Jump to content

sunrise

Members
  • Content Count

    583
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    12

sunrise last won the day on June 26

sunrise had the most liked content!

Community Reputation

39 Excellent

About sunrise

  • Rank
    Well-known member

Converted

  • Gender
    male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. تیرا حسن و جمال دیکھ لیا ہم نے تیرا کمال دیکھ لیا نام اس پر دھڑک دھڑک جائے اپنے دل کا زوال دیکھ لیا اب کوئی چیز بھی نہیں بھاتی کوئی ایسا خیال دیکھ لیا رات آئے وہ خواب میں ملنے ہجر میں بھی وصال دیکھ لیا تیری محفل میں پیار کا جذبہ ہو گیا پائمال، دیکھ لیا تم نہ آئے نہ کوئی خط بھیجا زندگی میں وہ سال دیکھ لیا باغباں، وہ نہیں تو کچھ بھی نہیں اس چمن کو سنبھال، دیکھ لیا وہ ہے بے چین بے قرار ہوں میں جذبۂ بے مثال دیکھ لیا چین آیا نہیں ہے فیصلؔ کو جب سے چشمِ غزال دیکھ لیا
  2. ترے خیال سے دل بھی مہک مہک سا گیا کلی کی طرح سے دیکھو چٹک چٹک سا گیا سوال آیا ہے جب بھی سرور و مستی کا تمہاری آنکھ سے ساغر چھلک چھلک سا گیا یہ ہاتھ جب سے کسی مہرباں نے چھوڑ دیا میں زندگی کے سفر میں بھٹک بھٹک سا گیا نجانے کتنے ہی دکھ درد دے کے پالا تھا جو ایک قطرہ نگہ سے ٹپک ٹپک سا گیا کہیں پہ حُسن و محبت کا تذکرہ جو چھڑا تمہارا نام ہی دل میں دھڑک دھڑک سا گیا یہ دل مرا بھی سلامت کہاں رہا فیصلؔ کسی کی یاد میں اب تو بھڑک بھڑک سا گیا
  3. کس کو کس نے کتنا چاہا بھول گئے کیا وہ لوگ بھی پیار کا قِصہ بھول گئے کتنے شکوے کتنی باتیں کرنی تھیں جب دیکھا وہ پیارا چہرہ، بھول گئے ہر اِک سوچ میں تیری سوچ ہے شامل اب تیری یاد میں ہم تو دُنیا بھول گئے ہجر ترے میں روز ہی مرنا پڑتا ہے ہم بن تیرے ساجن جینا بھول گئے بھول گیا تو رخصت کے لمحات کو بھی اپنی آنکھ میں کاجل پھَیلا بھول گئے آئے ہو کیا بات ہے، لیکن بات کہوں کیسے آج اِدھر کا رستہ بھول گئے اس کی روکھی باتیں سن کر بول اُٹھا میٹھا میٹھا پیارا لہجہ بھول گئے وہ باتیں وہ ناز ادا اور وہ شامیں ساتھ ترے جو وقت گزارا بھول گئے روٹھ کے جانا تیرا ہر اِک بات پہ وہ میرے منانے پر شرمانا بھول گئے ہر لمحہ میں تجھ کو دیکھتا جاتا تھا آنکھ ملا کر آنکھ چرانا بھول گئے بن میرے تو چین تمہیں نہ آتا تھا کیا گزرا وہ ایک زمانہ بھول گئے جو بھی ہو جائے آخر ہم تیرے ہیں کیا تم اپنا یار پرانا بھول گئے مجھ سے رُخ کو پھیرنے سے پہلے اپنا میرے دل سے نام مٹانا بھول گئے عشق نے کر دیا سب کو ہی پاگل فیصلؔ اپنی سب دانائی دَانا بھول گئے
  4. دنیا وہ میرے دل کی سجاتا چلا گیا مجھ سے نگاہیں اپنی ملاتا چلا گیا کیسے ہوا تھا پیار یہ مجھ کو نہیں خبر اِک چہرہ میرے دل میں سماتا چلا گیا اس کے بِنا زمانہ یہ ویران سا لگے اس دل میں گھر وہ اپنا بناتا چلا گیا مجھ کو تو کچھ بھی یاد نہیں ہے ترے بغیر تیرا خیال ذہن پہ چھاتا چلا گیا کیسا یہ کرب ہے جو ملا تیرے پیار میں دریائے اَشک یونہی بہاتا چلا گیا بجلی کا خوف تھا نہ بکھرنے کا ڈر اُسے پنچھی تو آشیاں کو بناتا چلا گیا دیکھا نگاہوں نے تو وہ دل میں اُتر گیا فیصلؔ کو ایک شخص یوں بھاتا چلا گیا
