Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'poetry'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Great Pakistan Forums - عظیم پاکستان
    • Pakistan - پاکستان
    • رمضان کریم
    • Greeting Messages - تہنیتی پیغامات
  • Islamic PK Forums
    • Quran Majeed - قرآن مجید
    • Supplications - دعائیں
    • Sayings & Teachings of Prophet MUHAMMAD ارشادات نبوی ﷺ
    • Articles - مضامین
  • Urdu PK Forums - اردو محفل
    • Urdu Poetry - بزم سخن
    • جہان نثر
    • طنز و مزاح
  • Technology.PK
    • Computers, Laptops, Tablets & Smart Phones
    • Softwares, Apps & OS
  • Education PK Forums
    • Kids Zone
    • Subjects - مضامین
    • Online Courses
    • Academic & Professional Education
    • Schools, Colleges, Universities, & Institutions
  • Lifestyle PK Forums
    • Food & Cooking
    • Science & Technology
    • Sports & Recreational Activities
    • Travel & Sightseeing
    • Home Decoration & Gardening
    • Gardening
    • Health and Beauty صحت اور خوبصورتی
    • Luxury
  • Human Excellence
    • Quotes - اقوال
    • Goal - مقصد
    • Human Excellence انسان کا امتیاز
    • Ideas - خیالات
    • Leadership قیادت
    • Motivation - حوصلہ افزائی
    • Roles & Perspective - کردار اور نقطہ نظر
    • Success & Failure - کامیابی اور ناکامی
    • Teamwork مِل جُل کر کام کرنا
    • Trade & Business - تجارت اور کاروبار
    • Humility, Humbleness & Gratitude - عاجزی، انکساری، اور شکرگزاری
  • Forums Pakistan

