Jump to content

sunrise

Members
  • Content Count

    603
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    14

Everything posted by sunrise

  1. تم کمال کرتے ہو یوں دھڑکنوں کا میری استعمال کرتے ہو کہ جلترنگ میں ہو جاؤں رنگ رنگ میں ہو جاوں تمھارا نام لے کوئی میں خودبخودسے ہو جاوں آمدوں میں کھو جاوں اور اس خوشی میں روجاوں تیری دلفریب چھاوں میں میں آج تھک کے سو جاوں
  2. حیرتِ عشق سے نکلوں تو کدھر جاؤں میں ایک صورت نظر آتی ہے جدھر جاؤں میں یہ بھی ممکن ہے کہ ہر سانس سزا ہو جائے ہو بھی سکتا ہے جدائی میں سنور جاؤں میں یوں مسلسل مجھے تکنے کی نہ عادت ڈالو یہ نہ ہو آنکھ جو جھپکو تو بکھر جاؤں میں کیا ترے دل پہ قیامت بھی بھلا ٹوٹے گی؟ گر تجھے دیکھ کے چپ چاپ گزر جاؤں میں دیکھو انجام تو دینے ہیں امورِ دنیا جی تو کرتا ہے ترے پاس ٹھہر جاؤں میں تھام رکھا ہے جو تُو نے تو سلامت ہے بدن تُو اگر ہاتھ چھڑا لے تو بکھر جاؤں میں جس قدر بگڑا ہوا ہوں میں یہی سوچتا ہوں کب ترے ہاتھ لگوں اور سُدھر جاؤں میں کون ہے ، بول مرا، میری اداسی ! تجھ بن تُو بھی گر پاس نہ آئے تو کدھر جاؤں میں یہ مری عمر فقط چاہ میں تیری گزرے مر نہ جاؤں جو ترے دل سے اتر جاؤں میں
  3. میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں میں باتیں بھول بھی جاؤں تو لہجے یاد رکھتا ہوں سرِ محفل نگاہیں مجھ پہ جن لوگوں کی پڑتی ہیں نگاہوں کے معانی سے وہ چہرے یاد رکھتاہوں ذرا سا ہٹ کے چلتا ہوں زمانے کی روایت سے کہ جن پہ بوجھ میں ڈالوں وہ کاندھے یاد رکھتا ہوں میں یوں تو بھول جاتا خراشیں تلخ باتوں کی مگر جو زخم گہرے دیں وہ رویے یاد رکھتا ہوں شاعر:۔۔۔فرحتؔ عباس شاہ
  4. سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی وصی شاہ سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی یا مری طرح فقط اشک بہاتی ہوگی وہ مری شکل مرا نام بھلانے والی اپنی تصویر سے کیا آنکھ ملاتی ہوگی اس زمیں پر بھی ہے سیلاب مرے اشکوں سے میرے ماتم کی صدا عرش ہلاتی ہوگی شام ہوتے ہی وہ چوکھٹ پہ جلا کر شمعیں اپنی پلکوں پہ کئی خواب سلاتی ہوگی اس نے سلوا بھی لیے ہوں گے سیہ رنگ لباس اب محرم کی طرح عید مناتی ہوگی میرے تاریک زمانوں سے نکلنے والی روشنی تجھ کو مری یاد دلاتی ہوگی روپ دے کر مجھے اس میں کسی شہزادے کا اپنے بچوں کو کہانی وہ سناتی ہوگی