  5. اُن کی وہ جفا اپنی وفا یاد رہے گی دلچسپ محبت کی خطا یاد رہے گی دنیا کی ہر اِک بات اگر بھول بھی جاؤں مجھ کو ترے ملنے کی دُعا یاد رہے گی دھڑکن میں ترا نام ہی پاؤں گا ہمیشہ کچھ بات نہ اب تیرے سِوا یاد رہے گی شرما کے نگاہوں کا چُرا لینا وہ مجھ سے مجھ کو یہ نرالی سی اَدا یاد رہے گی اب تک ہیں مجھے یاد وہ لمحاتِ جدائی پائی جو محبت میں سزا یاد رہے گی چاہے بھی جو فیصلؔ تو تجھے بھول نہ پائے ہر ایک تری بات پِیا یاد رہے گی
  6. وہ آئے گا کلی بن کر چٹک کر ہم بھی دیکھیں گے کہ خوشبوئے محبت سے مہک کر ہم بھی دیکھیں گے میں جتنا اس میں کھو جاؤں گا اپنا آپ پاؤں گا تری یادوں کے گلشن میں بھٹک کر ہم بھی دیکھیں گے جو ہونا ہو چکا اب تو سبھی بیکار ہیں باتیں جو لگنی لگ چکی اب تو بھَڑک کر ہم بھی دیکھیں گے ہمیں معلوم ہے تجھ کو بھُلا نہ پائیں گے لیکن تری یادیں خیالوں سے جھٹک کر ہم بھی دیکھیں گے پتہ لگ جائے گا مجھ کو سرُور آئے گا اس میں کیا تری گلیوں میں دانستہ بھٹک کر ہم بھی دیکھیں گے نہ اتنا ظرف چھوٹا ہے مگر فیصلؔ یہ دل چاہے وہ نظروں سے پلا دے تو بہک کر ہم بھی دیکھیں گے
  7. کچھ ہم نہ کہیں گے تجھے رُسوا نہ کریں گے دنیا سے تِرے پیار کا چرچا نہ کریں گے صورت تو دکھا جاؤ کہ تسکین ہو دل کی ہم آنکھ ملانے کا تقاضا نہ کریں گے اِک بار وہ کہہ دے کہ نہیں کوئی بھی رشتہ تنہائی میں ہم بیٹھ کے رویا نہ کریں گے مخمور نگاہوں کا ملے جام چھلکتا ہم لوگ طلب ساغر و مینا نہ کریں گے جس چیز کے بدلے میں ترا پیار گنوا دوں ہم زیست میں ایسا کبھی سودا نہ کریں گے مل جائے وہ اِک شخص تو مل جائے گی دنیا بعد اس کے کوئی اور تمنا نہ کریں گے حالات کی گرمی سے جھُلس جائے گا فیصلؔ گر پیار کا ٹھنڈا سا وہ سایہ نہ کریں گے
  8. محبوب ہو ساجن مِرا دلدار کوئی ہو دل میں رہی حسرت مرا غمخوار کوئی ہو کوئی تو ہو دنیا میں جو دُکھ درد بھی بانٹے ٹوٹے ہوئے سپنوں کا خریدار کوئی ہو دل چیز ہے کیا جان بھی ہم نام لگا دیں انمول سی چاہت کا طلبگار کوئی ہو آ جائیں گے بازار میں ہم بکنے کی خاطر لینے کے لیے تو سرِ بازار کوئی ہو کوئی تو ہو جو دیکھے اِدھر آنکھ اُٹھا کر میرا بھری دنیا میں طرفدار کوئی ہو ویرانۂ دل میں نہیں دیکھا کوئی فیصلؔ خواہش ہے کہ آبادی کا آثار کوئی ہو ٭٭٭
  9. سب یہ کہتے ہیں تم بے وفا ہو گئے لوگ سارے ہی اب تو خفا ہو گئے جو ملا مجھ کو وہ داغ ہی دے گیا جو بھی ساتھی ملے کیا سے کیا ہو گئے سب ہی بیگانے بیگانے ہونے لگے اپنے سب دُور کی اب صدا ہو گئے عمر گزری ہے میری سسکتے ہوئے سارے درد و الم آشنا ہو گئے ایسی تقدیر ہو گی یہ سوچا نہ تھا میری قسمت کے تارے فنا ہو گئے ہر طرف ہی یزیدوں کی اب فوج ہے سارے رستے ہی کرب و بلا ہو گئے میرے حصے کے جو سُکھ تھے مجھ کو ملے کر کے اِک ایک سارے جُدا ہو گئے کیا رکھیں آس مل جائیں گی منزلیں خود جو بھٹکے تھے وہ رہنما ہو گئے جا رہے ہو اے فیصلؔ کفن اوڑھ کے تم سبھی مشکلوں سے رِہا ہو گئے
×
×
  • Create New...