کرنا شروع کیا. صبح کے تین بجے سے دودھ جمع کرنا شروع کرتین تھیں اور 1000 لیٹر دودھ جمع کر لیتیں. گھریلو خواتین کو دودھ جمع کرنے والے مرد ایجنٹوں سے ہم اچھا ریٹ دینے لگیں تو سبھی لوگ ہم کو دودھ فروخت کرنے لگے. یہیں سے ہم نے کامیابی کا پہلا ذائقہ چکھا. لوگوں سے خالص دودھ لے کر خالص دودھ ہی آگے دیتیں اور بروقت پیسوں کی ادائیگی کرتیں. ہمارے معاملات دیکھ کر لوگ ہمیں دودھ خریدنے کا آرڈر دینے لگے جب کاروبار بڑھا تو ہم نے اپنا کلیکشن سنٹر کھول لیا. اب خواتین ہمارے سنٹر پر دودھ لاکر فروخت کرنے لگیں. "ہری پیاری" کہتی ہیں کہ جب دودھ زیادہ ہونے لگا, تب ہم نے حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں سے رابطہ کیا کہ کیسے اپنے کاروبار کو بڑھائیں. پھر ہم نے حکومت کی مدد سے ایک گروپ "اپنی مدد آپ" تیار کیا. ہماری محنت اور کامیابی دیکھ کر کئی لوگ مدد کے لئے آگے بڑھے. پیسے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے انہوں نے تنظیم کی مدد سے خواتین کا "خود امدادی گروپ" بنایا اور قرض لیا جس سے یکم اکتوبر 2013 کو ایک لاکھ کی لاگت سے "اپنی سہیلی پروڈیوسر" نام کی کمپنی بنا لی. پھر ایک فاونڈیشن کی تکنیکی معاونت سے کریم پور گاؤں میں دودھ کا ایک پلانٹ لگایا. اس کے لیے چار لاکھ روپیوں کا قرض لیا گیا. اپنی کمپنی کے شیئرز دیہاتی خواتین کو بیچنا شروع کیے تین سال میں کمپنی کے شیئرز ہولڈرز دیہاتی خواتین کی تعداد 8000 ہوگئی. تین سالوں میں کمپنی کے مالیت ڈیڑھ کروڑ روپے ہوگئی. شیئر ہولڈر خواتین کمپنی کو دودھ فروخت کرتی ہیں. کمپنی کے بورڈ میں کل گیارہ خواتین ہیں, جن کی ماہانہ آمدنی 12 ہزار روپے ہے. کمپنی کو حکومت کی طرف سے پانچ لاکھ روپے حوصلہ افزائی کے طورپر موصول ہوئے جنہیں قرض کی شکل میں دیگر خواتین کو دے کر انہیں گوالوں کے چنگل سے آزاد کیا اور اپنی سہلی پروڈیوسر کمپنی کو دودھ فروخت کرنے کی ترغیب دی گئی. "وجے شرما" نے بتایا کہ ایک وقت تھا کہ ہم خود بے روزگار تھیں اور اس کی وجہ سے ہمارے گھروں میں لڑائی جھگڑے رہتے تھے, اب ہم نہ صرف خود روزگار والی ہیں بلکہ کئی دوسرے غریب گھرانوں اور خواتین کو روزگار فراہم کررہی ہیں, جس سے غریب لوگوں کی بنیادی ضرورتیں پوری ہونے کے ساتھ ان کے بچوں کی تعلیم کے اخراجات بھی پورے ہو رہے ہیں. "انیتا" کہتی ہیں کہ ہمارے کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تقریبا 18 گاؤں میں ہماری کمپنی کے شیئر ہولڈرز خواتین موجود ہیں. ہر گاؤں میں شیئرہولڈرز خاتون کے گھر پر کلیکشن سنٹر بنایا گیا ہے, جہاں خواتین خود دودھ فروخت کر جاتی ہیں. ہر گاؤں کو 3 علاقوں میں تقسیم کرکے الگ الگ گاڑیاں وہاں جاتی ہیں اور وہ دودھ جمع کرکے کریم پور پلانٹ تک لاتی ہیں. پلانٹ پر ایک اعلی تعلیم یافتہ "برج راج سنگھ" کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر مقرر کیا گیا ہے اور دیگر پڑھے لکھے لوگوں کو بھی بھرتی کیا گیا ہے, جو ہمارے ہاں کام کرتے ہیں. "ہری پیاری" کہتی ہیں کہ ہم ان پڑھ خواتین نے کئی بے کار اور بے روزگار نوجوانوں اور مردوں کی سوچ بدلی ہے کہ جب خواتین کام کرسکتی ہیں تو مرد کیوں نہیں کر سکتے کیا ابھی بھی وہ ہاتھوں میں چوڑیاں پہنے رہیں گے.