  5. اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں وہ کچھ زیادہ ہی یاد آتا ہے سردیوں میں مجھے اجازت نہیں ہے اس کو پکارنے کی جو گونجتا ہے لہو میں سینے کی دھڑکنوں میں وہ بچپنا جو اداس راہوں میں کھو گیا تھا میں ڈھونڈتا ہوں اسے تمہاری شرارتوں میں اسے دلاسے تو دے رہا ہوں مگر یہ سچ ہے کہیں کوئی خوف بڑھ رہا ہے تسلیوں میں تم اپنی پوروں سے جانے کیا لکھ گئے تھے جاناں چراغ روشن ہیں اب بھی میری ہتھیلیوں میں جو تو نہیں ہے تو یہ مکمل نہ ہو سکیں گی تری یہی اہمیت ہے میری کہانیوں میں مجھے یقیں ہے وہ تھام لے گا بھرم رکھے گا یہ مان ہے تو دیے جلائے ہیں آندھیوں میں ہر ایک موسم میں روشنی سی بکھیرتے ہیں تمہارے غم کے چراغ میری اداسیوں میں
  6. جو ان آنکھوں سے رواں ہیں اشک ہیں جو ان اشکوں میں مکیں ہے عشق ہے
  7. عشق کیسا کہ بھروسہ بھی نہیں تھا شاید اُس سے میرا کوئی رشتہ بھی نہیں تھا شاید
  8. صبا۔۔ جانا اُدھر تو دردِ دل کا ماجرا کہنا بہ نرمی بارگاہِ شاہ میں حالِ گدا کہنا ادب سے پیش آنا، گفتگو کرنا مروت سے مگر دل کا جو عالم ہو رہا ہے، برملا کہنا
  9. اعصاب پر گھوڑا ہے سوار علامہ اقبال نے ان شاعروں، صورت نگاروں اور افسانہ نویسوں پر بڑا ترس کھایا ہے جن کے اعصاب پر عورت سوار ہے۔ مگر ہمارے حبیبِ لبیب اور ممدوح بشارت فاروقی ان بدنصیبوں میں تھے جن کی بے داغ جوانی اس شاعر کے کلام کی طرح تھی جس کے بارے میں کسی نے کہا تھا کہ موصوف کا کلام غلطیوں اور لطف دونوں سے پاک ہے ! بشارت کی ٹریجیڈی شاعروں، آرٹسوں اور افسانہ نویسوں سے کہیں زیادہ گھور گھمبیر تھی۔ اس لئے کہ دُکھیا کے اعصاب پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی سوار رہا۔ سوائے عورت کے۔ اس دور میں جسے ناحق جوانی دیوانی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔، ان کے اعصاب پر بالترتیب مُلا، ناصح بزرگ، ماسٹر فاخر حسین، مولوی مظفر، داغ دہلوی، سیگل اور خُسر بزرگوار سوار رہے۔ خدا خدا کر کے وہ اسی ترتیب سے اُن پر سے اُترے تو گھوڑا سوار ہو گیا، جس کا قصہ ہم " اسکول ماسٹر کا خواب " میں بیان کر چکے ہیں۔ وہ سبز قدم ان کے خواب، ذہنی سکون اور گھریلو بجٹ پر جھاڑو پھیر گیا۔ روز روز کے چالان، جرمانے اور رشوت سے وہ اتنے عاجز آ چکے تھے کہ اکثر کہتے تھے کہ اگر مجھے چوائس دی جائے کہ تم گھوڑا بننا پسند کرو گے یا اس کا مالک یا اس کا کوچوان تو میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے SPCA کا انسپکٹر بننا پسند کروں گا جو اُن تینوں کا چالان کرتا ہے۔
  10. آکھاں وے دل جانی پیاریا، مینوں کیہا چیٹک لایا ای میں تیں وچ نہ ذراجدائی، ساتھوں اپنا آپ چھپایا ای مجھیں آئیاں رانجھا یار نہ آیا، پُھوک برہوں ڈوں لایا ای ہیں نیڑے مینوں دُور کیوں دسنایں، ساتھوں اپنا آپ چھپایا ای وچ مصر دے وانگ زلیخا، گھنگٹ کھول رُلایا ای شوہ بلھے دے سر پر برقع، تیرے عشق نچایا ای آکھاں وے دل جانی پیاریا، مینوں کیہا چیٹک لایا ای
