Jump to content

sunrise

Members
  • Content Count

    567
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    11

sunrise last won the day on May 12

sunrise had the most liked content!

Community Reputation

35 Excellent

About sunrise

  • Rank
    Well-known member

Converted

  • Gender
    male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. تربیتِ اَولاد اور یہ فقیرِ پُر تقصیر نصیحت کی دھن میں مرزا یہ بھول گئے کہ دُشمنوں کی فہرست میں اضافہ کرنے میں خود انہوں نے ہمارا ہاتھ بٹایا ہے۔ جس کا اندازہ اگر آپ کو نہیں ہے تو آنے والے واقعات سے ہو جائے گا۔ ہم سے کچھ دور پی۔ ڈلیو۔ ڈی کے ایک نامی گرامی ٹھیکیدار تین کوٹھیوں میں رہتے ہیں۔ مارشل لاء کے بعد سے بچارے اتنے رقیق القلب ہو گئے ہیں کہ برسات میں کہیں سے بھی چھت گرنے کی خبر آئے، ان کا کلیجہ دھک سے رہ جاتا ہے۔ حُلیہ ہم اس لئے نہیں بتائیں گے کہ اسی بات پر مرزا سے بری طرح ڈانٹ کھا چکے ہیں۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ "ناک فلپس کے بلب جیسی، آواز میں بنک بلنیس کی کھنک، جسم خُوبصورت صراحی کے مانند۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ یعنی وسط سے پھیلا ہوا۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔” ہم نے آؤٹ لائن ہی بنائی تھی کہ مرزا گھایل لہجے میں بولے، "بڑے مزاح نگار بنے پھرتے ہو۔ تمہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ جسمانی نقائص کا مذاق اڑانا طنز و مزاح نہیں۔” کروڑ پتی ہیں، مگر انکم ٹیکس کے ڈر سے اپنے آپ کو لکھ پتی کہلواتے ہیں۔ مبدءِ فیّاض نے ان کی طبیعت میں کنجوسی کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے۔ روپیہ کمانے کو تو سبھی کماتے ہیں۔ وہ رکھنا بھی جانتے ہیں۔ کہتے ہیں، آمدنی بڑھانے کی سہل ترکیب یہ ہے کہ خرچ گھٹا دو۔ مرزا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بڑی بیٹی کو اس وجہ سے جہیز نہیں دیا کہ اس کی شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی، جو خود لکھ پتی تھا۔ اور دوسری بیٹی کو اس لئے نہیں دیا کہ اس کا دولہا دوالیہ تھا۔ سال چھ مہینے میں ناک کی کیل تک بیچ کھاتا۔ غرض لکشمی گھر کی گھر میں رہی۔ ہاں، تو انہی ٹھیکیدار صاحب کا ذکر ہے، جن کی جائداد منقولہ و غیر منقولہ، منکوحہ و غیر منکوحہ کا نقشہ شاعر شیوہ بیاں نے ایک مصرع میں کھینچ کر رکھ دیا ہے: ایک اک گھر میں سو سو کمرے، ہر کمرے میں نار اس حسین صورت حال کا نتائج اکثر ہمیں بھگتنے پڑتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ ہر نو مولود کے عقیقہ اور پہلی سال گرہ پر ہمیں سے یاد گار تصویر کھنچواتے ہیں۔ اور یہی کیا کم ہے کہ ہم سے کچھ نہیں لیتے۔ ادھر ڈھائی تین سال سے اتنا کرم اور فرمانے لگے ہیں کہ جیسے ہی خاندانی منصوبہ شکنی کی شبھ گھڑی قریب آتی ہے تو ایک نوکر، دائی کو اور دوسرا ہمیں بلانے دوڑتا ہے، بلکہ ایک آدھ دفعہ ایسا بھی ہوا کہ "وہ جاتی تھی کہ ہم نکلے” جن حضرات کو اس بیان میں شرارت ہمسایہ کی کار فرمائی نظر آئے، وہ ٹھیکیدار صاحب کے البم ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ ہمارے ہاتھ کی ایک نہیں، درجنوں تصویریں ملیں گی، جن میں موصوف کیمرے کی آنکھ میں آنکھیں ڈال کر نو مولود کے کان میں اذان دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آئے دن کی زچگیاں جھیلتے جھیلتے ہم ہلکان ہو چکے تھے، مگر بوجہ شرم و خوش اخلاقی خاموش تھے۔ عقل کام نہیں کرتی تھی کہ اس کاروبار شوق کو کس طرح بند کیا جائے۔ مجبوراً (انگریزی محاورے کے مطابق) مرزا کو اپنے اعتماد میں لینا پڑا۔ احوال پُر ملال سن کر بولے، صاحب! ان سب پریشانیوں کا حل ایک پھولدار فراک ہے۔ ہم نے کہا، مرزا! ہم پہلے ہی ستائے ہوئے ہیں۔ ہم سے یہ ابسٹریکٹ گفتگو تو نہ کرو۔ بولے، تمہاری ڈھلتی جوانی کی قسم! مذاق نہیں کرتا۔ تمہاری طرح ہمسایوں کے لخت ہائے جگر کی تصویریں کھینچتے کھینچتے اپنا بھی بھُرکس نکل گیا تھا۔ پھر میں نے تو یہ کیا کہ ایک پھول دار فراک خریدی اور اس میں ایک نو زائیدہ بچے کی تصویر کھینچی۔ اوراس کی تین درجن کاپیاں بنا کر اپنے پاس رکھ لیں۔ اب جو کوئی اپنے نو مولود کی فرمائش کرتا ہے تو یہ شرط لگا دیتا ہوں کہ اچھی تصویر درکار ہے تو یہ خوبصورت پھولدار فراک پہنا کر کھنچواؤ۔ پھر کیمرے میں فلم ڈالے بغیر بٹن دباتا ہوں۔ اور دو تین دن کا بھلاوا دے کر اسی امّ التصاویر کی ایک کاپی پکڑا دیتا ہوں۔ ہر باپ کو اس میں اپنی شباہت نظر آتی ہے!
  2. ہوئے مر کے ہم جو رسوا اب تو معمول سا بن گیا ہے کہ کہیں تعزیت یا تجہیز و تکفین میں شریک ہونا پڑے تو مرزا کو ضرور ساتھ لیتا ہوں۔ ایسے موقعوں پر ہر شخص اظہارِ ہمدردی کے طور پر کچھ نہ کچھ ضرور کہتا ہے۔ قطعۂ تاریخِ وفات ہی سہی۔ مگر مجھے نہ جانے کیوں چُپ لگ جاتی ہے، جس سے بعض اوقات نہ صِرف پس ماندگان کو بلکہ خُود مجھے بھی بڑا دکھ ہوتا ہے۔ لیکن مرزا نے چپ ہونا سِیکھا ہی نہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ صحیح بات کو غلَط موقع پر بے دغدغہ کہنے کی جو خدا داد صلاحیّت اُنہیں ودیعت ہوئی ہے وہ کچھ ایسی ہی تقریبوں میں گل کھلاتی ہے۔ وہ گھپ اندھیرے میں سرِ رہگزر چراغ نہیں جلاتے، پھلجھڑی چھوڑتے ہیں، جس سے بس ان کا اپنا چہرہ رات کے سیاہ فریم میں جگ مگ جگ مگ کرنے لگتا ہے۔ اور پھلجھڑی کا لفظ تو یونہی مروّت میں قلم سے نکل گیا، ورنہ ہوتا یہ ہے کہ جس جگہ بیٹھ گئے آگ لگا کر اُٹھے اس کے با وصف، وہ خدا کے ان حاضر و ناظر بندوں میں سے ہیں جو محلّے کی ہر چھوٹی بڑی تقریب میں، شادی ہو یا غمی، موجود ہوتے ہیں۔ بالخصوص دعوتوں میں سب سے پہلے پہنچتے اور سب کے بعد اٹھتے ہیں۔ اِس اندازِ نشست و برخاست میں ایک کھُلا فائدہ یہ دیا ہے کہ وہ باری باری سب کی غیبت کر ڈالتے ہیں۔ ان کی کوئی نہیں کر پاتا۔ چنانچہ اس سنیچر کی شام کو بھی میوہ شاہ قبرستان میں وہ میرے ساتھ تھے۔ سورج اس شہر خموشاں کو جسے ہزاروں بندگانِ خُدا نے مرمر کے بسایا تھا، لال انگارہ سی آنکھ سے دیکھتا دیکھتا انگریزوں کے اقبال کی طرح غُروب ہو رہا تھا۔ سامنے بیری کے درخت کے نیچے ایک ڈھانچہ قبر بدر پڑا تھا۔ چاروں طرف موت کی عمل داری تھی اور سارا قبرستان ایسا اداس اور اجاڑ تھا جیسے کسی بڑے شہر کا بازار اتوار کو۔ سبھی رنجیدہ تھے۔ (بقول مرزا، دفن کے وقت میّت کے سوا سب رنجیدہ ہوتے ہیں۔) مگر مرزا سب سے الگ تھلگ ایک پُرانے کتبے پر نظریں گاڑے مسکرا رہے تھے۔ چند لمحوں بعد میرے پاس آئے اور میری پسلیوں میں اپنی کُہنی سے آنکس لگاتے ہوئے اُس کتبے تک لے گئے، جس پر منجملہ تاریخِ پیدائش و پنشن، مولد و مسکن، ولدیّت و عہدہ (اعزازی مجسٹریٹ درجہ سوم) آسُودہ لحد کی تمام ڈگریاں مع ڈویژن اور یونیورسٹی کے نام کے کندہ تھیں اور آخر میں، نہایت جلی حروف میں، مُنہ پھیر کر جانے والے کو بذریعہ قطعہ بشارت دی گئی تھی کہ اللہ نے چاہا تو بہت جلد اُس کا بھی یہی حشر ہونے والا ہے۔ میں نے مرزاسے کہا "یہ لوحِ مرزا ہے یا ملازمت کی درخواست؟ بھلا ڈگریاں، عہدہ اور ولدیت وغیرہ لکھنے کا کیا تُک تھا؟” انھوں نے حسبِ عادت بس ایک لفظ پکڑ لیا۔ کہنے لگے "ٹھیک کہتے ہو۔ جس طرح آج کل کسی کی عمر یا تنخواہ دریافت کرنا بُری بات سمجھی جاتی ہے، اِسی طرح، بالکل اِسی طرح بیس سال بعد کسی کی ولدیّت پُوچھنا بد اَخلاقی سمجھی جائے گی!” اب مجھے مرزا کی چونچال طبیعت سے خطرہ محسوس ہونے لگا۔ لہٰذا انھیں ولدیّت کے مستقبل پر مسکراتا چھوڑ کر میں آٹھ دس قبر دُور ایک ٹکڑی میں شامل ہو گیا، جہاں ایک صاحب جنّت مکانی کے حالاتِ زندگی مزے لے لے کر بیان کر رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ خُدا غریقِ رحمت کرے، مرحُوم نے اِتنی لمبی عُمر پائی کہ ان کے قریبی اعزّہ دس پندرہ سال سے ان کی اِنشورنس پالیسی کی امّید میں جی رہے تھے۔ ان امّید واروں میں سے بیشتر کو مرحُوم خود اپنے ہاتھ سے مٹیّ دے چکے تھے۔ بقیہ کو یقین ہو گیا تھا کہ مرحُوم نے آبِ حیات نہ صرف چکھا ہے بلکہ ڈگڈگا کے پی چکے ہیں۔ راوی نے تو یہاں تک بیان کیا کہ ازبسکہ مرحُوم شروع سے رکھ رکھاؤ کے حد درجہ قائل تھے، لہٰذا آخر تک اس صحّت بخش عقیدے پر قائم رہے کہ چھوٹوں کو تعظیماً پہلے مرنا چاہیے۔ البتّہ اِدھر چند برسوں سے ان کو فلکِ کج رفتار سے یہ شکایت ہو چلی تھی کہ افسوس اب کوئی دشمن ایسا باقی نہیں رہا، جسے وہ مرنے کی بد دُعا دے سکیں۔ ان سے کٹ کر میں ایک دوسری ٹولی میں جا ملا۔ یہاں مرحوم کے ایک شناسا اور میرے پڑوسی ان کے گیلڑ لڑکے کو صبرِ جمیل کی تلقین اور گول مول الفاظ میں نعم البدل کی دعا دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ برخوردار! یہ مرحوم کے مرنے کے دن نہیں تھے۔ حالانکہ پانچ منٹ پہلے یہی صاحب، جی ہاں، یہی صاحب مجھ سے کہہ رہے تھے کہ مرحوم نے پانچ شال قبل دونوں بیویوں کو اپنے تیسرے سہرے کی بہاریں دکھائی تھیں اور یہ ان کے مرنے کے نہیں، ڈوب مرنے کے دن تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے انگلیوں پرحساب لگا کر کانا پھوسی کے انداز میں یہ تک بتایا کہ تیسری بیوی کی عمر مرحوم کی پنشن کے برابر ہے۔ مگر ہے بالکل سیدھی اور بے زبان۔ اس اللہ کی بندی نے کبھی پلٹ کر نہیں پوچھا کہ تمہارے منہ میں کے دانت نہیں ہیں۔ مگر مرحوم اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ انہوں نے محض اپنی دعاؤں کے زور سے موصوفہ کا چال چلن قابو میں کر رکھا ہے۔ البتہ بیاہتا بیوی سے ان کی کبھی نہیں بنی۔ بھری جوانی میں بھی میاں بیوی 62 کے ہند سے کی طرح ایک دوسرے سے منہ پھیرے رہے اور جب تک جیے، ایک دوسرے کے اعصاب پر سوار رہے۔ ممدوحہ نے مشہور کر رکھا تھا کہ (خدا ان کی روح کو نہ شرمائے) مرحوم شروع سے ہی ایسے ظالم تھے کہ ولیمے کا کھانا بھی مجھ نئی نویلی دلہن سے پکوایا۔ میں نے گفتگو کا رُخ موڑنے کی خاطر گنجان قبرستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھتے ہی چپّہ چپّہ آباد ہو گیا۔ مرزا حسب معمول پھر بیچ میں کود پڑے۔ کہنے لگے، دیکھ لینا، وہ دن زیادہ دور نہیں جب کراچی میں مردے کو کھڑا گاڑنا پڑے گا اور نائیلون کے ریڈی میڈ کفن میں اوپر زِپ (ZIP) لگے گی تاکہ منہ دیکھنے دکھانے میں آسانی رہے۔ مری طبیعت ان باتوں سے اوبنے لگی تو ایک دوسرے غول میں چلا گیا، جہاں دو نوجوان ستارے کے غلاف جیسی پتلونیں چڑھائے چہک رہے تھے۔ پہلے "ٹیڈی بوائے” کی پیلی قمیض پر لڑکیوں کی ایسی واہیات تصویریں بنی ہوئی تھیں کہ نظر پڑتے ہی ثقہ آدمی لاحول پڑھنے لگتے تھے اور ہم نے دیکھا کہ ہر ثقہ آدمی بار بار لاحول پڑھ رہا ہے۔ دوسرے نوجوان کو مرحوم کی بے وقت موت سے واقعی دلی صدمہ پہنچا تھا، کیونکہ ان کا سارا "ویک اینڈ” چوپٹ ہو گیا تھا۔ چونچوں اور چہلوں کا یہ سلسلہ شاید کچھ دیر اور جاری رہتا کہ اتنے میں ایک صاحب نے ہمت کر کے مرحوم کے حق میں پہلا کلمہ خیر کہا اور میری جان میں جان آئی۔ انہوں نے صحیح فرمایا "یوں آنکھ بند ہونے کے بعد لوگ کیڑے نکالنے لگیں، یہ اور بات ہے، مگر خدا ان کی قبر کو عنبریں کرے، مرحوم بلاشبہ صاف دل، نیک نیت انسان تھے اور نیک نام بھی۔ یہ بڑی بات ہے۔” "نیک نامی میں کیا کلام ہے۔ مرحوم اگر یونہی منہ ہاتھ دھونے بیٹھ جاتے تو سب یہی سمجھتے کہ وضو کر رہے۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔” جملہ ختم ہونے سے پہلے مدّاح کی چمکتی چندیا یکایک ایک دھنسی ہوئی قبر میں غروب ہو گئی۔ اس مقام پر ایک تیسرے صاحب نے (جن سے میں واقف نہیں) کہا "روئے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہ” والے لہجے میں نیک نیتی اور صاف دلی کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض لوگ اپنی پیدائشی بزدلی کے سبب تمام عمر گناہوں سے بچے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس بعضوں کے دل و دماغ واقعی آئینے کی طرح صاف ہوتے ہیں۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ یعنی نیک خیال آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ شامتِ اعمال کہ میرے منہ سے نکل گیا "نیت کا حال صرف خدا پر روشن ہے مگر اپنی جگہ یہی کیا کم ہے کہ مرحوم سب کے دکھ سکھ میں شریک اور ادنیٰ سے ادنیٰ پڑوسی سے بھی جھک کر ملتے تھے۔” ارے صاحب! یہ سنتے ہی وہ صاحب تو لال بھبھوکا ہو گئے۔ بولے "حضرات! مجھے خدائی کا دعویٰ تو نہیں۔ تاہم اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اکثر بوڑھے خرّانٹ اپنے پڑوسیوں سے محض اس خیال سے جھک کر ملتے ہیں کہ اگر وہ خفا ہو گئے تو کندھا کون دے گا۔” خوش قسمتی سے ایک خدا ترس نے میری حمایت کی۔ میرا مطلب ہے مرحوم کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے، ماشا اللہ، اتنی لمبی عمر پائی۔ مگر صورت پر ذرا نہیں برستی تھی۔ چنانچہ سوائے کنپٹیوں کے اور بال سفید نہیں ہوئے۔ چاہتے تو خضاب لگا کے خوردوں میں شامل ہو سکتے تھے۔ مگر طبیعت ایسی قلندرانہ پائی تھی کہ خضاب کا کبھی جھوٹوں بھی خیال نہیں آیا۔ وہ صاحب سچ مچ پھٹ پڑے "آپ کو خبر بھی ہے؟ مرحوم کا سارا سر پہلے نکاح کے بعد ہی سفید گالا ہو گیا تھا۔ مگر کنپٹیوں کو قصداً سفید رہنے دیتے تھے تاکہ کسی کو شبہ نہ گزرے کہ خضاب لگاتے ہیں۔ سلور گرے قلمیں! یہ تو ان کے میک اپ میں ایک نیچرل ٹچ تھا!” "ارے صاحب! اسی مصلحت سے انہوں نے اپنا ایک مصنوعی دانت بھی توڑ رکھا تھا” ایک دوسرے بد گو نے تابُوت میں آخری کیل ٹھونکی۔ "کچھ بھی سہی وہ ان کھوسٹوں سے ہزار درجے بہتر تھے جو اپنے پوپلے منہ اور سفید بالوں کی داد چھوٹوں سے یوں طلب کرتے ہیں، گویا یہ ان کی ذاتی جد و جہد کا ثمرہ ہے۔” مرزا نے بگڑی بات بنائی۔ اُن سے پیچھا چھڑا کر کچی پکی قبریں پھاندتا میں منشی ثناء اللہ کے پاس جا پہنچا، جو ایک کتبے سے ٹیک لگائے بیری کے ہرے ہرے پتے کچر کچر چبا رہے تھے اور اس امر پر بار بار اپنی حیرانی کا اظہار فرما رہے تھے کہ ابھی پرسوں تک تو مرحوم باتیں کر رہے تھے۔ گویا ان کے اپنے آداب جانکنی کی رُو سے مرحوم کو مرنے سے تین چار سال پہلے چپ ہو جانا چاہیے تھا، بھلا مرزا ایسا موقع کہاں خالی جانے دیتے تھے۔ مجھے مخاطب کر کے کہنے لگے، یاد رکھو! مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔ یوں تو مرزا کے بیان کے مطابق مرحوم کی بیوائیں بھی ایک دوسرے کی چھاتی پر دو ہتّڑ مار مار کر بین کر رہی تھیں، لیکن مرحوم کے بڑے نواسے نے جو پانچ سال سے بے روزگار تھا، چیخ چیخ کر اپنا گلا بٹھا لیا تھا۔ منشی جی بیری کے پتوں کا رس چوس چوس کر جتنا اسے سمجھاتے پچکارتے، اتنا ہی وہ مرحوم کی پنشن کو یاد کر کے دھاڑیں مار مار کر روتا۔ اسے اگر ایک طرف حضرت عزرائیل سے گلہ تھا کہ انہوں نے تیس تاریخ تک انتظار کیوں نہ کیا تو دوسری طرف خود مرحوم سے بھی سخت شکوہ تھا کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور؟ ادھر منشی جی کا سارا زور اس فلسفے پر تھا کہ برخوردار! یہ سب نظر کا دھوکا ہے۔ در حقیقت زندگی اور موت میں کوئی فرق نہیں۔ کم از کم ایشیا میں۔ نیز مرحوم بڑے نصیبہ ور نکلے کہ دنیا کے بکھیڑوں سے اتنی جلدی آزاد ہو گئے۔ مگر تم ہو کہ ناحق اپنی جوان جان کو ہلکان کیے جا رہے ہو۔ یونانی مثل ہے کہ وہی مرتا ہے جو محبُوبِ خُدا ہوتا ہے حاضرین ابھی دل ہی دل میں حسد سے جلے جا رہے تھے کہ ہائے، مرحوم کی آئی ہمیں کیوں نہ آ گئی کہ دم بھر کو بادل کے ایک فالسئی ٹکڑے نے سورج کو ڈھک لیا اور ہلکی ہلکی پھوار پڑنے لگی۔ منشی جی نے یکبارگی بیری کے پتّوں کا پھوک نگلتے ہوئے اس کو مرحوم کے بہشتی ہونے کا غیبی شگون قرار دیا۔ لیکن مرزا نے بھرے مجمع میں سر ہلا ہلا کر اس پیشگوئی سے اختلاف کیا۔ میں نے الگ لے جا کر وجہ پوچھی تو ارشاد ہوا: "مرنے کے لیے سنیچرکا دن بہت منحوس ہوتا ہے۔” لیکن سب سے زیادہ پتلا حال مرحوم کے ایک دوست کا تھا، جن کے آنسو کسی طرح تھمنے کا نام نہیں لیتے تھے کہ انھیں مرحوم سے دیرینہ ربط و رفاقت کا دعویٰ تھا۔ اِس رُوحانی یک جہتی کے ثبوت میں اکثر اس واقعے کا ذکر کرتے کہ بغدادی قاعدہ ختم ہونے سے ایک دن پہلے ہم دونوں نے ایک ساتھ سگرٹ پینا سیکھا۔ چنانچہ اس وقت بھی صاحب موصوف کے بین سے صاف ٹپکتا تھا کہ مرحوم کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت داغ بلکہ دغا دے گئے اور بغیر کہے سنے پیچھا چھڑا کے چپ چپاتے جنت الفردوس کو روانہ ہو گئے۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ اکیلے ہی اکیلے! بعد میں مرزا نے صراحتہً بتایا کہ باہمی اخلاص و یگانگت کا یہ عالم تھا کہ مرحوم نے اپنی موت سے تین ماہ پیشتر موصوف سے دس ہزار روپئے سکّہ رائج الوقت بطور قرض حسنہ لیے اور وہ تو کہیے، بڑی خیریّت ہوئی کہ اسی رقم سے تیسری بیوی کا مہر معجّل بیباق کر گئے ورنہ قیامت میں اپنے ساس سسر کو کیا منہ دکھاتے۔ (۲) آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ گنجان محلّوں میں مختلف بلکہ متضاد تقریبیں ایک دوسرے میں بڑی خوبی سے ضم ہو جاتی ہیں۔ گویا دونوں وقت مل رہے ہوں۔ چنانچہ اکثر حضرات دعوت ولیمہ میں ہاتھ دھوتے وقت چہلُم کی بریانی کی ڈکار لیتے، یا سویم میں شبینہ فتوحات کی لذیذ داستان سناتے پکڑے جاتے ہیں۔ لذّتِ ہمسایگی کا یہ نقشہ بھی اکثر دیکھنے میں آیا کہ ایک کوارٹر میں ہنی مون منایا جا رہا ہے تو رت جگا دیوار کے اس طرف ہو رہا ہے۔ اور یوں بھی ہوتا ہے کہ دائیں طرف والے گھر میں آدھی رات کو قوال بلّیاں لڑا رہے ہیں، تو حال بائیں طرف والے گھر میں آ رہا ہے۔ آمدنی ہمسائے کی بڑھتی ہے تو اس خوشی میں ناجائز خرچ ہمارے گھر کا بڑھتا ہے اور یہ سانحہ بھی بارہا گزرا کہ مچھلی طرحدار پڑوسن نے پکائی اور مدّتوں اپنے بدن سے تری خوشبو آئی اس تقریبی گھپلے کا صحیح اندازہ مجھے دوسرے دن ہوا جب ایک شادی کی تقریب میں تمام وقت مرحوم کی وفات حسرت آیات کے تذکرے ہوتے رہے۔ ایک بزرگ نے، کہ صورت سے خود پا بہ رکاب معلوم ہوتے تھے، تشویش ناک لہجے میں پوچھا، آخر ہوا کیا؟ جواب میں مرحوم کے ایک ہم جماعت نے اشاروں کنایوں میں بتایا کہ مرحوم جوانی میں اشتہاری امراض کا شکار ہو گئے۔ ادھیڑ عمر میں جنسی تونس میں مبتلا رہے۔ لیکن آخری ایام میں تقویٰ ہو گیا تھا۔ "پھر بھی آخر ہوا کیا؟” پا بہ رکاب مرد بزرگ نے اپنا سوال دہرایا۔ "بھلے چنگے تھے۔ اچانک ایک ہچکی آئی اور جاں بحق ہو گئے” دوسرے بزرگ نے انگوچھے سے ایک فرضی آنسو پوچھتے ہوئے جواب دیا۔ "سنا ہے چالیس برس سے مرض الموت میں مبتلا تھے” ایک صاحب نے سوکھے سے مُنہ سے کہا۔ "کیا مطلب؟” "چالیس برس سے کھانسی میں مبتلا تھے اور آخر اسی میں انتقال فرمایا۔” "صاحب! جنّتی تھے کہ کسی اجنبی مرض میں نہیں مرے۔ ورنہ اب تو میڈیکل سائنس کی ترقی کا یہ حال ہے کہ روز ایک نیا مرض ایجاد ہوتا ہے۔” "آپ نے گاندھی گارڈن میں اس بوہری سیٹھ کو کار میں چہل قدمی کرتے نہیں دیکھا جو کہتا ہے کہ میں ساری عمر دمے پر اتنی لاگت لگا چکا ہوں کہ اب اگر کسی اور مرض میں مرنا پڑا تو خدا کی قسم، خودکشی کر لوں گا۔ "مرزا چٹکلوں پر اتر آئے۔ "واللہ! موت ہو تو ایسی ہو! (سسکی) مرحوم کے ہونٹوں پر عالم سکرات میں بھی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔” "اپنے قرض خواہوں کا خیال آ رہا ہو گا” مرزا میرے کان میں پھُسپھُسائے۔ "گنہ گاروں کا منہ مرتے وقت سؤرجیسا ہوتا ہے، مگر چشم بد دُور۔ مرحوم کا چہرہ گلاب کی طرح کھلا ہوا تھا۔” "صاحب! سلیٹی رنگ کا گلاب ہم نے آج تک نہیں دیکھا” مرزا کی ٹھنڈی ٹھنڈی ناک میرے کان کو چھونے لگی اور ان کے منہ سے کچھ ایسی آوازیں نکلنے لگیں جیسے کوئی بچہ چمکیلے فرنیچر پر گیلی انگلی رگڑ رہا ہو۔ اصل الفاظ تو ذہن سے محو ہو گئے، لیکن اتنا اب بھی یاد ہے کہ انگوچھے والے بزرگ نے ایک فلسفیانہ تقریر کر ڈالی، جس کا مفہوم کچھ ایسا ہی تھا کہ جینے کا کیا ہے۔ جینے کو تو جانور بھی جی لیتے ہیں، لیکن جس نے مرنا نہیں سیکھا، وہ جینا کیا جانے، ایک متبسم خود سپردگی، ایک بے تاب آمادگی کے ساتھ مرنے کے لیے ایک عمر کا ریاض درکار ہے۔ یہ بڑے ظرف، بڑے حوصلے کا کام ہے، بندہ نواز! پھر انہوں نے بے موت مرنے کے خاندانی نسخے اور ہنستے کھیلتے اپنی روح قبض کرانے کے پینترے کچھ ایسے استادانہ تیور سے بیان کیے کہ ہمیں عطائی مرنے والوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نفرت ہو گئی۔ خاتمۂ کلام اس پر ہوا کہ مرحوم نے کسی روحانی ذریعہ سے سن گن پالی تھی کہ میں سنیچر کو مر جاؤں گا۔ "ہر مرنے والے کے متعلّق یہی کہا جاتا ہے” با تصویر قمیض والا ٹیڈی بوائے بولا۔ "کہ وہ سنیچر کو مر جائے گا؟” مرزا نے اس بد لگام کا منہ بند کیا۔ انگوچھے والے بزرگ نے شئے مذکور سے، پہلے اپنے نری کے جوتے کی گرد جھاڑی، پھر پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے مرحوم کے عرفان مرگ کی شہادت دی کہ جنت مکانی نے وصال سے ٹھیک چالیس دن پہلے مجھ سے فرمایا تھا کہ انسان فانی ہے! انسان کے متعلق یہ تازہ خبر سن کر مرزا مجھے تخلیے میں لے گئے۔ در اصل تخلیے کا لفظ انھوں نے استعمال کیا تھا، ورنہ جس جگہ وہ مجھے دھکیلتے ہوئے لے گئے، وہ زنانے اور مردانے کی سرحد پر ایک چبوترہ تھا، جہاں ایک میراثن گھونگھٹ نکالے ڈھولک پر گالیاں گا رہی تھی۔ وہاں انھوں نے اس شغف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جو مرحوم کو اپنی موت سے تھا، مجھے آگاہ کیا کہ یہ ڈراما تو جنت مکانی اکثر کھیلا کرتے تھے۔ آدھی آدھی راتوں کو اپنی ہونے والی بیواؤں کو جگا کر دھمکیاں دیتے کہ میں اچانک اپنا سایہ تمھارے سر سے اٹھا لوں گا۔ چشم زون میں مانگ اجاڑ دوں گا۔ اپنے بے تکلف دوستوں سے بھی کہا کرتے کہ و اللہ! اگر خود کشی جرم نہ ہوتی تو کبھی کا اپنے گلے میں پھندا ڈال لیتا۔ کبھی یوں بھی ہوتا کہ اپنے آپ کو مردہ تصور کر کے ڈکرانے لگتے اور چشم تصور سے منجھلی کے سونٹا سے ہاتھ دیکھ کر کہتے: بخدا! میں تمہارا رنڈاپا نہیں دیکھ سکتا۔ مرنے والے کی ایک ایک خوبی بیان کر کے خشک سسکیاں بھرتے اور سسکیوں کے درمیان سگرٹ کے کش لگاتے اور جب اس عمل سے اپنے اوپر وقت طاری کر لیتے تو رو مال سے بار بار آنکھ کے بجائے اپنی ڈبڈبائی ہوئی ناک پونچھتے جاتے۔ پھر جب شدت گریہ سے ناک سرخ ہو جاتی تو ذرا صبر آتا اور وہ عالم تصّور میں اپنے کپکپاتے ہوئے ہاتھ سے تینوں بیواؤں کی مانگ میں یکے بعد دیگرے ڈھیروں افشاں بھرتے۔ اس سے فارغ ہو کر ہر ایک کو کہنیوں تک مہین مہین، پھنسی پھنسی چوڑیاں پہناتے (بیاہتا کو چوڑیاں کم پہناتے تھے)۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی مرزا کو کئی مرتبہ ٹوک چکا تھا کہ خاقانیِ ہند استاد ذوقؔ ہر قصیدے کے بعد منہ بھر بھر کے کُلّیاں کیا کرتے تھے۔ تم پر ہر کلمے، ہر فقرے کے بعد واجب ہیں، لیکن اس وقت مرحوم کے بارے میں یہ اول جلول باتیں اور ایسے واشگاف لہجے میں سن کر میری طبیعت کچھ زیادہ ہی منغّض ہو گئی۔ میں نے دوسروں پر ڈھال کر مرزا کو سُنائی: "یہ کیسے مسلمان ہیں مرزا! دعائے مغفرت نہیں کرتے، نہ کریں۔ مگر ایسی باتیں کیوں بناتے ہیں یہ لوگ؟” "خلق خدا کی زبان کس نے پکڑی ہے۔ لوگوں کا منہ تو چہلم کے نوالے ہی سے بند ہوتا ہے۔ ” (۳) مجھے چہلم میں بھی شرکت کا اتفاق ہوا۔ لیکن سوائے ایک نیک طینت مولوی صاحب کے جو پلاؤ کے چاولوں کی لمبائی اور گلاوٹ کو مرحوم کے ٹھیٹ جنّتی ہونے کی نشانی قرار دے رہے تھے، بقیہ حضرات کی گل افشانی گفتار کا وہی انداز تھا۔ وہی جگ جگے تھے، وہی چہچہے! ایک بزرگوار جو نان قورمے کے ہر آتشیں لقمے کے بعد آدھا آدھا گلاس پانی پی کر قبل از وقت سیر بلکہ سیراب ہو گئے تھے، منہ لال کر کے بولے کہ مرحوم کی اولاد نہایت نا خلف نکلی۔ مرحوم و مغفور شدومد سے وصیت فرما گئے تھے، کہ میری مٹی بغداد لے جائی جائے۔ لیکن نافرمان اولاد نے ان کی آخری خواہش کا ذرا پاس نہ کیا۔ اس پر ایک منہ پھٹ پڑوسی بول اٹھے "صاحب! یہ مرحوم کی سراسر زیادتی تھی کہ انہوں نے خود تو تا دم مرگ میونسپل حدود سے قدم باہر نہیں نکالا۔ حد یہ کہ پاسپوڑٹ تک نہیں بنوایا اور۔۔ ۔۔” ایک وکیل صاحب نے قانونی موشگافی کی "بین الاقوامی قانون کے بموجب پاسپورٹ کی شرط صرف زندوں کے لیے ہے۔ مردے پاسپورٹ کے بغیر بھی جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔” "لے جائے جا سکتے ہیں” مرزا پھر لقمہ دے گئے۔ "میں کہہ رہا تھا کہ یوں تو ہر مرنے والے کے سینے میں یہ خواہش سلگتی رہتی ہے کہ میرا کانسی کا مجسّمہ (جسے قدِ آدم بنانے کے لیے بسا اوقات اپنی طرف سے پورے ایک فٹ کا اضافہ کرنا پڑتا ہے) میونسپل پارک کے بیچوں بیچ استادہ کیا جائے اور۔۔ ۔۔ ۔” "اور جملہ نازنینان شہر چار مہینے دس دن تک میرے لاشے کو گود میں لیے، بال بکھرائے بیٹھی رہیں” مرزا نے دوسرا مصرع لگایا۔ "مگر صاحب! وصّیتوں کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ چھٹپن کا قصّہ ہے۔ پیپل والی حویلی کے پاس ایک جھونپڑی میں 39ء تک ایک افیمی رہتا تھا۔ ہمارے محتاط اندازے کے مطابق عمر 66 سال سے کسی طرح کم نہ ہو گی، اس لیے کہ خود کہتا تھا کہ پینسٹھ سال سے تو افیم کھا رہا ہوں۔ چوبیس گھنٹے انٹا غفیل رہتا تھا۔ ذرا نشہ ٹوٹتا تو مغموم ہو جاتا۔ غم یہ تھا کہ دنیا سے بے اولادا جا رہا ہوں۔ اللہ نے کوئی اولاد دیرینہ نہ دی جو اس کی بان کی چارپائی کی جائز وارث بن سکے! اس کے متعلق محلے میں مشہور تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد سے نہیں نہایا ہے۔ اس کو اتنا تو ہم نے بھی کہتے سنا کہ خدا نے پانی صرف پینے کے لیے بنایا تھا مگر انسان بڑا ظالم ہے راحتیں اور بھی ہیں غُسل کی راحت کے سوا ہاں تو صاحب! جب اس کا دم آخر ہونے لگا تو محلے کی مسجد کے امام کا ہاتھ اپنے ڈوبتے دل پر رکھ کر یہ قول و قرار کیا کہ میری میت کو غسل نہ دیا جائے۔ بس پولے پولے ہاتھوں سے تیمّم کرا کے کفنا دیا جائے ورنہ حشر میں دامن گیر ہوں گا۔ ” وکیل صاحب نے تائید کرتے ہوئے فرمایا "اکثر مرنے والے اپنے کرنے کے کام پسماندگان کو سونپ کر ٹھنڈے ٹھنڈے سدھار جاتے ہیں۔ پچھلی گرمیوں میں دیوانی عدالتیں بند ہونے سے چند یوم قبل ایک مقامی شاعر کا انتقال ہوا۔ واقعہ ہے کہ ان کے جیتے جی کسی فلمی رسالے نے بھی ان کی عُریاں نظموں کو شرمندۂ طباعت نہ کیا۔ لیکن آپ کو حیرت ہو گی کہ مرحوم اپنے بھتیجے کو ایصال ثواب کی یہ راہ سُجھا گئے کہ بعد مُردن میرا کلام حنائی کاغذ پر چھپوا کر سال کے سال میری برسی پر فقیروں اور مدیروں کو بلا ہدیہ تقسیم کیا جائے۔ پڑوسی کی ہمت اور بڑھی "اب مرحوم ہی کو دیکھیے۔ زندگی میں ہی ایک قطعۂ اراضی اپنی قبر کے لیے بڑے ارمانوں سے رجسٹری کرا لیا تھا گو کہ بچارے اس کا قبضہ پورے بارہ سال بعد لے پائے۔ نصیحتوں اور وصیتوں کا یہ عالم تھا کہ موت سے دس سال پیشتر اپنے نواسوں کے ایک فہرست حوالے کر دی تھی، جس میں نام بنام لکھا تھا کہ فلاں ولد فلاں کو میرا منہ نہ دکھایا جائے۔ (جن حضرات سے زیادہ آزردہ خاطر تھے، ان کے نام کے آگے ولدیت نہیں لکھی تھی۔) تیسری شادی کے بعد انہیں اس کا طویل ضمیمہ مرتب کرنا پڑا، جس میں تمام جوان پڑوسیوں کے نام شامل تھے۔” "ہم نے تو یہاں تک سنا ہے کہ مرحوم نہ صرف اپنے جنازے میں شرکا کی تعداد متعین کر گئے بلکہ آج کے چہلم کا ’مینو’ بھی خود ہی طے فرما گئے تھے۔” وکیل نے خاکے میں شوخ رنگ بھرا۔ اس نازک مرحلے پر خشخشی داڑھی والے بزرگ نے پلاؤ سے سیر ہو کر اپنے شکم پر ہاتھ پھیرا اور ’مینو’ کی تائید و توصیف میں ایک مسلسل ڈکار داغی، جس کے اختتام پر اس معصوم حسرت کا اظہار فرمایا کہ کاش آج مرحوم زندہ ہوتے تو یہ انتظامات دیکھ کر کتنے خوش ہوتے! اب پڑوسی نے تیغ زبان کو بے نیام کیا "مرحوم سدا سے سُوء ہضم کے مریض تھے۔ غذا تو غذا، بچارے کے پیٹ میں بات تک نہیں ٹھیرتی تھی۔ چٹ پٹی چیزوں کو ترستے ہی مرے۔ میرے گھر میں سے بتا رہی تھیں کہ ایک دفعہ ملیریا میں سرسام ہو گیا اور لگے بہکنے۔ بار بار اپنا سر منجھلی کے زانو پر پٹختے اور سہاگ کی قسم دلا کر یہ وصیت کرتے تھے کہ ہر جمعرات کو میری فاتحہ، چاٹ اور کنواری بکری کی سری پر دلوائی جائے۔” مرزا پھڑک ہی تو گئے۔ ہونٹ پر زبان پھیرتے ہوئے بولے "صاحب! وصیتوں کی کوئی حد نہیں۔ ہمارے محلے میں ڈیڑھ پونے دو سال پہلے ایک اسکول ماسٹر کا انتقال ہوا، جنھیں میں نے عید بقر عید پر بھی سالم و ثابت پاجامہ پہنے نہیں دیکھا۔ مگر مرنے سے پہلے وہ بھی اپنے لڑکے کو ہدایت کر گئے کہ پل بنا، چاہ بنا، مسجد و تالاب بنا! لیکن حضور ابّا کی آخری وصیت کے مطابق فیض کے اسباب بنانے میں لڑکے کی مفلسی کے علاوہ ملک کا قانون بھی مزاحم ہوا۔” "یعنی کیا؟” وکیل صاحب کے کان کھڑے ہوئے۔ "یعنی یہ کہ آج کل پُل بنانے کی اجازت صرف پی۔ ڈبلیو۔ ڈی کو ہے۔ اور بالفرض محال کرچی میں چار فٹ گہرا کنواں کھود بھی لیا تو پولیس اس کا کھاری کیچڑ پینے والوں کا چالان اقدام خود کشی میں کر دے گی۔ یوں بھی پھٹیچر سے پھٹیچر قصبے میں آج کل کنویں صرف ایسے ویسے موقعوں پر ڈوب مرنے کے لیے کام آتے ہیں۔ رہے تالاب، تو حضور! لے دے کے ان کا یہ مصرف رہ گیا ہے کہ دن بھر ان میں گاؤں کی بھینسیں نہائیں اور صبح جیسی آئی تھیں، اس سے کہیں زیادہ گندی ہو کر چراغ جلے باڑے میں پہنچیں۔ ” خدا خدا کر کے یہ مکالمہ ختم ہوا تو پٹاخوں کا سلسلہ شروع ہو گیا: "مرحوم نے کچھ چھوڑا بھی؟” "بچے چھوڑے ہیں!” "مگردوسرا مکان بھی تو ہے۔” "اس کے کرایے کو اپنے مرزا کی سالانہ مرمت سفیدی کے لیے وقت کر گئے ہیں۔” "پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ بیاہتا بیوی کے لیے ایک انگوٹھی بھی چھوڑی ہے۔ اگر اس کا نگینہ اصلی ہوتا تو کسی طرح بیس ہزار سے کم کی نہیں تھی۔” "تو کیا نگینہ جھوٹا ہے؟” "جی نہیں۔ اصلی امی ٹیشن ہے!” "اور وہ پچاس ہزار کی انشورنس پالیسی کیا ہوئی؟” "وہ پہلے ہی منجھلی کے مہر میں لکھ چکے تھے۔” "اس کے بارے میں یار لوگوں نے لطیفہ گھڑ رکھا ہے کہ منجھلی بیوہ کہتی ہے کہ سرتاج کے بغیر زندگی اجیرن ہے۔ اگر کوئی ان کو دوبارہ زندہ کر دے تو میں بخوشی دس ہزار لوٹانے پر تیار ہوں۔” "مرحوم اگر ایسا کرتے ہیں تو بالکل ٹھیک کرتے ہیں۔ ابھی تو ان کا کفن بھی میلا نہیں ہوا ہو گا۔ مگر سننے میں آیا ہے کہ منجھلی نے رنگے چنے دوپٹے اوڑھنا شروع کر دیا ہے۔” "اگر منجھلی ایسا کرتی ہے تو بالکل ٹھیک کرتی ہے۔ آپ نے سنا ہو گا کہ ایک زمانے میں لکھنؤ کے نچلے طبقے میں یہ رواج تھا کہ چالیسویں پر نہ صرف انواع و اقسام کے پر تکلف کھانوں کا اہتمام کیا جاتا، بلکہ بیوہ بھی سولہ سنگھار کر کے بیٹھتی تھی تاکہ مرحوم کی ترسی ہوئی روح کماحقہ، متمتّع ہو سکے۔” مرزا نے ’ح’ اور ’ع’ صحیح مخرج سے ادا کرتے ہوئے مَرے پر آخری دُرّہ لگایا۔ واپسی پر راستے میں میں نے مرزا کو آڑے ہاتھوں لیا "جمعہ کو تم نے وعظ نہیں سنا؟ مولوی صاحب نے کہا تھا کہ مَرے ہوؤں کا ذکر کرو تو اچھائی کے ساتھ۔ موت کو نہ بھولو کہ ایک نہ ایک دن سب کو آنی ہے۔” سڑک پار کرتے کرتے ایک دم بیچ میں اکڑ کر کھڑے ہو گئے۔ فرمایا "اگر کوئی مولوی یہ ذمّہ لے لے کہ مرنے کے بعد میرے نام کے ساتھ رحمۃ اللہ لکھا جائے گا تو آج ہی۔۔ ۔۔ اِسی وقت، اِسی جگہ مرنے کے لیے تیآر ہوں۔ تمہاری جان کی قس سم!” آخری فقرہ مرزا نے ایک بے صبری کار کے بمپر پر تقریباً اکڑوں بیٹھ کر جاتے ہوئے ادا کیا۔
  3. کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی تری بات بات کی روشنی مِرے حرف حرف میں بھر سکے ترے لمس کی یہ شگفتگی مرے جسم و جاں میں اُتر سکے کوئی چاندنی کسِی گہرے رنگ کے راز کی مرے راستوں میں بکھر سکے تری گفتگو سے بناؤں میں کوئی داستاں کوئی کہکشاں ہوں محبتوں کی تمازتیں بھی کمال طرح سے مہرباں ترے بازوؤں کی بہار میں کبھی جُھولتے ہُوئے گاؤں میں تری جستجو کے چراغ کو سر شام دِل میں جلاؤں اِسی جھلملاتی سی شام میں لِکھوں نظم جو ترا رُوپ ہو کہیں سخت جاڑوں میں ایک دم جو چمک اُٹھے کوئی خوشگوار سی دھُوپ ہو جو وفا کی تال کے رقص کا کوئی جیتا جاگتا عکس ہو کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی کہ ہر ایک لفظ کے ہاتھ میں ترے نام کی ترے حروف تازہ کلام کے کئی راز ہوں جنھیں مُنکشف بھی کروں اگر تو جہان شعر کے باب میں مِرے دل میں رکھی کتاب میں ترے چشم و لب بھی چمک اٹھیں مجھے روشنی کی فضاؤں میں کہیں گھیر لیں کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی ٭٭٭
  4. قریب تھا تو کسے فُرصت محبّت تھی ہُوا ہے دُور تو اُس کی وفائیں یاد آئیں
  5. محّبت کم نہیں ہو گی مِری آنکھیں سلامت ہیں مِرا دل میرے سینے میں دھڑکتا ہے مُجھے محسوس ہوتا ہے محّبت کم نہیں ہو گی محّبت ایک وعدہ ہے جو سچاّئی کی ان دیکھی کسی ساعت میں ہوتا ہے کِسی راحت میں ہوتا ہے یہ وعدہ شاعری بن کر مرے جذبوں میں دھُلتا ہے مجھے محسوس ہوتا ہے محّبت کم نہیں ہو گی محّبت ایک موسم ہے کہ جس میں خواب اُگتے ہیں تو خوابوں کی ہری شاخیں گُلابوں کو بُلاتی ہیں انھیں خُوشبو بناتی ہیں یہ خُوشبو جب ہماری کھڑکیوں پر دستکیں دے کر گُزرتی ہے مُجھے محسوس ہوتا ہے محّبت کم نہیں ہو گی ٭٭٭
  6. عُمر رائیگاں کر دی تب یہ بات مانی ہے موت اور محّبت کی ایک ہی کہانی ہے کھیل جو بھی تھا جا ناں اب حساب کیا کرنا جیت جس کسی کی ہو ہم نے بار مانی ہے وصل پر بھی نادم تھے ہجر پر بھی شرمندہ وہ بھی رائیگانی تھی یہ بھی رائیگانی ہے یہ مِرا ہُنر تیری خوشبوؤں سے وابستہ میرے سارے لفظوں پر تیری حکمرانی ہے جانے کون شہزادہ کب چُرا کے لے جائے وہ جو اپنے آنگن میں خُوشبوؤں کی رانی ہے ٭٭٭
  7. خامشی سے ہاری میں خامشی سے ہاری میں جان تجھ پہ واری میں تِیرگی کے موسم میں روشنی … پُکاری میں عِشق میں بکھرنے تک حوصلہ نہ ہاری میں ڈھونڈنے وفا نِکلی قِسمتوں کی ماری میں اُس طرف زمانہ تھا اِس طرف تھی ساری میں زندگی کی بے سمتی دیکھ تجھ سے باری میں
  8. کون روک سکتا ہے لاکھ ضبطِ خواہش کے بے شمار دعوے ہوں اُس کو بھُول جانے کے بے پنہ اِرادے ہوں اور اس محبت کو ترک کر کے جینے کا فیصلہ سُنانے کو کتنے لفظ سوچے ہوں دل کو اس کی آہٹ پر برَملا دھڑکنے سے کون روک سکتا ہے پھر وفا کے صحرا میں اُس کے نرم لہجے اور سوگوار آنکھوں کی خُوشبوؤں کو چھُونے کی جستجو میں رہنے سے رُوح تک پگھلنے سے ننگے پاؤں چلنے سے کون روک سکتا ہے آنسوؤں کی بارش میں چاہے دل کے ہاتھوں میں ہجر کے مُسافر کے پاؤں تک بھی چھُو آؤ جِس کو لَوٹ جانا ہو اس کو دُور جانے سے راستہ بدلنے سے دُور جا نکلنے سے کون روک سکتا ہے
  9. کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے برف کے پگھلنے میں دیر کِتنی لگتی ہے اُس نے ہنس کے دیکھا تو مُسکرا دیے ہم بھی ذات سے نکلنے میں دیر کِتنی لگتی ہے ہجر کی تمازت سے وصَل کے الاؤ تک لڑکیوں کے جلنے میں دیر کِتنی لگتی ہے بات جیسی بے معنی بات اور کیا ہو گی بات کے مُکرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے زعم کِتنا کرتے ہو اِک چراغ پر اپنے اور ہَوا کے چلنے میں دیر کِتنی لگتی ہے جب یقیں کی بانہوں پر شک کے پاؤں پڑ جائیں چوڑیاں بِکھرنے میں دیر کِتنی لگنی ہے
  10. اِک پشیمان سی حسرت سے مُجھے سوچتا ہے اب وُہی شہر محبت سے مُجھے سوچتا ہے میں تو محدُود سے لمحوں میں مِلی تھی اُس سے پھر بھی وہ کِتنی وضاحت سے مُجھے سوچتا ہے جِس نے سوچا ہی نہ تھا ہجر کا ممکن ہونا دُکھ میں ڈوُبی ہُوئی حیرت سے مُجھے سوچتا ہے میں تو مَر جاؤں اگر سوچتے لگ جاؤں اُسے اور وہ کِتنی سہُولت سے مُجھے سوچتا ہے گرچہ اب ترکِ مراسم کو بہت دیر ہُوئی اب بھی وہ میری اجازت سے مُجھے سوچتا ہے کِتنا خوش فہم ہے وہ شخص کہ ہر موسم میں اِک نئے رُخ نئی صُورت سے مُجھے سوچتا ہے