  2. قواعد،آداب، مسائل کلیم اور سلیم دونوں دوست ہیں۔ دونوں کا کپڑے کا ہو ل سیل کا کاروبار ہے۔ کلیم اپنے دوست سلیم کو فون کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے ـسامان مارکیٹ لے جانے کے لئے تمہاری لوڈنگ سوزوکی چاہیے ہو گی، میری سوزوکی کام کے لئے گیراج میں کھڑی ہے۔ سلیم کہتا ہے کہ ٹھیک ہے ، آپ کو جب ضرورت ہو لے جائیے گا، آپ کی اپنی ہی گاڑی ہے۔ کلیم گاڑی لے جاتا ہے ۔ تین دن کے استعمال کے بعد سوزوکی واپس کردیتا ہے۔ سلیم گاڑی کی حالت دیکھتا ہے اور دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ ’’یہ کیا!؟ اس کی ہیڈ لائٹس ٹوٹی ہوئی ہیں، اس کو بری طرح استعمال کیا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کلیم نے سوزوکی گھر کے باہر کھڑی کی ،شرارتی بچوں نے اس کی ہیڈ لائٹس توڑ دیں۔ حفاظت کے لئے اس پر کپڑا بھی نہیں چڑھایا۔ یوں لگ رہا ہے کلیم نے اس سوزوکی کو کپڑوںکے تھا نوں کے علاوہ کسی اور کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔ ہاں! وہ اپنا گھر شفٹ کرنے کی بات کررہا تھا۔ شاید گھر کا سامان، فرنیچر وغیرہ شفٹ کیا ہو؟ یا کوئی اور لوہے کا سامان…‘‘ سلیم سوچتا رہ جاتا ہے۔ پھر کلیم کو فون کرتا ہے اور کلیم سے پوچھتا ہے: ’’کیا تم نے گاڑی پر حفاظتی کپڑا نہیں چڑھایا تھا۔ کیا تم نے کسی اور کام میں سوزوکی استعمال کی ہے؟‘‘ کلیم کہتا ہے: ’’ہاں یار، وہ میں نے اپنے گھر کا سامان اس سوزوکی میں شفٹ کیا ہے۔وہ میں کپڑا چڑھانا بھول گیا تھا، بچوں نے اس کی ہیڈ لائٹس توڑ دیں۔‘‘ سلیم باتیں سن کر خاموش ہوجاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ کیا اگر یہ اس کی اپنی گاڑی ہوتی تو یہ اتنی لاپروائی دکھاتا؟ میں نے تو اسے گاڑی کپڑوں کی لوڈنگ کے لئے دی تھی، اگر مجھے پتا ہوتا کہ یہ اپنے گھر کی شفٹنگ میں استعمال کرے گا تو میں ہر گز نہ دیتا۔ وہ بھاڑے کی لے لیتا، لیکن اب کیا کروں؟ دوست ہے، مارکیٹ میں ساتھ ہے، اسے میں کچھ کہہ بھی نہیں سکتا! لیکن اسے بھی کچھ خیال کرنا چاہیے تھا، یہ تو نیکی گلے آگئی۔ ذرا سوچیے ایسی صورت حال ہمارے ساتھ بھی پیش آجاتی ہے۔ ہم سامان استعمال کے لیے دیتے ہیں۔ استعمال کے لیے لینے والا اس کو مالِ مفت سمجھتا ہے۔ بے رحمی کے ساتھ اسے استعمال کرتا ہے۔نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ دل میں خلش پیدا ہوتی ہے۔ بدگمانی دلوں میں جم جاتی ہے۔ بعض اوقات یہ باتیں لڑائی جھگڑوںتک پہنچ جاتی ہیں۔ گہری دوستی، دشمنی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ کیوں؟؟ کبھی سوچا ہم نے؟ نہیں سوچا ۔ اب سوچئے، ہمارا رویہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے کیا ہونا چاہئے۔ ایک چیز دوسرے کو استعمال کے لیے دینے کی حیثیت سے اور ایک چیز استعمال کے لیے لینے کی حیثیت سے شریعت ہم سے کیا کہتی ہے؟ شاید ہمیں علم ہو لیکن علم و عمل میں دوریاں ہیں۔ اس لیے ہماری کاروباری معاشرت بھی خراب ہے، ہماری گھریلوں معاشرت بھی خراب ہے، لوگ ہم سے بدظن ہیں۔ کیا ایسا ہوتا ہے مسلمان؟ یہ سوال ہوتا ہے۔ علم کے مطابق عمل سیکھنے کا طریقہ تو یہ ہے کہ عمل والوں کے ساتھ تعلق مضبوط کریں۔ وہ ہمیں مل جائیں گے۔ پہلے قدم پر آئیے! علم دین کا ایک سبق سیکھتے ہیں۔ ہم کوئی چیز کسی کو استعمال کے لئے دیں تو شریعت ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے، اگر ہم کسی سے چیز استعمال کے لیے لیں تو شریعت ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے؟ کس چیز کو استعمال کے لیے دیا جاسکتا ہے؟ استعمال کے لیے کون دے سکتا ہے؟ استعمال پر چیز لینے والے کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ آئیے سیکھتے ہیں۔ عاریت کا مفہوم وہ چیزیں جن کو ختم کیے بغیر استعمال کے ذریعے فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے، ان چیزوں کو بلامعاوضہ دوسرے کو استعمال کے لیے دینا ’’عاریت‘‘ کہلاتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میںاس قسم کے معاملے سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ کاروباری زندگی میں بھی مارکیٹ میں اپنے دوست، پڑوسی کے ساتھ معمولی چیزوں کو باقاعدہ کرایہ پر نہیں لیا جاتا، بلکہ جانبین بغیر کسی معاوضے کے ہی استعمال کے لیے دینے پر راضی ہوتے ہیں۔ شریعت میں اس معاملے کو عاریت کہتے ہیں، مثلاً: اوازار، گاڑی، چھوٹی مشین ایک آدھ دفعہ استعمال کے لئے، انہیں عاریت پر ہی استعمال کیا جارہا ہوتاہے۔ عاریت کے اس معاملے کی بنیاد ہمدردی، بھائی چارے پر ہے، جس میں عموماً دینے والا صرف اپنے بھائی کے ساتھ اچھا معاملہ کرتے ہوئے، آخرت کے ثواب کی خاطراپنا سامان استعمال کے لئے دے رہا ہوتا ہے، لیکن بہر حال کاروباری زندگی میں اس سے واسطہ رہتا ہے، ہمیں اس کے بارے میں شرعی معلومات ہونا ضروری ہیں۔ عاریت پر دی جانے والی چیز پہلے تو یہ سمجھیں کہ ’’استعمال‘‘ کے لحاظ سے ہمارے پاس دوقسم کی چیزیں ہوتی ہیں۔ پہلی قسم وہ چیزیں جنہیں فائدے کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ استعمال ہوتے ہی ختم ہوجائیں، مثلاً: کھانے پینے کی چیز یں ہیں،سی این جی ہے،پٹرول ہے۔ ان سے فائدہ انہیں خرچ کرکے ہی ہوتا ہے۔ دوسری قسم دوسری قسم وہ چیزیں ہیں جن کا فائدہ ان کے استعمال میں ہے، اس طرح کہ وہ چیزیں خود بھی باقی رہتی ہیں، مثلاً: گاڑی ہے، گھر ہے، مشینیں ہیں۔ ان کے استعمال سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور یہ چیزیں اپنی جگہ باقی ر ہتی ہیں۔ کرایہ داری اور عاریت میں فرق وہ چیزیں جو باقی رکھ کر استعمال ہوسکتی ہیں، ان کو استعمال پر دینے کی دو صورتیں ہیں: پہلی صورت یہ ہے کہ میں وہ چیزاستعمال کروں اور اس استعمال کے پیسے دے دوں۔ یہ صورت کرایہ داری کی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ میں وہ چیز استعمال کرلوں، دوسرا ہمدردی کے جذبے کے ساتھ مجھے وہ چیز استعمال کرنے دے، اس کا معاوضہ نہ لے۔ یہ صورت عاریت کی ہے۔ عاریت اور قرض میں فرق وہ چیزیں جن کا فائدہ ان کے صَرف کرنے سے ہی ممکن ہے، مثلاً: پٹرول ،کھانے پینے کی اشیا وغیرہ، ان چیزوں کو اگر بلا معاوضہ دیا جائے اس شرط پر کہ اس جیسی چیز واپس کردینا تو یہ معاملہ قرض کہلاتا ہے۔ یہ معاملہ باہمی ہمدردی کی بنیاد پر ہوگا، لہذا جتنا استعمال کیا ہے، اتنا ہی واپس کرنا ہوگا۔ دینے والا اس میں اضافہ نہیں مانگ سکتا۔ وہ چیزیں جنہیں باقی رکھتے ہوئے ان کے استعمال کے ذریعے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، انہیں بلا معاوضہ استعمال کرنا عاریت ہے۔ خلاصہ یہ کہ عاریت پر صرف وہ چیزیں دی جاسکتی ہیں جن کا استعمال کے ذریعے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہو، اس استعمال سے وہ ختم نہ ہوتی ہوں۔ عاریت پر سامان دینا، اجر و ثواب کا باعث دوسرے شخص کی ضرورت پوری کرنے کے لئے اسے بغیر کسی معاوضے کے سامان دے دینا، ایک باعث اجر و ثواب معاملہ ہے۔ حدیث میں آتا ہے: جب ایک شخص دوسرے کی ضرورت پوری کرنے کے لئے لگا ہوتا ہے تو اللہ پاک اس کی ضرورت پورا کرنے میں لگا رہتا ہے۔ لہذا عاریت کا معاملہ کرنا مستحب ہے۔ اگر نیک نیتی کے ساتھ کرے گا تو ان شاء اللہ خوب اجر وثواب کا مستحق ہوگا۔ ایک بات ذہن میں رہے کہ بچہ کوئی چیز نہ خود عاریت پر دے سکتا ہے، نہ ہی اس کے سرپرست بچے کی چیز عاریت پر دے سکتے ہیں۔ سامان استعمال کے لیے لینا، امانت کا متقاضی دوسرے سے سامان عاریت پر لینا ایک ذمہ داری کا معاملہ ہے۔ دوسرے کا سامان لے کر ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر یہ بات کہی جائے تو غلط نہ ہوگی کہ اپنی چیز سے زیادہ حفاظت اور فکر دوسرے کی چیز کی کرنی چاہئے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے کچھ بنیادی قواعد عاریت کے آپ کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں: عاریت کے بنیادی قواعد کا جائزہ ١) عاریت پر لی جانے والی چیز ضرورت پوری ہونے پر خود واپس کردی جب آپ کوئی چیز کسی خاص ضرورت کے لئے لیں تو جب ضرورت پوری ہوجائے توچیز کو واپس کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ مثال کے طورپر میں نے اپنے دوست سے گاڑی لی کہ میں صدر سے ہوکر آتا ہوں۔ جب میں اپناکام کرچکا تو اب یہ میری ذمہ داری ہے کہ میںگاڑی فوراً دوست کو پہنچا دوں۔ لمحۂ فکریہ اس معاملہ میں ہمارے یہاں بڑی غفلت ہوتی ہے۔ چیز لی اور استعمال کی، لیکن جب تک مالک خود تقاضا نہ کرے، واپس نہیں کرتے۔ جس کام کے لئے چیز لی یا جتنے وقت کے لئے چیز لی ہے، اس کام کے پورا ہونے کے بعد واپس کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جتنے دنوں کے لئے چیز لی تھی، اس وقت کے بعد چیز اپنے پاس رکھنا ایسا ہے جیسے اس سے چھین کر رکھی ہوئی ہو۔ اب اگر اس چیز میں کوئی بھی نقصان ہوا تو استعمال کے لیے لینے والا اس کا ذمہ دار ہوگا۔ 2 اس چیز کی حفاظت کرنا استعمال کرنے والے کی ذمہ داری ہے: دوسری اہم بات یہ کہ جب کوئی چیز عاریت پر لی جائے تو اس کی حفاظت کرنا، استعمال کرنے والے کی ذمہ داری ہے۔ چیز کی اس طرح حفاظت کرے جس طرح اس قسم کی چیز کی کی جاتی ہے۔ مثال کے طورپر گاڑی استعمال کے لیے لی تو مناسب جگہ پر اسے کھڑا کرنا، اس کا لاک لگانا ضروری ہو گا۔ اگر اس میں لاپروائی کی اور گاڑی کو نقصان ہوگیا تو اس استعمال کرنے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ نقصان پورا کرکے دے۔ ہاں، اگر حفاظت کی لیکن پھر بھی کوئی نقصان ہوگیا تو یہ ذمہ دار نہیں ہے۔ اگر نقصان کی تلافی کردے تو یہ اس کی جانب سے ہمدردی کامعاملہ ہوگا۔ اگر حفاظت کا خیال رکھا اور نقصان ہوگیا تو مالک تاوان کا مطالبہ نہیں کرسکتا، بلکہ اگر اس شرط پر گاڑی دی کہ اگر نقصان ہوا تو تم بھرو گے تب بھی استعمال کرنے والا ذمہ دار نہیں ہوگا۔ صرف غفلت کی صورت میں ہی اس سے نقصان کی تلافی کروانا درست ہوگا۔ 3 عاریت پر دی ہوئی چیز کو واپس لینا: یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ جب دوسرے کی چیز بلامعاوضہ استعمال کر رہے ہیں تو اس کا مالک دینے والا ہی ہے۔ اسے اس بات کا اختیار ہے کہ وہ جب چاہے، اس چیز کو واپس لے لے۔ جب آپ نے اس سے چیز مانگی تھی اس وقت اس کو اختیار تھا کہ نہ دیتا، آپ کے استعمال کے دوران وہ اگر لینا چاہے تو آپ کیسے منع نہیں کرسکتے؟ بلکہ اسے اسی وقت واپس کرنا ضروری ہو گا۔ مالک نے اپنی چیز کا سوال کیا کہ واپس کرو۔ اب آپ نے واپس نہیں کی تو یہ بالکل ایسا ہے کہ آپ نے وہ چیز اس سے چھین لی ہو۔ اب اگر وہ چیز ضائع ہو جائے یا اس چیز میں نقصان آجائے تو آپ کو اس نقصان کی تلافی کرنا پڑے گی۔ 4 مالک کی مرضی کے مطابق استعمال: چیز لیتے وقت بتا دینا چاہیے کہ کس استعمال کے لیے چیز لے رہے ہیں۔ مثال کے طورپر گاڑی لی تو بتا دیںکہ میں یا میری فیملی گارڈن تک جائیں گے یا ہم لیاری جائیں گے، وغیرہ۔ اگر کچھ نہ بتایا تو نارمل استعمال کی اجازت مالک کی جانب سے سمجھی جائے گی، جیسے گاڑی، کار یا موٹر سائیکل عموماً شہر کے اندر سفر کے لئے استعمال کی جاتی ہیں، اب کسی کے لیے یہ درست نہیں ہوگا کہ وہ دوسرے کی موٹر سائیکل یا کار لے کر دوسرے شہر چلا جائے، یہ اس کا نارمل استعمال نہیں ہے۔ اگر کسی نے نارمل سے ہٹ کر استعمال کیا اور کوئی نقصان ہوگیا تو اس کی ذمہ داری اس استعمال کرنے والے پر ہوگی۔ ایک اور بات یہ کہ اگر کسی نے چیز لی استعمال کے لئے، لیکن لیتے وقت ہی نیت تھی کہ واپس نہیں دوں گا، یہ ایسا ہے جیسے اس نے وہ چیز مالک سے چھین لی ہو۔ اب اگر کوئی بھی نقصان اس چیز میں آیا، وہ اس کا ذمہ دار ہوگا۔ باقی نیت کی خرابی کی وجہ سے گناہ الگ ہوگا۔ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اگر مالک نے آپ کو استعمال کے لئے ایسی چیز دی ہے جس پر مختلف لوگوں کے استعمال سے مختلف اثر پڑتا ہے، تو اسے دوسرے کو استعمال کے لیے نہیں دے سکتے۔ مالک اگر راضی ہو تو حرج نہیں ۔ اللہ پاک ہمیں باتوں کو سمجھنے اورعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
×
×
  • Create New...