  11. مینوں سکھ دا سنیہڑا توں جھب لیاویں وے پاندھیا ہو میں کبڑی میں دبڑی ہوئی آں میرے سبھ دکھڑے بتلاویں وے پاندھیا ہو کھلیاں لٹاں گل دست پراندا ایہہ گل آکھیں، نہ شرمائیں وے پاندھیا ہو اک لکھ دیندی میں دو لکھ دیساں مینوں پیارا آن ملاویں وے یاراں لکھ کتابت بھیجی کِتے گوشے بہہ سمجھاویں وے پاندھیا ہو بلھا شوہ دیاں مڑن مہاراں لکھ پتیاں توں جھب دھاویں وے پاندھیا ہو مینوں سکھ دا سنیہڑا توں جھب لیاویں وے پاندھیا ہو
  12. آؤ فقیرو میلے چلیے، عارف کا سن واجا رے انہد سَبد سنو بہو رنگی، تجیے بھیکھ بیاجا رے انہد واجا سرپ ملاپی نِر ویری سر ناجا رے میلے باجھوں میلا اوتَر، رڑھ گیا مول وہاجا رے کٹھن فقیری رستہ عاشق، قائم کرو من بھاجا رے بندہ رب بھیو اِک بلھا پڑا جہان براجا رے
  13. بلھا کیہ جاناں ذات عشق دی کون نہ سوہاں، نہ کم بکھیڑے ونجے جاگن سَون رانجھے نوں میں گالیاں دیواں، من وچ کراں دعائیں میں تے رانجھا اکو کوئی، لوکاں نوں ازمائیں جس بیلے وچ بیلی وسے، اُس دیاں لواں بلائیں بلھا شوہ نوں پاسے چھڈ کے، جنگل ول نہ جائیں بلھا کیہ جاناں ذات عشق دی کون نہ سوہاں، نہ کم بکھیڑے ونجے جاگن سَون
  14. مجھے تم یاد آتی ہو مقدر کے ستاروں پر زمانے کے اشاروں پر اداسی کے کناروں پر کبھی ویران صحرا میں کبھی سنسان راہوں میں کبھی حیران آنکھوں میں کبھی بے جان لمحوں میں تمہاری یاد ہولے سے کوئی سرگوشی کرتی ہے یہ پلکیں بھیگ جاتی ہیں دو آنسو ٹوٹ گرتے ہیں میں پلکوں کو جھکاتا ہوں بظاہر مسکراتا ہوں فقط اتنا ہی کہتا ہوں مجھے کتنا ستاتی ہو مجھے تم یاد آتی ہو مجھے تم یاد آتی ہو
  15. اک چاند تنہا کھڑا رہا اک چاند تنہا کھڑا رہا، میرے آسمان سے ذرا پرے میرے ساتھ ساتھ سفر میں تھا، میری منزلوں سے ذرا پرے تیری جستجو کے حصار سے، تیرے خواب تیرے خیال سے میں وہ شخص ہوں جو کھڑا رہا، تیری چاہتوں سے ذرا پرے کبھی دل کی بات کہی نہ تھی، جو کہی تو وہ بھی دبی دبی میرے لفظ پورے تو تھے مگر، تیری سماعتوں سے ذرا پرے تو چلا گیا میرے ہمسفر، ذرا دیکھ مڑ کے تو اک نظر میری کشتیاں ہیں جلی ہوئی، تیرے ساحلوں سے ذرا پرے
  16. شرط یہ تم جانتی ہو میں ضدی بہت ہوں انا بھی ہے مجھ میں میں سنتا ہوں دل کی (فقط اپنے دل کی) کسی کی کوئی بات سنتا نہیں ہوں مگر اپنی دھن میں صبح و شام رہنا کوئی درد اپنا کسی سے نہ کہنا یہ عادت ہے میری میں عادت بھی کوئی بدلتا نہیں ہوں یہ تم جانتی ہو مگر یہ بھی سچ ہے میں ضد چھوڑ دوں گا انا کی یہ دیوار بھی توڑ دوں گا بدل لوں گا ہر ایک عادت بھی اپنی "اگر تم کہو گی