  11. ضمیر واحد متبسم مشتاق احمد یوسفی غالب کا ایک بہت مشہور مصرع ہے ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے اس مصرع کو گزشتہ ۵۰ برسوں سے ہر اچھا آدمی اور ہر بری حکومت اپنے دفاع میں پیش کرتے آئے ہیں۔ شعر کا اگر پہلا مصرع نہ پڑھا جائے تو پہلی نظر میں یہ مصرع سوالیہ معلوم ہوتا ہے مگر درحقیقت ہے استفہام انکاری۔ اس کا مطلب ہم یہ سمجھے کہ اگر آپ سے پوچھا جائے، کیا آپ نے کوئی ایسا شخص دیکھا ہے جسے سبھی اچھا کہیں تو آپ کے ذہن میں اپنے سوا کسی اور کا نام نہ آئے! اس کا سبب اپنی ذات سے عقیدت کی زیادتی ہوتا ہے۔ اب ذرا دیر کو اس نقیض یعنی الٹ پر بھی غور کیجیے۔ فرض کیجیے میں ورڈلی وزڈم (فراست ارضی) سے لبریز اور بحر سے خارج مصرع اس طرح کہتا: ایسا بھی کوئی ہے کہ برا جس کو سب کہیں تو ذہن میں ایسے ایسے اور اتنے سارے نام آئیں گے کہ انھیں لب پہ لاتے ہوئے اپنے معصوم بال بچوں کا خیال آ جائے گا۔ مطلب یہ کہ دوسروں کے بارے میں اچھی بری رائے معلوم کرنے کی خاطر دنیا جہاں سے ’پنگا‘ تھوڑا ہی لینا ہے۔ یہ تو ہوا غالب کے مصرعے کا الٹا سیدھا لیکن مجھے تو اس مصرعے میں استفہام اقرار و استثنائی بھی نظر آتا ہے۔ میں اپنے بائی پاس شدہ دل اور اپنی چاروں کتابوں پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں … جسے کسی اعتبار سے مختصر نہیں کہا جاسکتا … ایک ایسابھی خدا کا بندہ دیکھا ہے جسے اس کی زندگی میں اور اس کے رخصت ہونے کے بعد بھی کسی نے برا نہیں کہا۔ یہ فوزِ عظیم اور رتبہ بلند جسے ملا اسے سب کچھ مل گیا۔ سید ضمیر جعفری مرحوم و مغفور کو سب نے اچھا اس لیے کہا کہ وہ واقعی اچھے تھے۔ انھوں نے کبھی کسی کا برا نہیں چاہا،کسی کو برا نہیں کہا۔ کسی کے برے میں نہیں تھے اور ایسا کسی مصلحت عافیت بینی یا صلح جوئی کی پالیسی کے تحت نہیں کیا بلکہ انھوں نے سب سے محبت کی جو بے لاگ، بے غرض اور غیر مشروط تھی۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ لوگ ڈنر یا محفل ختم ہو جانے کے بعد بھی اٹھنے کا نام نہیں لیتے۔ انھیں یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ اگر ہم چلے گئے تو عزیز ترین دوست ہماری غیبت شروع کر دیں گے مگر اللہ کے ایسے بھی منتخب بندے ہیں جن کے نام اور کام کا غلغلہ ان کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اور زیادہ بلند ہوتا ہے۔ ضمیر جعفری انہی نیک نام اور نایاب و عجوبۂ روزگار بندوں میں سے ایک تھے۔ مجھے ان سے قربت، گاڑھی ، دوستی یا گستاخانہ بے تکلفی کا دعویٰ نہیں۔ میری نیاز مندی کی مدت کم و بیش 50 برس بنتی ہے۔ یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں میں نے یہ وضاحت آغازِ گفتگو میں کرنی اس لیے بھی ضرور سمجھی تھی کہ میری ارادت اور تعلق خاطر کی مدت کے تعین کے ساتھ ساتھ سامعین کو میرے سن ِ پیدائش تک پہنچنے میں ذہن پر زیادہ زور نہ دینا پڑے۔ ہماری عمروں میں اتنا زیادہ تفاوت نہیں تھا کہ وہ مجھے ’جیسے رہو لکھتے رہو‘‘ کہہ کر میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیریں اور نہ یہ فرق اتنا کم تھا کہ میں ان کے ہاتھ یا زانو پہ ہاتھ مار کے یا تین منٹ بعد ان کے چٹخارے وار فقرے کی داد دوں۔ تین منٹ کی وقفہ بندی اس لیے کہ پیر و مرشد کے ملفوظات اور گل افشانی ِ گفتار کی رفتار کا یہی عالم تھا۔ نصف صدی کی طویل مدت بالعموم ایک دوسرے سے بے زار ہونے کے لیے کافی ہوتی ہے اس لیے کہ اتنے عرصے میں سارے عیب و ہنر کھل جاتے ہیں۔ امریکا میں ایک حالیہ سروے سے یہ دل چسپ انکشاف ہوا ہے کہ 50 فی صد جوڑوں کی طلاق شادی کے تین سال کے اندر ہو جاتی ہے۔ اس لیے کہ وہ ایک دوسرے کے مزاج سے اچھی طرح واقف نہیں ہوتے۔ بقیہ 50 فی صد کی طلاق 40 سال بعد ہوتی ہے۔ اس لیے کہ وہ ایک دوسرے کے مزاج سے بہت اچھی طرح واقف ہو جاتے ہیں۔ 50 برس میں دوستانہ تعلق کا وہی حال ہو جاتا ہے جس کی تصویر غالب نے مرزا تفتہ کے نام اپنے خط میں کھینچی ہے۔ لکھتے ہیں: ’’جیسے اچھی جورو برے خاوند کے ساتھ مرنا بھرنا اختیار کرتی ہے۔ میرا تمھارے ساتھ وہ معاملہ ہے۔‘‘ یوں تو غالب کا ہر قول حرفِ آخر کا درجہ رکھتا ہے لیکن مجھے اس میں تھوڑا سا اضافہ کرنے کی اجازت ہو تو عرض کروں گا کہ تعلقات میں مزید پیچیدگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دونوں فریق ایک دوسرے کو اپنی مظلوم زوجہ تصور کر کے اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنے لگتے ہیں مگر ضمیر جعفری کے کیس میں ایسا بجوگ نہیں پڑتا تھا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا، ان کے خلوص کی گہرائی اور شفافیت زیادہ واضح اور آشکارا ہوتی جاتی۔ جیسا کہ ابھی عرض کیا، میں نے انھیں کبھی کسی کی برائی، غیبت یا مذمت کرتے نہیں دیکھا۔دوستانہ ملاقاتوں میں کبھی اپنے اشعار سناتے نہیں دیکھا۔ اپنے کسی دکھ، تکلیف، پریشانی یا الجھن کا ذکر کر کے اوروں کو مغموم کرنا انھوں نے نہیں سیکھا تھا۔ ہمیشہ مسکراہٹیں اور خوشیاں ہی خوشیاں بانٹیں۔ اپنے دکھ درد میںکسی کو شریک نہیں کیا۔ جیسے ہی میں یہاں اپنی آمد و فراغت کی اطلاع دیتا، وہ سارے کام چھوڑ چھاڑ کر ہوٹل آ جاتے۔ دیرینہ بے تکلفی و بے تعلق خاطر کے پیش نظر وہ کرنل محمد خاں کو متروک روزمرہ کے مطابق اپنے ساتھ لِوا لاتے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے چقماق کا درجہ رکھتے تھے۔ نئی نسل کے جن پڑھنے والوں نے چقماق نہیں دیکھی، ان کی آسانی کے لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے پر اپنی ماچس رگڑ کر پھلجھڑیاں چھوڑتے۔ پھر بہ قول نظیر اکبرآبادی تماشا دیدنی ہوتا۔ یوں تو ہم کچھ بھی نہ تھے مثل انار و مہتاب جب ہمیں آگ لگائی تو تماشا نکلا! شروعات ضمیر جعفری کرتے تھے۔ وہ شوشہ چھوڑنا جانتا تھے اور کرنل محمد خاں اس پر شگوفہ کھلانا جانتے تھے۔ ضمیر جعفری کی چٹکی سے چبھن کے بجائے گدگدی ہوتی تھی۔ ایک دن انھوں نے مجھے ہشکارا کہ آج کل کرنل صاحب اپنی کتاب ’’بجنگ آمد‘‘ میں سے اپنے فیورٹ الفاظ چن چن کر نکال رہے ہیں۔ آج صبح سویرے سے اس میں جٹے ہوئے ہیں۔ آپ گھما پھرا کر پوچھیے گا۔ میں نے کرنل صاحب سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ کسی کرم فرما نے مجھے مطلع کیا ہے کہ ’’بجنگ آمد‘‘ میں، میں نے لفظ ’’دھڑلے‘‘ 37 مرتبہ استعمال کیا ہے۔ صبح سے میں 25 ’’دھڑلے‘‘ تو نکال چکا ہوں۔ وہ واقعی اتنے ہی نظر آرہے تھے جتنا کہ کوئی بھی معقول اور صحت مند آدمی 25 دھڑلے خوردبین اور چمنی کی مدد سے نکالنے کے بعد لازمی طور پر نڈھال ہو جائے گا۔ اسی طرح جب کرنل صاحب کا سفرنامہ ٔ برطانیہ ’بسلامت روی‘‘ شائع ہوا تو ضمیر بھائی نے مجھ سے کہا کہ اس کے ہر تیسرے صفحے پر ایک نئی حسینہ ایمان، فارن ایکسچینج اور بڑھاپے کی آزمائش کے لیے جلوہ افروز ہوتی ہے۔ حسیناؤں کی مجموعی تعداد ’’دھڑلوں‘‘ سے بھی زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ برطانیہ کا نام آتے ہی ان کا وہی حال ہوتا ہے جو غالبؔ کا کلکتے کے ذکر سے ہوتا تھا۔ ایک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے! لندن تو ایک طرف رہا، اگر میں کوہاٹ یا ڈیرہ غازی خاں کے سفر کا بھی ذکر کر دوں تو سارا پری خانہ مجھ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ نازنیں بتانِ خود آرا کہ ہائے ہائے۔ خیر گزری کہ برطانیہ میں کل تین مہینے ٹھہرے، ورنہ لاکھوں گھر بگڑ جاتے۔ پھر کہنے لگے کہ کرنل صاحب آج کل نئے ایڈیشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ آپ ان سے کہیے کہ آپ نے سفرنامے میں میمیں بہت ڈال دی ہیں۔ خدارا، ان کی تعداد چار سے نہ بڑھنے دینا۔ مرزا غالب تو ڈھلتی جوانی میں کلکتہ گئے تھے جب کہ کرنل محمد خاں ریٹائرمنٹ کے بعد بڑھاپے کے گلابی جاڑے میں میموں کی زیارت کرنے کے لیے نکلے۔ بڑی ہمت اور حوصلے والے تھے، ورنہ اس مرحلۂ عمر میں بعضا بعضا تو ڈھنگ سے ہائے ہائے کرنے کے لائق بھی نہیں رہتا۔ سہ پہر کو کرنل صاحب سے ضمیر بھائی اور بریگیڈیر صدیق سالک کی موجودگی میں ملاقات ہوئی تو میں نے جی کڑا کر کے عرض کیا۔ ’’کرنل صاحب! کتاب میں نازنینوں کی تعداد آپ کی ذاتی ضرورت سے زیادہ ہے۔ آخر کو مقامی انگریزوں کا بھی حق شفعہ بنتا ہے! نئے ایڈیشن میں تعداد کم از کم نصف کر دیجیے۔‘‘ بولے ’’مجھے خود بھی احساس ہے مگر کیا کروں، جس کو بھی نکالتا ہوں، وہ روتی بہت ہے۔‘‘ پنڈی اور اسلام آباد کی صحبتوں کو بریگیڈیر صدیق سالک بھی ایک زمانے میں باقاعدہ بے قاعدگی سے رونق بخشتے تھے۔ پھر وہ جنرل ضیاء الحق کی تقریریں لکھنے پر مامور ہو گئے اور ہمیں صبر آگیا۔ ایک دن ضمیر جعفری نے وضاحت کی کہ صدیق سالک جنرل صاحب کی تقریروں میں مزاح اس طرح ڈالتا ہے جیسے کرنل محمد خاں نے اپنے سفرنامے میں میمیں ڈالی تھیں۔ ہمیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ جنرل صاحب بھی مزاح کے اثر اور رکاوٹ کے قائل ہوتے جا رہے ہیں۔ مزاحِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں ایک مرتبہ میرے پر اشتیاق بلاوے پر ضمیر بھائی کو آنے میں دیر ہو گئی۔ میں نے دبے الفاظ میں کرب انتظار کی شکایت کی تو بولے، ہوئی تاخیر تو کچھ باعث ِ تاخیر بھی تھا۔ معلوم ہوا کہ باعث ِ تاخیر وہ اپنے سن ِ پیدائش کو گردانتے ہیں۔ یہ تو نہیں کہا کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔ بس اتنی اطلاع دی کہ اب میں جوان نہیں رہا۔ میں نے کہا آپ Understatement سے کام لے رہے ہیں۔ بولے بڑھاپے میں یہ بھی مزہ دیتا ہے۔ میں نے پوچھا ضمیر بھائی! کبھی ڈاڑھی رکھنے کا خیال آتا ہے؟ بولے،کیوں نہیں۔ دشمنوں نے کئی مرتبہ Suggest کیا ہے۔ مگر میں پہلے ہی بہت Overweight ہوں۔ میرے گھٹنے مزید بوجھ نہیں اٹھا سکیں گے۔ اس پر میں نے انھیں تازہ لطیفہ سنایا جو انگریزی محاورے کے مطابق مجھ تک Horse’ Mouth سے براہِ راست پہنچا تھا۔ ہوا یہ کہ ہمارے کرم فرما میجر ابن الحسن نے جو بہت اچھے ادیب، شگفتہ کالم نگار اور بذلہ سنج تھے، اچانک ڈاڑھی رکھ لی۔ ان کی ملاقات شاہ احمد نورانی سے ہوئی تو مولانا نے پوچھا ’’ڈاڑھی رکھنے کے بعد آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟‘‘ میجر ابن الحسن نے جواب دیا ’’روحانی اعتبار سے کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا، لیکن بھوک بہت لگنے لگی ہے۔‘‘ اس مضمون کے سلسلے میں ضمیر جعفری سے نصف صدی قبل ابتدائے شوق کی لمبی ملاقاتوں اور صحبتوں کی یادوں اور باتوں کو ذہن میں تازہ کرنے بیٹھا تو عجیب کیفیت سے دوچار ہوا جس کا قطعاً اندازہ یا اندیشہ نہیں تھا۔ ہم آج بیٹھے ہیں ترتیب دینے دفتر کو ورق جب اس کا اڑا لے گئی ہوا ایک ایک پھر خیال آیا کہ پورٹریٹ نہ سہی، عکس ِ رخ یار سے پس منظر بھی تو دمک اٹھتا ہے، تو پھر ایام رفتہ اور ان بزم آرائیوں کی ایک ہلکی سی جھلک کیوں نہ دکھا دوں جب پہلے پہل ان سے کراچی میں ملاقات ہوئی۔ میں آج مر کے بھی بزم ِ وفا میں زندہ ہوں تلاش کر مری محفل مرا مزار نہ پوچھ جہاں تک میرا حافظہ کام کرتا ہے اور میرا حافظہ بہت دور تک کام کرتا ہے۔ صرف قریب کی باتوں اور واقعات کو یاد رکھنے سے انکاری ہے تو جہاں تک یاد پڑتا ہے۔ ضمیر بھائی سے میرا تعارف 1951 کے اواخر میں نہایت عزیز دوست میاں فضل حسن مرحوم کے توسل سے ہوا۔ فضل صاحب شعر و ادب، شکار اور موسیقی کے رسیا تھے۔ جامع الحیثیات شخصیت، کئی ہزار کتابوں اور ایک مل کے مالک تھے۔ شاعروں اور ادیبوں کو اس طرح جمع کرتے تھے جیسے بچے ڈاک کے استعمال شدہ ٹکٹ یا خارج المیعاد یعنی پرانے سکے جمع کرتے ہیں۔ وہ ہر اتوار کو سات آٹھ شاعروں کو گھیر گھار کر گارڈن ایسٹ میں اپنے دولت کدے پر لاتے جہاں ایک بجے تک گپ اور لنچ کے بعد مشاعرے کا رنگ جمتا۔ لنچ کا ذکر اس لیے بھی کرنا پڑا کہ من جملہ دیگر لذائذ کے دستر خوان پر چنیوٹ کا اچار بھی ہوتا تھا جس میں مجھ سے فرق ناشناس کو بس اتنا ہی فرق معلوم ہوتا تھا کہ زیادہ کھٹا ہوتا ہے اور سرسوں کے تیل میں اٹھایا جاتا ہے جس کی بو مجھے اچھی نہیں لگتی۔ فضل صاحب کہتے تھے جس کیری پہ چنیوٹ کا طوطا بیٹھ جائے وہ بڑی جلدی پکتی اور گدر ہوتی ہے۔ مرزا کہتے ہیں کہ طوطا اگر انڈسٹری پہ بیٹھ جائے تو وہ بھی خوب پھل دیتی ہے۔ ہمارے ناپسندیدہ تیل کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ اس میں الھڑ مٹیاروں کے ہاتھوں کی مست مہک آتی ہے جو سنہرے کھیتوں میں سرسوں چنتی ہیں! ہمیں آج بھی اس تیل کا اچار کھانا پڑا تو یہ سمجھ کے کھاتے ہیں گویا سنہرے کھیتوں میں مذکورہ بالا ہاتھوں سے مصافحہ کر رہے ہیں۔ ان کے ہاں بھینس کا گھی بھی چنیوٹ سے آتا تھا جس کے مخصوص خواص شاہی حکیموں کے نسخوں سے کشید کیے گئے تھے۔ چنیوٹ کی جس بھینس کے گھی میں سالن بنتا تھا، وہ ’’پہلن‘‘ بتائی جاتی تھی یعنی پہلی بار بیاہی ہوئی۔ اس نہلے پر ایک مرتبہ ضمیر صاحب نے یہ دہلا لگایا کہ میں تو صبح ناکتخدا یعنی کنواری بھینس کا مکھن توس پر لگا کر کھاتا ہوں۔ اس دعوے کے ثبوت میں اتنا تن و توش پیش کیا جو ہم جیسے بناسپتی خوروں کے برابر تھا۔ مولانا ماہر القادری کسی ایسے میزبان کی دعوت قبول نہیں کرتے تھے جس کے گھر میں کھانا بناسپتی گھی میں پکتا ہو یا جہاں فرش پر بیٹھ کر کھانا پڑے۔ میرے یہاں دونوں فقیرانہ قباحتیں تھیں۔ چناں چہ کبھی ان کو مدعو کرنے ہمت نہ پڑی۔ فرماتے تھے، کبھی کوئی دھوکے سے بناسپتی گھی میں بنے سالن کا ایک لقمہ بھی کھلا دے تو دوسرے دن پتا چل جاتا ہے۔ لاکھ سر ماروں مصرع موزوں نہیں ہوتا۔ شعر میں کبھی سکتہ پڑتا ہے اور کبھی شتر گربہ ہو جاتا ہے۔ طبیعت میں انشراح کے بجائے قبض محسوس ہوتا ہے۔ شعر رک رک کر آتا ہے۔ فرش پر دستر خوان بچھا کر کھانے کے بارے میں مولانا فرماتے تھے کہ اس طرح بیٹھ کر کھانے سے دائرۂ شکم پچک جاتا ہے اور اشتہا اور معدے کا مکعب انچ (Cubic Inch) رقبہ آدھا رہ جاتا ہے۔ ضمیر جعفری خوش خوراک ضرور تھے مگر رئیسانہ نفاستوں اور نخروں سے دور رہتے تھے۔فرشی نشست انھیں بھی پسند نہیں تھی مگر وجہ دوسری تھی۔ (باقی آئندہ) تشنہ لب را تشنہ تر کردن روا ست (تشنہ لب کو تشنہ تر کرنا روا ہے) جو شعرائے کرام ان ہفتہ وار محفلوں میں شریک ہوتے یا کھینچ بلائے جاتے،ان میں سید ضمیر جعفری ، سید محمد جعفری، ظریف جبل پوری، ادیب سہارن پوری، ماہر القادری، اقبال صفی پوری اور بہزاد لکھنوی نمایاں تھے۔ یوں تو عندلیب شادانی، مجنوں گورکھ پوری ، نشور واحدی بھی دو تین بار ان محفلوں کو رونق بخش چکے تھے۔ ہانکا کرنے والوں میں سید محمد جعفری، مسرت علی صدیقی اور راقم الحروف پیش پیش تھے۔ جو ملاقات آٹھ نو گھنٹے سے کم دورانیہ کی ہو، فضل صاحب اس کا شمار حادثاتی مڈبھیڑ میں کرتے تھے۔ کچھ شاعر اس لیے کتراتے تھے اور ضمیر جعفری ان میں سے ایک تھے۔ وہ کہتے تھے کہ لذیذ غذا کے بعد ہزار بار سنی ہوئی غزلوں سے ہاضمے پر بہت برا اثر پڑتا مگر نیند اچھی آتی ہے۔ دوسری وجہ جو انھوں نے بتائی وہ یہ تھی کہ ان دنوں ان کے پاس حفیظ جالندھری مقیم تھے جو اپنی بیوی کے ساتھ یک جائی اور ضمیر سے ایک گھنٹے کی بھی جدائی برداشت نہیں کرتے تھے۔ متروک سے محاورے کے مطابق صاحب ِ خانہ لنچ پر جو سونے کا نوالہ کھلاتے، اسے اسی جگہ بٹھا کر ذاتی نگرانی میں ہضم کرواتے تھے۔ بات صرف اتنی تھی کہ میاں فضل حسن خوش باش اور محفل باز آدمی تھے اور اپنی صحبت زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ ضمیر لنچ سے پہلے اٹھ جاتے یا سہ پہر کو کھڑے کھڑے آتے۔ صبح 9 بجے کے پکڑے ہوئے شاعر کو شام چھ بجے سے پہلے رہائی نصیب نہیں ہوتی تھی اور شام کو بھی محض اس لیے کہ میاں فضل حسن کے والد گرامی حاجی احمد حسن صاحب غروب آفتاب کے بعد شعر سننے کو مکروہ اور منحوس تصور کرتے تھے۔ بیٹے سے فرماتے تے کہ اگر ایسا ہی شوق ہے تو مشتاق صاحب کے گھر ان کو لے جا کر باقی ماندہ خرافات سن لو۔ ترنم سے شعر سننے کو بد چلنی کا مترنم آغاز سمجھتے تھے۔ خراب شعر اور خراب ترنم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ایسی شاعری اور ترنم سے طبیعت میں اشتعال پیدا نہیں ہوتا۔ گھر پر محفل موسیقی کے سخت خلاف تھے۔ اس زمانے میں دوالے کے بعد جب کسی کا گھر قرق یا نیلام ہوتا تھا تو عدالت کا بیلف اس گھر کے سامنے ڈھول بجوا کر دوالے اور نیلامی کا اعلان کرتا تھا۔ حاجی صاحب فرماتے تھے کہ جس گھر میں طبلے پر تھاپ پڑا یا ٹھیکا لگا اس کے سامنے نیلامی کا ڈھول بجے ہی بجے۔ اپنے بیٹے سے کہتے تھے کہ تمھیں فریدہ خانم کا گانا سننا ہے تو مشتاق صاحب کے یہاں شوق سے طبلہ سارنگی بجواؤ۔ دن میں دھوتی تہمد اور رات کو شلوار پہننے کے خلاف معلوم ہوتے تھے۔ انگریزی فلم دیکھنے کو وہ نری بدمعاشی گردانتے تھے۔ لہٰذا جب سنچرے کو بیٹا انگلش فلم کا میٹنی شو دیکھنے جاتا تو قبلہ خود ساتھ جاتے اور ذاتی نگرانی میں مخرب اخلاق فلم ملاحظہ کرواتے۔ میں اور محمد جعفری باری باری باپ اور بیٹے کے درمیان حد ِ ادب بن کر بیٹھتے۔ ہم دونوں کا کام پدر و پسر کے درمیان ایک پردے کا سا تھا اور پردہ بھی وہ جسے اس زمانے میں کانا پردہ کہتے تھے یعنی صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔ جیسے اسکرین پر کوئی ایسا ویسا سین آتا تو پہلے قبلہ اپنے صاحبزادے کی طرف دیکھتے، پھر ہماری طرف دیکھتے کہ عینک کے پیچھے ہماری آنکھیں کھلی ہیں یا فرط لذت سے بند ہو گئی ہیں۔ وہ بھی صاحب کمال بزرگ تھے۔ ان کی آنکھ Three Dimensional تھی۔ مطلب یہ کہ وہ بیک وقت خود وہ سین دیکھتے، کن انکھیوں سے بیٹے کو دیکھتے اور ہماری بد نظری پر بھی نظر رکھتے۔ کسی ایکٹریس کا نیم برہنہ لباس میں کلوز اپ آتا تو صاحبزادے سے کوئی اہم کاروباری سوال پوچھنے لگتے مثلاً آج جو ڈیڑھ سو روئی کی گٹھریاں خریدی ہیں، انھیں ترپال سے ڈھک دیا ہے کہ نہیں۔ ان پر غصہ اس لیے اور زیادہ آتا تھا کہ اس روٹی کی ایک بھی گٹھری نہیں خریدی گئی تھی اور گزشتہ 100 برس سے اس مہینے میں کبھی بارش نہیں ہوئی تھی اور یہ دونوں باتیں قبلہ کے علم میں تھیں! انھیں انگریزی نہیں آتی تھی۔ نظر انگریزی سے بھی زیادہ کم زور تھی! جیسے ہی اسکرین پر کوئی عورت نظر آتی تو ہم سے پوچھتے ’’مشاق صاحب اس کی کیا عمر ہو گی؟‘‘ ہم دس بارہ برس کم کر کے بتاتے تو اکثر فرماتے کہ امریکن لڑکے لڑکیاں اتاولے باؤلے ہوتے ہیں۔ روزے فرض ہونے کی عمر سے پہلے ہی بدمعاشی شروع کر دیتے ہیں۔ امریکن مستورات شوہر کے مرنے کا انتظار نہیں کرتیں! ایک مرتبہ اسکرین پر ایک انتہائی جذباتی سین آیا۔ بوس و کنار ہوا چاہتا تھا۔ حاجی صاحب نے میرا جلتا ہوا ہاتھ اپنے کانپتے ہاتھ میں لے کر پوچھا ’’یہ زنانی اتنی پریشان اور بے قرار کیوں ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’محبت ہو گئی ہے‘‘ بولے ’’تو پھر نکاح کیوں نہیں کر لیتی؟‘‘ جو مقامات آہ و فغاں میں اپنی ناقص اردو حاجی صاحب کو نہیں سمجھا پاتا تھا وہ محمد جعفری ٹھیٹ پنجابی میں ذہن نشین کرا دیتے تھے۔ وہ پنجابی اور فارسی بہت روانی سے کھرے اور کرارے لہجے میں بولتے تھے۔ ضمیر جعفری کہتے تھے کہ جتنی دیر آپ حضرات فلم دیکھ کر بنانے والے پر لعنت بھیجتے ہیں اتنی دیر میں تو آدمی پنڈی سے مری اور مری سے نتھیا گلی جاسکتا ہے۔ مغز ملی نہاری کھا کر 3گھنٹے سو سکتا ہے۔کسی دوست کا سچا خاکہ لکھ کر اسے ہمیشہ کیلیے گنوا سکتا اور اسی قسم کے بہت سے مفید کام کرسکتا ہے۔ لیکن صرف فلم دیکھنے سے کس روسیاہ کو غرض تھی۔ اس زمانے میں ایرکنڈیشننگ عام نہیں تھی۔ صرف ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹرز ایر کنڈیشنڈ ہوتے تھے لیکن اس سے مستفید ہونے کے لیے پہلے بے ہوش ہونا ضروری تھا البتہ سینما ہال میں یہ شرط نہیں تھی۔ لہٰذا رمضان کے مہینے میں کوئی فلم قضا نہیں ہوتی تھی۔ اس عمل کو روزہ بہلانا کہتے تھے۔ ضمیر جعفری کہتے تھے کہ آپ لوگ فلم کو چسنی کی طرح استعمال کرتے ہیں، جب کہ محمد جعفری فرماتے تھے کہ ایسے ویسے سین کے بعد اگر تین مرتبہ قرأت سے لاحول پڑھ لی جائے تو معافی و مغفرت کی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔ وہ بڑا غفور الرحیم ہے۔ حاجی صاحب سرد و گرم چشیدہ اور جہاں دیدہ بزرگ تھے۔ اپنے بیٹے کے دوستوں پر کڑی نظر رکھتے تھے۔ عاجز کو بہت پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے تھے۔ اس لیے کہ میری قلیل تنخواہ، خراب صحت اور 120 پاؤنڈ وزن کو بد چلنی کے لیے نااہلی کا سرٹیفکیٹ تصور کرتے تھے۔ بیٹے کو نصیحت کی تھی کہ جو شخص بہت اچھے کپڑے بہن کر یا دھوپ کا چشمہ لگا کر آئے اسے ادھار مال ہر گز نہ بیچو۔ اسی طرح جو شخص تم سے بلا وجہ بہت اخلاق و انکسار سے پیش آئے اس سے ہوشیار رہو۔ وہ ایک نہ ایک دن تم سے قرض ضرور مانگے گا۔ ضمیر بھائی سے ان کی خوب بنتی تھی۔ اس کی کئی وجہیں تھیں۔ ضمیر سگریٹ نہیں پیتے اور زیادہ دیر نہیں بیٹھتے تھے۔ جہلم کے تھے۔ وہی جہلم جہاں کے لوگ بہ قول ان کے خدا کے تصور کے لیے تھانے دار کو دیکھتے ہیں۔ حاجی صاحب جہلم کو چنیوٹ خورد گردانتے اور ضمیر جعفری سے خوردوں کا سا برتاؤ کرتے۔ ضمیر جعفری ، حاجی صاحب کو اپنے بزرگ حضرت میاں محمد بخش کے پنجابی اشعار ترنم سے سناتے ۔ وہ یعنی حاجی صاحب ضمیر جعفری کی ’’لکڑی کی ہٹ‘‘ اور محمد جعفری کی ’’بھنگیوں کی ہڑتال‘‘ بڑے شوق سے سنتے۔ اکثر فرماتے کہ ایسی شاعری میں کوئی حرج نہیں۔ نقصان نہیں پہنچاتی۔ ان کے صاحبزادے میاں فضل حسن بھی ہومیو پیتھک دوائیں محض اس لیے کھاتے تھے کہ نقصان نہیں پہنچاتیں! اس کی تصدیق تو ہم بھی کریں گے کہ مرض کے جراثیم کو نقصان نہیں پہنچاتیں۔ ضمیر جعفری ان سے لطیفے نہیں سنتے تھے۔ انھیں بات میں بات نکالنے کا فن آتا تھا۔ ان سے مل کر آپ کو اپنی اور ان کی عمر کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ وہ ہر ایک سے جھک کر ملتے مگر بچکتے کسی سے نہیں تھے۔ وہ پہلے فوجی تھی جس نے اپنی درویشی چھپانے کے لیے یونی فارم پہنی۔ جس دن مولانا ماہر القادری ، ضمیر جعفری اور محمد جعفری یک جا ہوں تو کمرے کی ہر دیوار و دیوار قہقہہ بن جاتی۔ شعر و شاعری ملتوی، نوک جھونک، فقرے بازی اور قہقہوں کے سوا کچھ نہ سنائی دیتا۔ بعض اوقات مولانا کو اپنا مذاق اڑوانے اور چاند ماری کا ہدف بننے میں بھی مزہ آتا تھا اور ادبدا کراس کا مواد و جواز خود مہیا کرتے۔ شاید یہ بھی اللہ کے بندوں کا دل شاد کرنے کی ایک صورت نکالی تھی۔ اتوار کے دن مولانا لباس کے معاملے میں لاپروا نظر آتے تھے۔ ہفتے کے بقیہ دنوں کے بارے میں کچھ عرض نہیں کرسکتا۔ اس لیے کہ ان دنوں ان سے صرف اتوار ی کو ملاقات ہوتی تھی (وہ مجھے بھری محفل میں دو مرتبہ ٹوک چکے تھے کہ لاپروا غلط ہے صحیح بے پروا ہے مگر مجھے تو آج بھی بے پروا میں وہ لاپروائی والی شان اور بے ڈھنگا پن نظر آتا تھا) گرمیوں میں مولانا ململ کے مسلے کرتے اور پاجامے میں بھی با رعب نظر آتے تھے۔ ازار بند اکثر لٹکا رہتا اور کرتے کے نیچے صاف نظر آتا۔ ایک مرتبہ ضمیر جعفری نے ٹوکا تو فرمایا ’’گرہ تو مضبوط ہے‘‘ ضمیر بولے ’’آپ کے عقیدے کی طرح…!‘‘ سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم ِ شمشیر کا ایک دن مولانا ذرا تاخیر سے آئے تو گھبرائے، گھبرائیے سیدھے باتھ روم گئے۔ وہاں سے قہقہے لگاتے لوٹے۔ کہنے لگے کہ بس میں کوئی سیٹ خالی نہیں تھی۔ لہٰذا میں بس کے دروازے کے پاس ہی کھڑا رہ گیا۔ اتنے میں ایک بڑے میاں بس میں چڑھنے لگے۔ اب اسے اتفاق کہیے یا وضعداری، میرا کمربند حسب معمول نیفے سے باہر لٹکا ہوا تھا۔ یہ سراسر میرا نجی معاملہ تھا۔ کچھ دیر تو وہ بڑے میاں بس کا ڈنڈا اور سہارا ڈھونڈتے رہے۔ پھر میرے ازار بند کا کلیدی سرا پکڑ کے پوری طاقت سے اوپر چڑھے۔ گرہ پہلے ہی جھٹکے میں کھل گئی۔ پبلک یا بازار میں کھڑے ہو کر کھانا یا ازار بند باندھنا ہمارے ہاں شرفاء میں خلاف تہذیب سمجھا جاتا ہے لہٰذا میں ازار بند کے دونوں سروں کو دونوں ہاتھوں میں مرغی کی طرح دبوچے کھڑا رہا۔ بس اسٹانڈ سے فضل صاحب کے گھر تک وہ اسی دبوچواں پوز میں تشریف لائے تھے۔ ضمیر جعفری مولانا کے ازار بند کو فریادیوں کے لیے عدل جہانگیری کی زنجیر اور بس کے بوڑھے مسافروں کے لیے عصائے پیری کہتے تھے۔ محمد جعفری کہتے تھے کہ صاحبو، میں نے تو اس واقعے سے ایسی عبرت پکڑی کہ دوسرے دن سے ململ کا ٹرانسپیرنٹ کرتا پہننا چھوڑ دیا۔ بس میں بوڑھے مسافروں کو اپنے ازار بند کے نزدیک نہیں آنے دیتا۔ ضمیر جعفری جس انداز سے اپنے چاہنے والوں سے ملتے تھے، اسے خلوص یا تپاک کہنا کسر بیانی (Under-statement) ہو گا۔ ان کی چھلکتی ہمکتی گرم جوشی اس سے آگے کی چیز تھی۔ ٹیلی فون پر بھی ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ’’جچھی‘‘ ڈال دی ہے اور اپنے 50 انچ چوڑے سینے سے علیٰحدہ نہیں ہونے دیں گے۔ جیسے ہی وہ فون اٹھاتے اور میں کہتا۔ میں یوسفی بول رہا ہوں، تو وہ نہ السلام علیکم کہتے، نہ آداب۔ مزاج پوچھتے نہ حال احوال۔ بلکہ مجھے بھی اتنا موقع نہ دیتے کہ یہ مراسم ادا کرسکوں۔ فون پر بس ایک ایک لفظی نعرہ مستانہ ساسنائی دیتا۔ ’’جناب‘‘ نہ میں نے کسی اور کو اس طرح لفظ ’’جناب‘‘ میں اپنی ساری شخصیت اور پیار کو سموتے سنا، نہ میں ان کے ’’جناب‘‘ کی نقل کرسکتا ہوں۔ ممکن ہے ان کے چھوٹے صاحبزادے جو اپنے ابا کے دلآویز اور گونجیلے ترنم کی بڑی اچھی نقل کرتے ہیں، ان کے ’’جناب‘‘ کی گونج اور گمک بھی سناسکیں۔ وہ ’’جناب‘‘ کے ناکو اپنی مخصوص لے میں اتنا کھینچتے کہ راگ دلار کا الاپ معلوم ہوتا۔ کیسے بتاؤں کہ وہ اس سمپورن الاپ میں کیا کیا سمودیتے تھے۔ ’’کیسے ہیں آپ؟ اتنے دن کہاں انڈر گراونڈ رہے؟ تری آواز مکے اور مدینے۔ آج ہماری تو عید ہو گئی۔ میں اچھا ہوں جیسا کہ آپ نے میری آواز سے اندازہ کر لیا ہو گا۔ آپ کے ’’ہیلو‘‘ سے نقاہت ٹپک رہی تھی۔ صحت کا خیال نہیں رکھتے۔‘‘ مختصر یہ کہ اس ایک ’’جناب‘‘ میں انتظار و اشتیاق ملاقات، طبیعت کی چونچالی، ڈھیروں پیار اور دو طرفہ خیر و عافیت سبھی کچھ آ جاتا تھا۔ ان کا جناب اگر ان کے خلوص و محبت کی صوتی شکل تھی تو ان کے مصافحے اور بغل گیری کو شکنجہ ٔ شفقت و شیفتگی کہا جاسکتا ہے۔ لیکن پستہ قد لوگوں سے معانقہ کرنے سے بالعموم گریز کرتے، اس لیے کہ اس میں انہیں کافی جھکنا اور دوسروں کو پنجوں کے بل کھڑا ہونا پڑتا تھا۔ پیر و مرشد کی اس ادائے خاص کا قدرے تفصیل سے اس لیے بھی ذکر کرنا پڑا کہ مصافحے کے انداز سے لوگوں کے انکسار، تمکنت و رعونت، ملنساری اور Snobbery کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ میں ایک ایسے بڑے افسر سے واقف ہوں جو ایک زمانے میں میرے فدویانہ خلوص میں لتھڑے ہوئے ہاتھ کو مصافحہ کے لیے اپنی انگشت ِ شہادت کی پہلی پور سے اس طرح چھوتے تھے جیسے ٹب میں انگلی ڈال کر کھولتے پانی کا ٹمپریچر دریافت کر رہے ہوں، نہاؤں کہ نہ نہاؤں؟ اب انہیں بھی ریٹائرڈ ہوئے 14 برس ہو گئے۔ کبھی ملتے ہیں تو خود بڑھ کر بڑی گرم جوشی سے بغل گیر ہوتے ہیں۔ اگر آپ کسی بڑے سرکاری Reception میں ایک کونے میں کھڑے ہو کر صرف یہ دیکھتے چلے جائیں کہ مایا سے مایا کر کر لمبے ہاتھ کیسے مل رہی ہے۔ کون کس سے کس طرح ہاتھ ملا رہا ہے تو آپ کو کھڑے کھڑے پتہ چل جائے گا کہ کون صاحب اختیار و اقتدار ہے۔ کون اہل غرض اور حاجت مند ہے۔ کس کی کورکس سے دبتی ہے۔ کس کی گڈی چڑھتی ہے اور وہ جو شامیانے سے باہر قنات کے بانس کا سہارا لیے کھڑا ہے، وہ پرسوں ہی او ایس ڈی بنایا گیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب کار جہاں تمام ہو گا اور عالم بالا میں ان سے ملاقات ہو گی تو وہ اسی روح کو گرما دینے والے نعرے سے خیرمقدم کریں گے۔ جناب! جنت تو ادھر ہے۔ آپ دوسری طرف کیوں جا رہے ہیں؟ ممتاز حسن مرحوم جب بھی اسلام آباد جاتے تو ضمیر جعفری اور Limerick والے نذیر احمد شیخ کے ساتھ ایک بے تکلف اور پر لطف شام ضرور گزارتے۔ ’’راندے وو‘‘ اگر واہ کینٹ ہوتا تو ممتاز حسن صاحب فرمائش کر کے دال پکواتے جسے دری پر دسترخوان بچھا کر نوش کیا جاتا۔ ضمیر جعفری نے ایک ڈنر میں میرا تعارف شیخ صاحب سے کرایا۔ وہاں انہوں نے اپنی مشہور لمرک ’’ارتقائے زبان‘‘ سنائی۔ آپ بھی سنئے۔ بس گئے پنجاب میں روئی کو روں کہنے لگے دلبران لکھنؤ اوئی کواوں کہنے لگے آج کل رنگِ زباں کچھ اور ہے شوخی و حسن بیاں کچھ اور ہے آپ کو تم، تم کو تو اور تو کو توں کہنے لگے اسلام آباد میں ایسی ہی ایک صحبت میں ممتاز حسن صاحب نے اپنے دوست پنڈت ہری چند اختر کا ایک شعر سنایا۔ خدا تو خیرمسلماں تھا، اس سے کیا شکوہ مرے لیے مرے پرماتما سے کچھ نہ ہوا دورانِ گفتگو ضمیر جعفری نے بیان کیا کہ پنڈت ہری چند کی کسی سے ملاقات ہوتی تو کبھی آداب عرض، مزاج شریف، مزاج عالی، کیسی طبیعت ہے یا کیسے ہو؟ نہیں کہتے تھے، اس کے بجائے چھوٹتے ہی پوچھتے تھے، کیا تکلیف ہے؟ ان کی دیکھا دیکھی ان کے مداحین و مقربین بھی مزاج شریف کے بجائے کیا تکلیف ہے؟ کہنے لگے۔ ہمیں یہ انداز پرسش حال کہیں زیادہ سچا، ہمدردانہ و حقیقت پسندانہ اور ڈائریکٹ لگتا ہے۔ اس کی تہہ میں صداقت پر مبنی یہ مفروضہ ہے کہ اگلے کو تکلیف تو یقیناً ہے۔ صرف اس کی نوعیت معلوم کرنی مقصود ہے۔ ہمارا بس چلے تو مزاج شریف اور کیسی طبیعت ہے؟ کے بجائے کیا تکلیف ہے؟ کو National for of salvation ordinance کے ذریعے کم از کم 90 دن کے لیے قانوناً لازمی قرار دے دیں۔ پچھلے تیس ، چالیس برسوں میں ہمارا جو احوال ہوا، اس کی پرسش اور مداوا کے لیے اس سے بہتر حال پرسی کا کوئی فقرہ نہیں ہوسکتا۔ ٹریجڈی یہ ہے کہ بنی نوع انسان کے مصائب کی تمام تر ذمہ داری انسان پر ہی عائد ہوتی ہے جو آپ اپنا مسبب المصائب ہے! کچھ عرصے بعد میں نے اس تجویز کا ذکر ضمیر جعفری سے کیا تو اپنے مخصوص انداز میں ’’اوہوہو‘‘ کہنے کے بعد فرمایا کہ Ordinance کے Sub Section 5.C میں یہ شرط لگا دی جائے کہ جواب میں کوئی شخص ایک سے زیادہ تکلیف بیان نہ کرے ورنہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ ہاتھ میں لیے گھنٹوں کھڑے تکلیفیں گنواتے رہیں گے۔ ان کی انسان دوستی، محبت، رواداری اور درگزر ایک ایک سطر سے جھلکتی ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ خاکوں پر مشتمل ان کی پانچ کتابیں ہیں جن میں کم و بیش 50 خاکے ہیں۔ شخصیت کا کوئی تضاد اور بوالعجبی، معاشرے کی ناہمواری اور کردار کی مضحک پہلوان کی نظر سے نہیں بچتا۔ لیکن وہ تصویر بناتے وقت سیاہ رنگ استعمال نہیں کرتے۔ بلکہ دھیمے، گاتے، گنگناتے، پیسٹل رنگوں سے پورٹریٹ بناتے ہیں۔ باس اور ماتحت کا رشتہ بہت پیچیدہ ، اکثر ناہموار اور بعض اوقات صبر آزما اور بہت جلد آگ پکڑنے والا ہوتا ہے۔ جس کے لیے بالعموم Love Hate Relationship کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ یعنی پیار، پھٹکار، لاچاری و ناچاقی کا ناتا ہوتا ہے۔ ضمیر جعفری کا اوج کمال، وسیع القلبی اور حسِ مزاح کا شاہکار دیکھنا ہو تو ’’حفیظ نامچہ‘‘ پڑھئیے۔ اردو ادب میں اگر کسی کو Boswell یا Pepys کہا جاسکتا ہے تو وہ صرف اور صرف ضمیر جعفری ہیں۔ انہوں نے حفیظ جالندھری کو اپنی تمام دل آویز کم زوریوں کے ساتھ نظروں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ یہی اعجازِ مسیحا ’’سنگاپور کا میجر حسرت‘‘ والے چہچہاتے خاکے میں نظر آتا ہے۔ میں ان کے انداز بیان کو Tongue in the cheek تو نہیں کہوں گا کہ اس میں طعن کا شائبہ محسوس ہوتا ہے۔ ان کا قلب بین السطور مسکراتا رہتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ان کے ہاں پولیٹیکل کمنٹ نہیں ملتا اور اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔وہ کہنے کی سب باتیں ہنسی ہنسی میں کہہ جاتے ہیں۔ یوں بھی اردو غزل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ حکومت میں، میرا مطلب ہے ہر حکومت میں، جتنی بھی خوبیاں اور خرابیاں پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب اردو غزل کے معشوق سے مستعار لی گئی ہیں؟ مثلاً دوست، دشمن میں تمیز نہ کرنا، خیرخواہوں سے دور رہنا، ملاقات سے ڈرنا، رقیبوں اور خوشامدیوں میں گھرے رہنا،’ وعدہ کر کے صاف مکر جانا، سچے عاشق کے مرنے کے بعد اس کا سوگ منانا اور تعریف کرنا وغیرہ۔ غرضیکہ ہر شعر چسپاں ہوتا ہے۔ شخصیت کے نمایاں Contours ہوں یا کسی سچویشن کے مضحک پہلو، فوجی یا دیہی زندگی کی عکاسی ہو یا بوالعجیوں اور تضادات و ناہمواریوں کا ذکر۔ وہ چند لفظوں میں پوری تصویر کھینچنے اور سماں باندھنے پر حیرت انگیز قدرت رکھتے۔ فضا بندی کے لیے وہ لمبے چوڑے میورل یا فریسکو نہیں بناتے بلکہ کسی ترچھے اور تیکھے چغل خور زاویے سے لیے گئے چند اسنیپ شاٹس سے صحبت یاراں کی گل فشانی، گفتار، اسلوب حیات اور زندگی کے مختلف قرنیوں کا ہنستا بولتا مرقع پیش کر دیتے ہیں۔ انجمن ترقی اردو کراچی نے چند برس قبل ان کے اعزاز میں جو یادگار تقریب منعقد کی تھی اس میں انہوں نے ایک بہت دلچسپ تقریر کی۔ اب ذرا اس کمال فن کی داد دیجئے کہ قلم برداشتہ لکھی ہوئی7 سطروں، جی ہاں کل 7 سطروں میں کتنا کچھ سمودیتے ہیں۔ ’’روئیں میں ستار کے تاروں کی طرح بولنے لگی… اور میں مسرت کی سرشاری سے گویا نڈھال ہو گیا… صرف 3 موقعوں پر محسوس ہوا… اول اس دن جب میرے گاؤں کے مڈل اسکول کے طلبہ … جس کے پھٹے پرانے ٹاٹوں پر بیٹھ کر میں نے…’’گاچنی مٹی‘‘ سے پوچی ہوئی تختی پر اپنی زندگی کا پہلا ’’الف‘‘ لکھا تھا… میرے استقبال کے لیے ڈھول کی سنگت پر دھمال ناچتے ہوئے… کھیتوں میں نکل آئے اور پھر ہیڈ ماسٹر کی سرپرستی میں ان بچوں نے … مٹی کی چاٹیوں میں رڑکی ہوئی گھر کی بھینسوں کا تازہ مکھن سے مالا مال لسی کے ساتھ تازہ دہی مکھن میں گتھے شرابور اسی طرح کے سہ منزلہ پر اٹھے کھلائے جیسے تقریباً70 برس قبل میری ’’بے جی‘‘ مجھے مدرسہ کو روانہ کرتے وقت رومال میں باندھ کر آدھی چھٹی میں کھانے کے لیے دیا کرتی تھی۔ پھر گزشتہ برس نومبر 1992 میں وہ موقع میری عظیم مادر ۂعلمی… اسلامیہ ‘‘ اس تقریر اور اس شام کا اختتام جو ان کے نام تھی اپنے ہی اس شعر پر کیا۔ کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شام زندگی وقت جب کم رہ گیا تو کام یاد آئے بہت لیکن یہ حقیقت ہے کہ اپنے کرنے کے کام وہ تمام کر گئے اور ہر کام بڑی رسان سے ہنستے بولتے کیا۔ بحسن و خوبی کیا اور شعر و ادب کا اتنا بڑا اور وقیع و نادر ورثہ چھوڑ گئے کہ ہم سے سنبھالے نہیں سنبھلتا۔ آسماں اس کی لحد پر شبنم افشانی کرے ٭٭٭
  12. سونے کی چونچ سامعہ اسلم ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک جنگل میں ایک مینا اور ایک چڑیا رہتی تھیں۔ دونوں کی آپس میں بہت دوستی تھی۔ وہ مل کر کھیلتیں اور مل کر کام کرتیں۔ ایک دفعہ چڑیا اڑتے اڑتے دور جا نکلی۔ اسے پیاس لگی تو وہ ایک پہاڑ میں سے بہتے ہوئے چشمے سے ٹھنڈا پانی پینے لگی۔ اس پہاڑ میں سے چند قطرے اس کی چونچ پر آن پڑے۔ اسے اپنی چونچ بھاری بھاری محسوس ہونے لگی اس نے ادھر ادھر سر جھٹکا مگر چونچ پر پڑا وزن کم نہ ہو سکا۔ اس نے پہاڑ سے سوال کیا۔ ا ے پہاڑ میری چونچ پر آخر اتنا وزن کیوں ؟ پہاڑ بولا، ننھی چڑیا۔ میں سال میں ایک دفعہ روتا ہوں۔ میرے آنسو سونے کے ہوتے ہیں۔ جب تم نے پانی پیا۔ اتفاق سے میرے آنسوؤں کے چند قطرے تمہاری چونچ پر پڑے اور تمہاری چونچ کے اوپر سونے کا خول چڑھ گیا ہے۔ چڑیا گھر واپس لوٹ آئی۔ اگلے دن سب پرندے چڑیا کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ سونے کی چونچ کی چمک دمک ہی نرالی تھی۔ چڑیا سے سب سونے کی اس چونچ کا راز پوچھتے۔ چڑیا بھولی بھالی ساری کہانی سنا دیتی۔ جنگل میں چڑیا سونے کی چونچ والی مشہور ہو گئی۔ سب اس کی خوبصورتی کی تعریف کرنے لگے۔ باقی تمام چھوٹے پرندے بھی چڑیا سے دوستی کے خواہش مند ہو گئے مینا کو یہ بات پسند نہ آئی۔ اسے چڑیا کی شہرت سے حسد ہونے لگا۔ اسے اپنی کالی چونچ سخت بری لگتی۔ وہ چپکے چپکے کئی بار اس پہاڑ کے نیچے گئی۔ سارا دن گزر جاتا مگر نہ پہاڑ آنسو بہاتا اور نہ ہی مینا کی چونچ سونے کی بنی۔ وہ ہر وقت اسی فکر میں رہتی کہ یا تو میری چونچ سونے کی ہو جائے یا چڑیا کی سونے کی چونچ کھو جائے۔ چڑیا مینا کی حسد بھری نظروں سے بے خبر تھی۔ ایک دن مینا چڑیا کے گھر آئی اور بولی۔ چڑیا بہن کسی زمانے میں ہم دونوں میں کس قدر پیار تھا۔ مگر جب سے تمہاری چونچ سونے کی بنی ہے تم نے مجھے بھلا ہی ڈالا۔ چڑیا بولی۔ مینا کیسی باتیں کرتی ہو میری چونچ ضرور سونے کی بن گئی ہے مگر میں نہیں بدلی ہوں۔ تم دل برا مت کرو۔ مینا بولی اگر یہ بات ہے تو کل رات کا کھانا تم میرے ساتھ کھاؤ۔ مل کر خوب باتیں کریں گے، کھیلیں گے اور پیڑ کی شاخوں پر جھولا جھولیں گے چڑیا نے کہا ضرور کل میں شام کو ہی تمہارے ہاں آ جاؤں گی۔ رات کو واپسی پر جگنو خالو مجھے میرے گھونسلے تک چھوڑ دیں گے۔ مینا چڑیا سے وعدہ لے کر پھر سے اڑ گئی اور سیدھی ڈاکٹر لومڑی کے پاس جا پہنچی۔ ڈاکٹر لومڑی نے مینا کو دیکھ کر کہا آؤ مینا کیسے آنا ہوا؟ کہیں بیمار تو نہیں ہو مینا بولی ڈاکٹر صاحبہ کئی دنوں سے سو نہیں سکی نجانے میری نیند کہاں کھو گئی ہے۔ مہربانی فرما کر مجھے نیند کی دوا دے دیں۔ تاکہ ایک دو دن خوب سو سکوں۔ مینا ڈاکٹر لومڑی سے نیند کی دوا لے کر گھر پہنچی۔ دوائی کو گھونسلے کے ایک کونے میں رکھا اور خود گہری نیند سو گئی۔ اگلے دن چڑیا کے آنے سے پہلے ہی مینا نے دو تین قسم کے اچھے کھانے چڑیا کے لئے تیار کیے۔ انہیں شیشے کی پلیٹوں میں سجایا۔ کھانے میں ڈاکٹر لومڑی کی دی ہوئی نیند کی دوائی شامل کر دی اور کام ختم کر کے چڑیا کا انتظار کرنے لگی۔ بیچاری چڑیا ندی پر جا کر خوب نہائی، پروں میں کنگھی کی، آنکھوں میں سرمہ لگایا اور اپنی سونے کی چمکتی ہوئی چونچ کو خوب چمکایا ا ور مینا کی طرف چل پڑی۔ راستے میں بی بکری سے پھول لئے تو بی بکری بولی واہ چڑیا آج تو پوری ہی سونے کی لگ رہی ہو۔ کیا کسی شادی میں جا رہی ہو۔ چڑیا نے مینا کی دعوت کے بارے میں بتایا اور پھول لے کر چل دی۔ راستے میں ایک درخت پر جگنو خالو نیند کے مزے لے رہے تھے چڑیا نے ان کے کان کے پاس جا کر زور سے چوں چوں کی۔ تو وہ ایک دم سے ڈر کر جاگ گئے۔ چڑیا ہنس دی اور جگنو خالو کو تاکید کرنے لگی کہ رات کو واپسی پر مینا کے گھر سے مجھے میرے گھر تک پہنچا دینا۔ کیونکہ راستے میں اندھیرا ہو جائے گا۔ جگنو خالو نے چڑیا سے وعدہ کر لیا اور چڑیا خوشی خوشی مینا کے گھر جا پہنچی۔ دونوں سہیلیاں بہت پیار سے ملیں۔ کافی دیر بیٹھ کر باتیں کرتی رہیں۔ پھر مینا نے چڑیا کو کھانا پیش کیا۔ چڑیا کو چاول کے دانوں کی کھیر بہت پسند آئی اور اس نے خوب جی بھر کر کھایا۔ مینا پاس بیٹھی چڑیا کو اصرار کر کر کے اور کھلاتی رہی۔ تھوڑی دیر بعد چڑیا کو اپنا سر بھاری محسوس ہونے لگا۔ آنکھیں نیند سے بھرنے لگیں۔ چڑیا نے پر ہلا کر اڑنا چاہا مگر نیند کی دوائی اثر کر چکی تھی اور چڑیا بے ہوش ہو گئی۔ چڑیا کے بے ہوش ہوتے ہی مینا نے جلدی سے چڑیا کی سونے کی چونچ والا خول اتارا اپنی کالی چونچ کاٹی اور اپنے منہ پر سونے کی چونچ سجا لی اور جلدی سے جنگل کی سمت اڑ گئی۔ خالو جگنو مینا کے گھونسلے کے باہر کافی دیر تک چڑیا کا انتظار کرتے رہے۔ مگر چڑیا گھونسلے سے باہر نہ آئی۔ چونکہ جگنو چڑیا سے گھر چھوڑنے کا وعدہ کر چکا تھا۔ اب وہ کسی صورت اپنا وعدہ نہیں توڑنا چاہتا تھا۔ کیونکہ کسی سے بھی وعدہ کرو تو ہمیشہ پورا کرو۔ اسی لئے وہ مینا کے گھونسلے کا دروازہ کھٹکھٹانے لگا۔ لیکن اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔ گھونسلے کے اندر کی خاموشی سے جگنو کو کسی خطرے کی بو محسوس ہونے لگی۔ جگنو خالو گھونسلے کے اندر داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا چڑیا بے ہوش پڑی ہے۔ انہوں نے جلدی سے چڑیا کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ چڑیا نے تھوڑی سی حرکت کی اور آنکھیں کھول دیں۔ خالو جگنو نے پوچھا چڑیا تم کون ہو؟ چڑیا بولی۔ خالو جان آپ نے مجھے پہچانا نہیں میں سونے کی چونچ والی آپ کی بھانجی چڑیا ہوں۔ جگنو خالو بولے۔ مگر تمہاری چونچ تو سونے کی نہیں ہے۔ چڑیا نے گھبرا کر چونچ پر پنجہ مارا تو اسے اپنے ناک کے پاس باریک سی چونچ محسوس ہوئی۔ وہ بھاری بھر کم سونے کا خول غائب تھا۔ اسے ساری بات یاد آ گئی کہ کس طرح مینا نے اسے دھوکہ دیا۔ اس نے مینا کو ادھر ادھر ڈھونڈا۔ مینا وہاں ہوتی تو نظر آتی۔ مینا کو نہ پا کر چڑیا رونے لگی۔ رات کی تاریکی میں چڑیا کے شور نے جنگل میں سوئے تمام پرندوں کو جگانا شروع کر دیا۔ سب چڑیا کے ارد گرد جمع ہو گئے۔ چیڑ یا زار و قطار رو رہی تھی اور خالو جگنو سب کو بار بار مینا کے دھوکے اور چڑیا کی سونے کی چونچ کا قصہ سنانے میں مصروف تھے۔ سب پرندوں کو مینا پر شدید غصہ تھا کہ آخر مینا نے اپنی دوست چڑیا کے ساتھ ایسا دھوکہ کیوں کیا۔ مینا کو جنگل میں ہر طرف تلاش کیا گیا مگر مینا نہ ملی ہر پرندہ اور جنگل کا جانور چڑیا کو انصاف اور مینا کو سزا دلوانا چاہتا تھا۔ اسی لئے زور شور سے مینا کی تلاش جاری تھی۔ کافی دنوں کے بعد جنگل کے آخری حصے سے مسٹر بندر کے کچھ دوست اسے ملنے آئے۔ رات کو بیٹھے تمام بندر گپ شپ لگا رہے تھے۔ طرح طرح کے قصے سنا کر ایک دوسرے کو حیران کرنے کی کوشش میں تھے ایک مہمان چھوٹے بندر نے کہا۔ میں نے جنگل میں ایک عجیب سی مینا دیکھی ہے ہے تو وہ عام مینا ہی جیسی مگر اس کی چونچ سونے کی ہے۔ اس قدر چمکتی ہے کہ اندھیرے میں بھی روشنی ہو جاتی ہے۔ اسی درخت کی شاخ پر جگنو خالو بھی بیٹھے سوتے جاگتے بندروں کی باتوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ جب جگنو خالو کے کان میں سونے کی چونچ والی مینا کی کبر پڑی تو وہ چونک اٹھے اور غور سے بندر کی بات سننے لگے۔ صبح ہوتے ہی وہ چڑیا کے گھر جا پہنچے اور چڑیا کو سارا قصہ کہہ سنایا۔ چڑیا نے اپنے تمام خاندان کو اکٹھا کیا اور ماموں الو اور پھوپھو گلہری کو ساتھ لیا اور بندروں کے پاس جا پہنچے۔ بندر بے چارے سوئے پڑے تھے۔ پرندوں کی شور کی آواز نے انہیں جگا دیا۔ ان سے سونے کی چونچ والی مینا کا قصہ پوچھا۔ جگہ درخت کے بارے میں معلومات لے کر پرندوں اور چھوٹے جانوروں کی دو فوجیں تیار کی گئیں۔ مہمان بندروں کی رہنمائی میں رات کی تاریکی میں جنگل کے آخری حصے میں دونوں پہنچیں۔ خالو جگنو اپنے سارے خاندان کے ساتھ روشنی کی سہولت پہنچاتے رہے۔ رات کو ہی اچانک حملہ کر کے سوئی ہوئی مینا کو گرفتار کر لیا گیا۔ اگلی صبح جنگل میں بہت رونق تھی، جنگل کا بادشاہ شیر بڑی شان سے دربار سجائے بیٹھا تھا۔ الو، بندر، ریچھ، ہاتھی، زرافہ، مینا، طوطے، مور اور رنگ برنگی چڑیاں سب جمع تھے۔ تتلیاں اور جگنو بھی ادھر ادھر اڑتے پھر رہے تھے۔ شیر کے سامنے دھوکے باز مینا کو پیش کیا گیا۔ الو نے تمام قصہ سنایا۔ ڈاکٹر لومڑی نے گواہی دی کہ مینا نے اس دن اس کے کلینک سے نیند کی دوائی لی تھی اور جگنو خالو نے گواہی دی کہ مینا کے گھونسلے میں اس نے چڑیا کو بے ہوش پڑے دیکھا اور سب سے بڑا ثبوت تو مینا کی سونے کی چونچ تھی جو چمک رہی تھی۔ مینا شرمندگی سے سر جھکائے کھڑی تھی۔ تمام پرندے شیر بادشاہ سے چڑیا کو انصاف دلانے کی درخواست کر رہے تھے۔ شیر نے تمام گواہیاں سن کر چیتے اور ہاتھی سے مشورہ کیا اور ڈاکٹر لومڑی سے کہا کہ مینا کی سونے کی چونچ اتار کر ابھی چڑیا کو واپس لگا دو۔ ڈاکٹر لومڑی نے حکم کی تعمیل کی اور مینا کی چونچ اتار کر چڑیا کو واپس لگا دی اور مینا کو چھوڑ دیا گیا کیونکہ اس نے اپنی سزا کا بندوبست خود کر لیا تھا۔ جب اس نے اپنی کالی چونچ کاٹ کر سونے کی یہ چونچ لگائی تھی اب مینا پورے جنگل میں شرمندہ شرمندہ سی بغیر چونچ کے پھرتی ہے۔ نہ ٹھیک طرح سے دانہ چگ سکتی ہے اور نہ کیڑے مکوڑوں کا شکار۔ اب اسے اپنی حرکت پر بہت افسوس ہے مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئی کھیت۔ ساتھیو! کسی کی اچھی چیز دیکھ کر اپنی چیز کو برا مت سمجھو اور کسی سے حسد مت کرو۔ ٭٭٭
  13. تین سہیلیاں فوزیہ رفیق ایک جنگل میں ایک برگد کے بہت بڑے درخت پر تین گھونسلے تھے۔ ان گھونسلوں میں ایک ننھی سی مینا ایک مہربان سی فاختہ اور ایک شرارتی سی بلبل رہتی تھی۔ تینوں کی آپس میں بہت دوستی تھی۔ مل جل کر رہتیں ایک دوسرے کی مدد کرتیں دکھ سکھ میں ایک دوسرے کے کام آتیں۔ برگد کے اس درخت پر تینوں کی وجہ سے بہت رونق رہتی۔ وہ تینوں آپس میں بالکل نہ لڑتیں اور سکون سے رہتیں۔ ایک دن انہوں نے درخت پر ہلچل دیکھی تو وہ گھونسلوں سے باہر آ کر دیکھنے لگیں۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک کالی چڑیا بھی اس درخت پر اپنا گھونسلہ بنا رہی ہے۔ وہ بھی خوش ہو گئیں کہ چلو ایک نئی ہمسائی کے آنے سے رونق بڑھ جائے گی۔ کالی چڑیا سارا دن گھونسلہ بناتی رہی اور تھک گئی۔ فاختہ نے سوچا کہ بے چاری کالی چڑیا کے بچے بھوکے ہونگے اور اسے دانا چگنے کا وقت نہیں ملا ہو گا۔ آج مجھے کالی چڑیا کو کھانا بھجوانا چاہیے۔ اس نے مونگ کی کھچڑی پکائی اور اسے کالی چڑیا کے گھر دینے چلی گئی۔ فاختہ کے پکارنے پر کالی چڑیا اپنے بال بکھیرے تھکی ہاری باہر آئی۔ فاختہ نے بہت پیار سے سلام کیا۔ مگر کالی چڑیا نے صرف سر ہلا کر سلام کا جواب دیا۔ میں آپ کے لئے کھانا لائی تھی۔ آپ تھک گئی ہونگی۔ فاختہ نے خوش دلی سے کہا۔ تو کالی چڑیا بولی اس کی کیا ضرورت تھی۔ نہ تو اس نے فاختہ کو اندر آنے کو کہا اور نہ ہی اس کا شکریہ ادا کیا۔ فاختہ شرمندہ سی لوٹ آئی۔ مگر اپنی سہیلیوں بلبل اور مینا سے کالی چڑیا کے رویے کا ذکر نہ کیا۔ ا گلے دن مینا اور بلبل نے کام سے فارغ ہو کر کالی چڑیا کو ملنے اور خوش آمدید کہنے کا فیصلہ کیا۔ گو فاختہ گزری رات کے واقعے کے بعد کالی چڑیا کے ہاں نہیں جانا چاہتی تھی مگر اپنی سہیلیوں کے سامنے انکار نہ کر سکی اور ساتھ چل پڑی۔ اس وقت کالی چڑیا سوئی پڑی تھی۔ جب انہوں نے دو تین دفعہ گھونسلے کے دروازے پر دستک دی تو کالی چڑیا کی آنکھ کھل گئی۔ نیند خراب ہونے پر وہ غصے کی حالت میں باہر آئی۔ کیا مصیبت ہے ؟ وہ بلبل اور مینا کے مسکراتے چہرے دیکھ کر چیخی۔ وہ تینوں اس کے چیخنے سے سہم گئیں۔ ہم آپ سے ملنے آئی تھیں۔ بلبل نے ہمت کر کے کہا اور جنگلی پھولوں کا گل دستہ کالی چڑیا کی طرف بڑھایا۔ مینا نے بھی جنگلی پھلوں کی ٹوکری بڑھائی۔ کالی چڑیا نے پھولوں کا گل دستہ اٹھا کر دور پھینکا اور ٹوکری کو ٹانگ ماری۔ انگور اور جامن ادھر ادھر بکھر گئے۔ اور دھڑام سے دروازے بند کر کے گھونسلے میں چلی گئی۔ تینوں اس برتاؤ پر گھبرا گئیں اور شرمندہ ہو کر لوٹ آئیں۔ دن گزرتے گئے مگر کالی چڑیا کا غرور کم نہ ہوا۔ مینا، فاختہ اور بلبل نے بھی اس دن کے بعد دوبارہ کالی چڑیا سے کوئی رابطہ نہ کیا۔ کالی چڑیا جب دیکھتی کہ تینوں اتنی خوشی سے مل جل کر رہ رہی ہیں تو اسے بہت جلن ہوتی۔ وہ ان تینوں کو یوں ہنستا بستا دیکھ کر ان سے حسد کرنے لگی۔ وہ سوچتی کہ کسی طرح ان تینوں کی دوستی ختم کرا دی جائے۔ اس وقت بھی اسے ان تینوں کے قہقہے سنائی دے رہے تھے اور وہ اندر ہی اندر جل کڑھ رہی تھی۔ موسم بدل رہا تھا سردیوں کی آمد آمد تھی۔ ٹھنڈی ہوائیں برگد کے درخت کی ٹہنیوں سے ٹکرا ٹکرا کر گزر رہی تھیں۔ اسی خیال سے تمام پرندے خوراک اکٹھی کرنے میں مصروف تھے۔ تاکہ سرد موسم میں پریشانی نہ ہو۔ فاختہ کو کہیں سے تھوڑی سے نرم گرم کپاس مل گئی۔ وہ اس خیال سے کہ چلو بچوں کو سردی نہ لگے۔ وہ کپاس گھر لے آئی اور گھونسلے کے ایک کونے میں رکھ دی۔ کالی چڑیا اپنے گھونسلے کے سوراخ سے فاختہ کو کپاس لاتے دیکھ چکی تھی۔ اسے ایک سازش سوجھی۔ صبح جب تینوں سہیلیاں حسب معمول خوراک کی تلاش میں ادھر ادھر نکل گئیں تو کالی چڑیا چپکے سے فاختہ کے گھونسلے میں آ گھسی۔ اس نے وہاں سے کپاس اٹھائی اور جا کر بلبل کے گھونسلے میں چھپا دی اور اوپر سوکھے تنکے ڈال دیئے تاکہ کسی کی نظر نہ پڑے۔ فاختہ شام کو لوٹی تو گھونسلے میں سے کپاس غائب تھی۔ وہ بڑی پریشان ہوئی کہ میری کپاس کہاں گئی۔ اس نے باہر آ کر مینا اور بلبل کو آواز دی۔ اے مینا بہن۔ اے بلبل میری بات سنو۔ نجانے میری کپاس کہاں گئی؟ وہ دونوں بھی فاختہ کی کپاس کی گمشدگی پر پریشان ہو گئیں اور ادھر ادھر ڈھونڈنے لگیں۔ کالی چڑیا سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ جب کپاس کہیں سے نہ ملی اور تینوں تھک ہار گئیں تو کالی چڑیا چپکے سے فاختہ کے پاس آئی اور مکارانہ مسکراہٹ سے بولی۔ فاختہ آپا کیوں شور مچا رہی تھی؟ کیا ہو گیا؟ فاختہ نے ساری بات بتائی تو وہ بولی۔ آپا برا نہ مناؤ تو کچھ کہوں مگر ڈرتی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ فاختہ بولی۔ نہیں نہیں ڈر کیسا۔ کیا بات ہے ؟ آج جب تم چلی گئی تھی تو میں اپنے ننھے چڑے کو کھانا کھلا رہی تھی باہر سے کھٹ پٹ کی آوازیں آئیں تو میں نے چپکے سے گھونسلے کے سوراخ سے دیکھا کہ تمہاری سہیلی بلبل دبے قدموں تمہارے گھونسلے میں گھسی اور وہاں سے کپاس اٹھا اٹھا کر اپنے گھونسلے میں لے گئی۔ میں چھپ کر سارا ماجرا دیکھتی رہی۔ اس نے گھونسلے کے پچھلے کونے میں وہ کپاس چھپا رکھی ہے۔ فاختہ حیران ہو کر کالی چڑیا کو دیکھنے لگی۔ کالی چڑیا بولی اے بھلا میں جھوٹ کیوں بولوں۔ اگر یقین نہ آئے تو جا کر دیکھ لینا۔ کالی چڑیا فاختہ کو پریشان کر کے چلی گئی۔ رات کو جب مینا فاختہ کے گھر آئی تو فاختہ نے کالی چڑیا کی بتائی ہوئی بات مینا کو بتائی۔ مینا بھی یہ سن کر پریشان ہو گئی۔ انہیں بلبل سے یہ امید نہ تھی۔ دونوں نے سوچا کہ پہلے بلبل کے گھر جا کر اس بات کی تصدیق کر لی جائے۔ اتفاق سے اس وقت بلبل ندی سے پانی لینے گئی ہوئی تھی۔ دونوں بلبل کے گھونسلے میں گئیں۔ کالی چڑیا کی بتائی ہوئی جگہ پر جا کر دیکھا تو تنکوں کے نیچے واقعی کپاس چھپی رکھی تھی۔ دونوں کو بلبل کی اس حرکت سے بہت افسوس ہوا۔ بلبل لوٹی تو فاختہ نے اس سے لڑنا شروع کر دیا۔ بلبل بیچاری حیران پریشان ہو کر فاختہ کو دیکھنے لگی اور معلوم کرنے لگی کہ معاملہ کیا ہے۔ جب اسے ساری بات پتہ چلی تو وہ رونے لگی اور قسمیں اٹھا اٹھا کر مینا اور فاختہ کو یقین دلانے لگی مگر چونکہ کپاس بلبل کے گھونسلے سے برآمد ہو چکی تھی۔ اس لئے مینا اور فاختہ کو بلبل کی ہر بات جھوٹی لگ رہی تھی۔ فاختہ اور مینا نے بلبل سے دوستی ختم کر لی۔ بلبل بیچاری تنہا رہ گئی۔ وہ ہر وقت اداس اداس پھرتی رہتی۔ جب بہت دل گھبراتا تو اپنے گھونسلے میں جا بیٹھتی۔ دن گزرتے گئے کالی چڑیا، فاختہ اور مینا سے بلبل کو جدا کر کے بہت خوش تھی لیکن اب اسے مینا اور فاختہ کا ساتھ کھٹکنے لگا تھا۔ وہ اس کوشش میں تھی کہ کسی طرح اب ان دونوں کو بھی جدا کر دے۔ آخر ایک دن اسے موقع مل ہی گیا۔ بارشوں کا موسم شروع ہو چکا تھا۔ مینا نے بڑی مشکل سے چاول اکٹھے کئے تھے کہ بارش میں اگر خوراک کے لئے باہر نہ جایا جا سکے تو گھونسلے میں بچوں کے لئے خوراک موجود ہو۔ آج خوب دھوپ نکلی تھی۔ مینا نے چاول دھوپ میں سوکھنے کے لئے رکھے تھے کیونکہ اس کے بچوں کو خشک چاول بہت پسند تھے۔ تھوڑی ہی دیر بعد کوا بھائی آیا تو اس نے مینا کو پیغام دیا کہ تمہاری نانی بہت سخت بیمار ہیں اور تمہیں بلایا ہے۔ مینا پریشان ہو گئی فاختہ نے کہا جا کر نانی کو دیکھ آؤ۔ مینا بولی میرا بھی کئی دنوں سے دل چاہ رہا تھا لیکن آج تو میں نے چاول باہر سوکھنے کے لئے ڈالے ہیں اور موسم کا بھی کوئی اعتبار نہیں اگر بارش ہو گئی تو چاول پھر سے گیلے ہو جائیں گے اور میں بچوں کو کھانے کو کیا دوں گی۔ فاختہ مینا کی بات سن کر بولی۔ پیاری مینا فکر کیوں کرتی ہو۔ میں ہوں نا۔ دھوپ ختم ہوتے ہی میں سارے چاول سمیٹ کر تمہارے گھونسلے میں رکھ دوں گی۔ تم بے فکر ہو کر نانی کا حال پوچھنے جاؤ۔ مینا نے بچوں کو ساتھ لیا اور نانی کے گھر چل دی۔ کہیں سے اڑتے ہوئے چند شرارتی بادل برگد کے پیڑ پر آ کھڑے ہوئے اور سورج کو اپنے اندر چھپا لیا۔ بادلوں کی آواز سن کر فاختہ کو مینا کے چاولوں کی فکر ہوئی۔ اس نے بھاگم بھاگ سارے چاول سمیٹے اور بارش برسنے سے پہلے ہی انہیں مینا کے گھونسلے میں پہنچا دیا۔ مینا موسم کی خرابی کی وجہ سے رات کو بھی نہ لوٹ سکی۔ کالی چڑیا نے اس موقع کو غنیمت جانا اور تمام چاول مینا کے گھونسلے سے نکال کر برستی بارش اور تیز ہوا میں لا ڈالے۔ چاول ادھر ادھر بکھر کر خراب ہو گئے اور بیچاری فاختہ کو خبر بھی نہ ہوئی۔ مینا صبح سویرے ہی لوٹ آئی۔ مگر جب ہر طرف اپنے چاول بکھرے دیکھے تو غصے سے پاگل ہو گئی اور فاختہ کے گھونسلے کا دروازہ پیٹنے لگی۔ فاختہ نے مینا کو یوں پریشان دیکھا تو بولی۔ مینا بہن کیا ہوا ہے ؟ خیریت تو ہے نا؟ نانی کا حال سناؤ؟ مینا بڑے ہی غصے سے بولی۔ نانی کو چھوڑو۔ تم نے جو میرے ساتھ کیا ہے۔ مجھے اس کی تم سے ہرگز امید نہ تھی۔ اگر تم چاول سمیٹ نہیں سکتی تھیں تو مجھے اس وقت بتا دیتیں۔ میں اپنا کام نبٹا کر چلی جاتی۔ فاختہ نے مینا کو لاکھ یقین دلانے کی کوشش کی کہ تمہارے چاول سنبھال دیئے تھے مگر مینا نے اس کی کسی بات کا یقین نہ کیا۔ اور اس سے بولنا اور ملنا ملانا چھوڑ دیا۔ فاختہ بیچاری سوچتہ رہتی کہ آخر وہ چاول بارش کی نذر کیسے ہو گئے ؟ اب تینوں کی دوستی ختم ہو چکی تھی۔ سب الگ الگ، اداس اداس پھرتی رہتیں۔ جب ساتھ تھیں تو ایک دوسرے کا دکھ سکھ بانٹ لیتیں، ایک دوسرے کی مدد کر دیتیں مگر اب کچھ بھی ٹھیک نہ تھا۔ کالی چڑیا چاہنے کے باوجود مینا اور فاختہ کی لڑائی پر خوشی نہ منا سکی۔ کیونکہ اس برستی بارش میں مینا کے گھونسلے سے چاول نکال کر صحن میں پھینکتے ہوئے اسے سردی لگ گئی تھی۔ اسے شدید بخار تھا۔ اس کے پر گیلے ہو کر اڑنے کے قابل نہ رہے تھے۔ اور اس کے بچے بھوک سے نڈھال چلا رہے تھے۔ مگر کالی چڑیا میں اتنی سکت نہ تھی کہ وہ اڑ کر ان کے لئے کھانے کا بندوبست کر سکے۔ بچے بھوک سے روتے ہوئے سو گئے۔ کالی چڑیا کو اپنی بے بسی پر رونا آ رہا تھا۔ وہ سوچنے لگی کہ کہیں میرے بچے بھوک پیاس سے مر ہی نہ جائیں۔ میں نے کبھی کسی سے دوستی نہ کی۔ میرا کوئی ہمدرد نہیں۔ میں کتنی تنہا ہوں۔ میں نے جو کچھ بلبل، مینا اور فاختہ کے ساتھ کیا مجھے اس کی سزا مل رہی ہے۔ اس کا دل گھبرانے لگا۔ وہ باہر نکل آئی کئی دنوں بعد آج پھر سورج نکلا تھا۔ سنہری گم گرم دھوپ برگد کے پیڑ پر پڑ رہی تھی۔ کالی چڑیا کو یاد آیا کہ جب دھوپ نکلتی تھی۔ تو مینا، بلبل اور فاختہ بچوں کو لے کر دھوپ میں آ بیٹھتیں۔ بچے خوب کھیلتے، شرارتیں کرتے اور ان تینوں کی آپس میں باتیں ہی ختم نہ ہوتیں اور اب ہر طرف ویرانی ہی ویرانی تھی۔ اسے اس خاموشی سے وحشت ہونے لگی۔ اسے احساس ہونے لگا کہ اس نے اس برگد کے درخت کی رونق ختم کر کے اچھا نہیں کیا۔ وہ زور زور سے چلانے لگی۔ اے مینا، اے بلبل، آپا فاختہ کہاں ہو سب ذرا باہر تو نکلو۔ دیکھو کتنی اچھی دھوپ ہے۔ سورج بھی تمہیں ڈھونڈ رہا ہے۔ جب تینوں کے کانوں میں کالی چڑیا کی آواز پڑی تو وہ گھونسلوں سے باہر نکلیں اور کالی چڑیا کو دیکھنے لگیں۔ کالی چڑیا بولی مجھے معاف کر دو۔ میں ہی تمہاری مجرم ہوں میں نے ہی تم لوگوں کو آپس میں جدا کیا ہے تینوں حیران ہو کر کالی چڑیا کو دیکھنے لگیں۔ کالی چڑیا نے کہا ہاں فاختہ آپا آپ کی کپاس بلبل نے نہیں چرائی تھی بلکہ میں نے خود جا کر اس کے گھونسلے میں چھپا دی تھی اور بلبل پر چوری کا الزام لگ گیا اور اس دن مینا بہن کے چاول بھی میں نے ہی برستی بارش اور تیز ہوا میں گھونسلے سے نکال کر رکھے تھے۔ جس سے چاول ضائع ہو گئے لیکن مجھے اس کی سزا مل گئی۔ میں بارش میں بھیگ کر سخت بیمار ہو گئی ہوں بیماری کی وجہ سے میرے پروں میں اڑنے کی طاقت ہی نہیں رہی اور میرے بچے آج کئی دنوں سے بھوکے ہیں۔ مجھے معاف کر دو۔ ۔ ۔ ۔ مجھے معاف کر دو۔ ۔ ۔ ۔ کالی چڑیا رو رہی تھی۔ وہ بہت بیمار اور کمزور بھی لگ رہی تھی۔ ہمیشہ کی مہربان فاختہ بولی کالی چڑیا فکر کیوں کرتی ہو جا کر گھونسلے میں آرام کرو۔ میں تمہارے بچوں کے لئے کھانے کا بندوبست کرتی ہوں۔ مینا نے کہا بلبل تم کالی چڑیا کو اس کے گھونسلے تک لے جاؤ۔ میں ذرا جا کر ڈاکٹر الو سے کالی چڑیا کے لیے دوا لے آؤں۔ یہ کہہ کر مینا اڑ گئی۔ کالی چڑیا، مینا بلبل اور فاختہ کی دیکھ بھال سے کچھ دنوں ہی میں ٹھیک ہو گئی۔ بچوں کو بھی خوراک ملتی رہی۔ مینا بلبل اور فاختہ کی دوستی دوبارہ سے شروع ہو چکی تھی۔ آج جب سورج نکلا تو اس نے دیکھا کہ پہلے کی طرح مینا، بلبل اور فاختہ دھوپ میں آ بیٹھی ہیں۔ بچے بھی پہلے کی طرح ہنس کھیل رہے ہیں۔ مگر یہ آج ان تینوں کے ساتھ چوتھا کون ہے ؟ سورج آنکھیں کھول کھول کر دیکھنے لگا۔ جی ہاں آج کالی چڑیا بھی ان تینوں میں بیٹھی اپنا سارا غرور بھول کر قہقہے لگا رہی تھی۔ وہ جان چکی تھی کہ مل جل کر رہنے میں ہی سب کا فائدہ ہے۔ بلبل، مینا اور فاختہ بھی نئی دوست کے ملنے پر بہت خوش ہیں۔ ٭٭٭
  14. تم بہت اچھے ہو یاسر رشید کھٹ کھٹ…کھٹ! اوہو۔ تم تو صبح دیکھتے ہو نہ شام… بس کھٹ کھٹ شور مچاتے رہتے ہو۔ کاہل کوے نے چڑ کر کٹھ بڑھئی سے کہا۔ بھئی میں تو کام کرتا ہوں۔ میرا کام یہی ہے کہ ورنہ لو گ مجھے کٹھ بڑھئی کیوں کہیں۔ کٹھ کاٹھ س نکلا ہے جس کا مطلب ہے لکڑی اور بڑھئی۔ تم تو جانتے ہو یہ میری چونچ اللہ میاں نے دی ہے نا ہ بڑی مضبوط ہے۔ اس کی مدد سے میں سخت سے سخت درختوں کے تنوں میں سوراخ کر لیتا ہوں۔ کٹھ بڑھئی بولا۔ مگر خواہ مخواہ سوراخ کرنے سے کیا فائدہ؟ میں بلا وجہ سوراخ نہیں کرتا یہ دیکھو میں نے اس چوڑے تنے میں کتنے سارے سوراخ کر دیے ہیں۔ مگر کیوں ؟ اس لیے کہ ان میں خوراک رکھی جا سکے۔ یہ ہماری الماری ہے سمجھے ؟ اونہہ کون اتنی محنت کرے۔ ہم تو تازہ پھل کھاتے ہیں تازہ پھل سمجھے ! کوے نے منہ بنا کر کہا۔ کھٹ کھٹ کھٹ کٹھ بڑھئی نے سوراخ کرنے شروع کر دیے۔ سوراخ تیار ہو گئے تو کٹھ بڑھئی نے بہت سارے پھل لا لا کر ان سوراخوں میں رکھ دیے۔ وہ روزانہ انہیں اپنی چو نچ سے الٹتا پلٹتا رہتا کہ پھل ایک ہی طرح رکھے خراب نہ ہو جائیں اور انہیں ہوا ملتی رہے۔ کاہل کوا کٹھ بڑھئی کو دیکھ دیکھ کر ہنستا رہتا۔ کچھ دنوں بعد موسم بدل گیا برف پڑنے لگی۔ ہر طرف بر ف ہی برف نظر آنے لگ۔ درختوں پر بھی برف جم گئی تمام پھل درختوں سے غائب ہو گئے ایک دن کٹھ بڑھئی گھر سے نکلا تو دیکھا کہ کوے صاحب برف پر سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ ارے تمہیں کیا ہوا؟ ہونا کیا تھا بھوک کے مارے دم نکل رہا ہے۔ کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ کوے نے کمزور سی آواز میں رونی صورت بنا کر کہا۔ ار ے تم تو مجھ سے کہتے آؤ تم ہمارے مہمان ہو۔ کٹھ بڑھئی نے کوے کو سہارا دیا اور اپنے گھر لے گیا۔ پھر الماری کے ایک سوراخ میں چونچ ڈال کر پھل نکالے اور کوے کو کھلائے۔ کوے نے پھل کھا کر اللہ کا شکر ادا کیا اور بولا۔ واقعی تم بہت اچھے ہو تم نے محنت کی اور آج تمہیں کوئی پریشانی نہیں۔ اگر میں بھی تمہاری طرح محنتی ہوتا اور آنے والے دنوں کے لیے پہلے سے تیار ی کر لیتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ ٭٭٭
  15. ضد کی سزا انعم اسلم پیارے بچو! ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بستی میں ایک امیر آدمی جس کا نام یوسف تھا رہتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا تھا جس کا نام احمد تھا۔ احمد سے اس کے والدین بہت پیار کرتے تھے۔ احمد کو بچپن ہی سے کیلے بہت پسند تھے اور وہ روزانہ کیلے کھاتا تھا اس کے ابو بلا ناغہ اس کے لیے کیلے لے کر آتے تھے۔ ایک دن شہر سے سبزی فروٹ لانے والے کیلے نہ لے کر آئے۔ احمد کے ابو بہت پریشان تھے کہ آج شام کو اگر کیلے نہ لے کر گیا تو وہ ناراض ہو کر کچھ بھی نہیں کھائے گا۔ مجبوراً وہ شام کو بہت سارے آم سیب انگور کیکر گھر گئے۔ احمد نے فوراً سارے پھلوں میں سے کیلے تلاش کیے تو کیلے نہ ملے۔ احمد کے ابو نے کہا کہ آج کیلے دکان سے نہیں ملے میں تمہارے لیے دوسرے پھل لے آیا ہوں تم وہ پھل کھالو۔ مگر احمد نے کسی پھل کو ہاتھ تک نہ لگایا اور ناراض ہو گیا۔ رات کے کھانے پر اس کی ماں نے کھانا کھلانے اور دودھ پلانے کی بہت کوشش کی مگر احمد نہ مانا اور ضد کرتا ہوا سو گیا۔ صبح بھی احمد ناشتہ کیے بغیر سکول چلا گیا۔ اس کے ابو صبح سویرے ہی اپنے تمام کام چھوڑ کر کیلے خریدنے شہر روانہ ہو گئے۔ مگر انہیں مایوسی ہوئی کیونکہ انہیں کہیں سے بھی کیلے نہ مل سکے احمد کے سامنے کھانے پینے کی تمام چیزوں کے ڈھیر لگا دیے گئے مگر وہ بضد رہا۔ اس رات کو بھی ماں کی بہت کوشش کے باوجود بغیر کچھ کھائے پیے سو گیا بھوک کی وجہ سے اس کی حالت بہت بر ی تھی۔ رات کو اس کی آنکھ کھلی تو وہ بستر پر کروٹیں بدلنے لگا تھوڑی دیر بعد اچانک اس کے کمرے میں بہت زیادہ دھواں بھرنے لگا۔ وہ سوچنے لگا کہ یہ دھواں کہاں سے آ رہا ہے۔ آناً فاناً اس کا کمرہ دھوئیں سے بھر گیا۔ احمد سے سانس لینا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ اس دھوئیں میں ایک خوفناک شکل ابھری اور جو احمد کے سامنے تھی۔ اور احمد اسے دیکھتے ہی ڈر گیا۔ احمد بولا تم کون ہو۔ جواب آیا میں دھوئیں والا جن ہوں۔ احمد نے پوچھا تم یہاں میرے کمرے میں کیوں آئے ہو۔ میں تمہیں لینے آیا ہوں۔ جن نے جواب دیا مگر کہاں احمد نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔ جن بولا۔ تم نے کیلے کھانے ہیں نا۔ تم نے اپنی ضد کی وجہ سے اپنے والد کو پریشان کر رکھا ہے اب میں تمہیں کیلے کھلانے لے جاؤں گا۔ دھوئیں والے جن نے احمد کو پکڑ کر اپنے ہاتھ پر بٹھایا اور غائب ہو گیا۔ کچھ دیر احمد نے خود کو ایک باغ میں پایا جس میں ہر طرف کیلے کے درخت تھے۔ لمبے لمبے اونچے دیو ہیکل درخت تازہ کیلوں سے بھرے ہوئے تھے احمد نے کیلے دیکھے تو حیران رہ گیا۔ ایک ایک کیلا ایک ایک آدمی کے برابر تھا۔ دھوئیں والا جن بولا تمہیں شوق ہے کیلے کھانے کا اب اپنا شوق پورا کرو۔ اور کیل جی بھر کے کھاؤ۔ احمد نے مجبوراً ایک کیلے کو درخت سے کھینچا۔ کیلا کھینچتے ہوئے وہ خود بھی گر ا اور کیلا بھی احمد کے اوپر آ گرا احمد بڑی مشکل سے اس کے نیچے سے کا۔ دھوئیں والا جن دھواں پھیلائے کھڑا ہنس رہا تھا۔ احمد نے ایک طرف سے کیلا چھیلنے ک کوشش ک چھال سخت تھی۔ اس کوشش میں احمد پسینے سے شرابور ہو گیا۔ آخر کار احمد نے کیلا کھانا شروع کیا کیلا میٹھا تو تھا ہی مگر اتنے بڑے کیلے کا تھوڑا سا حصہ کھا کر احمد کا پیٹ بھر گیا مگر دھوئیں والا جن چیخا اور کھاؤ ابھی تو تمہیں اس باغ کے سارے کلے کھانے ہیں۔ احمد بڑی مشکل سے کیلا پیٹ میں ٹھونس رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یا اللہ میں کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ کاش میں اپنی امی اور ابو کو تنگ نہ کرتا۔ کاش میں ضد نہ کرتا تو آج مجھے یہ سزا نہ ملتی۔ احمد نے بڑی مشکل سے آدھا کیلا ختم کیا اور باغ میں ڈھیر لگے ہوئے کیلے دیکھ کر احمد کا سر چکرا گیا۔ دھوئیں والے جن نے احمد کو اٹھایا اور چھلکے میں لٹا کر بند کر دیا اور کہا اب تم ہمیشہ اس چھلکے میں بند رہو گے۔ اور چھلکا اٹھا کر درخت کے ساتھ لٹکا دیا۔ احمد اپنے آپ کو چھلکے کے اندر بہت بے چین محسوس کر رہا تھا۔ احمد نے چھلکے سے نکلنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا چھلکے میں اندھیرا ہی اندھیرا تھا احمد اپنے امی ابو کو پکار رہا تھا۔ اچانک اسے اپنی امی کی میٹھی آواز سنائی دی۔ احمد بیٹا۔ احمد بیٹا۔ کیوں شور مچا رہے ہو۔ اٹھو دیکھو تمہارے ابو کیلے لائے ہیں۔ احمد نے آنکھ کھولی تو وہ اپنے کمرے میں تھا۔ نہ بڑے بڑے کیلوں والا باغ تھا اور نہ ہی کوئی دھوئیں والا جن۔ احمد کی امی کیلے اٹھائے کھڑی تھیں ۔ احمد اٹھا اور بولا امی مجھے معاف کر دیں میں آئندہ کبھی بھی آپ کو تنگ نہیں کروں گا۔ امی ابو حیران تھے کہ احمد کو اک رات میں کیا ہو گیا ہے اور احمد سوچ رہا تھا کہ یا خدایا شکر ہے وہ ایک خواب تھا۔ اگر ساری عمر کیلے کے چھلکے میں رہنا پڑتا تو کیا حال ہوتا۔ تو پیارے بچو ہمیں اپنے والدین کی بات ماننی چاہیے اور بے جا ضد نہیں کرنی چاہیے اور زندگی میں کسی چیز کو اپنی مجبوری یا کمزوری نہیں بنانا چاہیے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب نعمتوں کو شکر ادا کر کے کھانا چاہیے۔ ٭٭٭
×
×
  • Create New...