  17. حکم تیرا ہے حکم تیرا ہے تو تعمیل کیے دیتے ہیں زندگی ہجر میں تحلیل کیے دیتے ہیں تو میری وصل کی خواہش پہ بگڑتا کیوں ہے راستہ ہی ہے چلو تبدیل کیے دیتے ہیں آج سب اشکوں کو آنکھوں کے کنارے پہ بلاؤ آج اس ہجر کی تکمیل کیے دیتے ہیں ہم جو ہنستے ہوئے اچھے نہیں لگتے تم کو تو حکم کر آنکھ ابھی جھیل کیے دیتے ہیں
  18. میں کسے سنا رہا ہوں یہ غزل محبتوں کی میں کسے سنا رہا ہوں یہ غزل محبتوں کی کہیں آگ سازشوں کی ، کہیں آنچ نفرتوں کی کوئی باغ جل رہا ہے، یہ مگر مری دعا ہے مرے پھول تک نہ پہنچے، یہ ہوا تمازتوں کی مرا کون سا ہے موسم مرے موسموں کے والی! یہ بہار بے دلی کی، یہ خزاں مروّتوں کی میں قدیم بام و در میں انہیں جا کے ڈھونڈتا ہوں وہ دیار نکہتوں کے، وہ فضائیں چاہتوں کی کہیں چاند یا ستارے ہوئے ہم کلام مجھ سے کہیں پھول سیڑھیوں کے، کہیں جھاڑیاں پتوں کی مرے کاغذوں میں شاید کہیں اب بھی سو رہی ہو کوئی صُبح گلستاں کی، کوئی شام پربتوں کی کہیں دشتِ دل میں شاید مری راہ تک رہی ہو وہ قطار جُگنوں کی، وہ مہک ہری رُتوں کی یہ نہیں کہ دب گئی ہے کہیں گردِ روز و شب میں وہ خلش محبتوں کی، وہ کسک رفاقتوں کی
  19. دل لگی تھی اسے ہم سے محبت کب تھی محفل غیر سے ستم گر کو فرصت کب تھی ہم تھے محبت میں لٹ جانے کے قائل ہماری خاطر کسی کو چھوڑنے کی اس میں ہمت کب تھی وہ تو وقت گزرنے کے لیے کرتا تھا پیار کی باتیں ورنہ میری خاطر اس کے دل میں چاہت کب تھی بہت روکا پھر بھی نکل آئے کمبخت آنْسُو ورنہ بزم یار میں آنسو بہانے کی اِجازَت کب تھی . . . !
  20. ہو دل لگی میں بھی دل کی لگی تو اچھا ہے سجاد باقر رضوی ہو دل لگی میں بھی دل کی لگی تو اچھا ہے لگا ہو کام سے گر آدمی تو اچھا ہے اندھیری شب میں غنیمت ہے اپنی تابش دل حصار جاں میں رہے روشنی تو اچھا ہے شجر میں زیست کے ہے شاخ غم ثمر آور جو ان رتوں میں پھلے شاعری تو اچھا ہے یہ ہم سے ڈوبتے سورج کے رنگ کہتے ہیں زوال میں بھی ہو کچھ دل کشی تو اچھا ہے سزا ضمیر کی چہرہ بگاڑ دیتی ہے خود اپنی جون میں ہو آدمی تو اچھا ہے نہیں جو لذت دنیا نشاط غم ہی سہی ملے جو یک دو نفس سر خوشی تو اچھا ہے سفر میں ایک سے دو ہوں تو راہ آساں ہو چلے جو ساتھ مرے بیکسی تو اچھا ہے دیار دل میں مہکتے ہیں پھول یادوں کے رچے بسے جو ابھی زندگی تو اچھا ہے چلو جو کچھ نہیں باقرؔ متاع درد تو ہے اسے سنبھال کے رکھو ابھی تو اچھا ہے
×
×
  • Create New...