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


About Me


Date of Birth


Education Level


About Me


Education Level


Mobile No


Professional Qualifications


Professional Qualifications


AIM


Gender


Occupation


ICQ


Yahoo! Messenger


Yahoo! Messenger


Skype


Facebook


Twitter

Found 20 results

  1. اُس کو پانے کا کہاں سوچا تھا اچھا لگتا تھا سو محبت کرلی
  2. دل تھا کہ خوش خیال ، تجھے دیکھ کر ھُوا یہ شہر بے مثال ، تجھے دیکھ کر ھُوا اپنے خلاف شہر کے ، اندھے ھُجوم میں دل کو بہت ملال ، تجھے دیکھ کر ھُوا طولِ شبِ فراق ، تیری خیر ھو کہ دِل آمادۂ وصال ، تجھے دیکھ کر ھُوا یہ ھم ھی جانتے ھیں ، جدائی کے موڑ پر اِس دل کا جو بھی حال ، تجھے دیکھ کر ھُوا آئی نہ تھی کبھی ، میرے لفظوں میں روشنی اور مجھ سے یہ کمال ، تجھے دیکھ کر ھُوا بچھڑے تو جیسے ذھن معطل سا ھو گیا شہرِ سخن بحال ، تجھے دیکھ کر ھُوا پھر لوگ آ گئے ، میرا ماضی کریدنے پھر مجھ سے اِک سوال ، تجھے دیکھ کر ھُوا
  3. Use this android application to write poetry on photos using your mobile. Clink on link to download!! Urdu On Photos New 2019 Urdu_on_Photos_New_2019.apk
  4. اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شب فراق اے مرگ ناگہاں ترا آنا بہت ہوا ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی اس سے ذرا سا ربط بڑھانا بہت ہوا اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل اے یاد یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا کہتا تھا ناصحوں سے مرے منہ نہ آئیو پھر کیا تھا ایک ہو کا بہانہ بہت ہوا لو پھر ترے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر احمد فرازؔ تجھ سے کہا نہ بہت ہوا
  5. اس کو آنا تھا کہ وہ مجھ کو بلاتا تھا کہیں رات بھر بارش تھی اس کا رات بھر پیغام تھا
  6. ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھا حقیقت میں جو دیکھنا تھا نہ دیکھا تجھے دیکھ کر وہ دوئی اٹھ گئی ہے کہ اپنا بھی ثانی نہ دیکھا نہ دیکھا ان آنکھوں کے قربان جاؤں جنہوں نے ہزاروں حجابوں میں پروانہ دیکھا نہ ہمت نہ قسمت نہ دل ہے نہ آنکھیں نہ ڈھونڈا نہ پایا نہ سمجھا نہ دیکھا مریضان الفت کی کیا بے کسی ہے مسیحا کو بھی چارہ فرما نہ دیکھا بہت درد مندوں کو دیکھا ہے تو نے یہ سینہ یہ دل یہ کلیجا نہ دیکھا وہ کب دیکھ سکتا ہے اس کی تجلی جس انسان نے اپنا جلوا نہ دیکھا بہت شور سنتے تھے اس انجمن کا یہاں آ کے جو کچھ سنا تھا نہ دیکھا صفائی ہے باغ محبت میں ایسی کہ باد صبا نے بھی تنکا نہ دیکھا اسے دیکھ کر اور کو پھر جو دیکھے کوئی دیکھنے والا ایسا نہ دیکھا وہ تھا جلوہ آرا مگر تو نے موسیٰ نہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا گیا کارواں چھوڑ کر مجھ کو تنہا ذرا میرے آنے کا رستا نہ دیکھا کہاں نقش اول کہاں نقش ثانی خدا کی خدائی میں تجھ سا نہ دیکھا تری یاد ہے یا ہے تیرا تصور کبھی داغؔ کو ہم نے تنہا نہ دیکھا
  7. اوہ سورج اتنا نزدیک آ رہا ہے مری ہستی کا سایہ جا رہا ہے خدا کا آسرا تم دے گئے تھے خدا ہی آج تک کام آ رہا ہے بکھرنا اور پھر ان گیسوؤں کا دو عالم پر اندھیرا چھا رہا ہے جوانی آئنہ لے کر کھڑی ہے بہاروں کو پسینہ آ رہا ہے کچھ ایسے آئی ہے باد موافق کنارا دور ہٹتا جا رہا ہے غم فردا کا استقبال کرنے خیال عہد ماضی آ رہا ہے وہ اتنے بے مروت تو نہیں تھے کوئی قصداً انہیں بہکا رہا ہے کچھ اس پاکیزگی سے کی ہے توبہ خیالوں پر نشہ سا چھا رہا ہے ضرورت ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے زمانہ ہے کہ گھٹتا جا رہا ہے ہجوم تشنگی کی روشنی میں ضمیر مے کدہ تھرا رہا ہے خدا محفوظ رکھے کشتیوں کو بڑی شدت کا طوفاں آ رہا ہے کوئی پچھلے پہر دریا کنارے ستاروں کی دھنوں پر گا رہا ہے ذرا آواز دینا زندگی کو عدمؔ ارشاد کچھ فرما رہا ہے
  8. عکسِ خوشبو ہوں،بکھرنے سے نہ روکے کوئی اور بِکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی کانپ اُٹھتی ہوں مَیں یہ سوچ کے تنہائی میں میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی جس طرح خواب مرے ہوگئے ریزہ ریزہ اِس طرح سے نہ کبھی ٹُوٹ کے بکھرے کوئی میں تو اُس دِن سے ہراساں ہوں کہ جب حُکم ملے خشک پُھولوں کی کتابوں میں نہ رکھے کوئی اب تو اس راہ سے شخص گزرتا بھی نہیں اب کس اُمید پہ دروازے سے جھانکے کوئی کوئی آہٹ ،کوئی آواز ،کوئی چاپ نہیں دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں__آئے کوئی
  9. خود اپنے لیۓ بیٹھ کہ سوچیں گے کسی دن خود اپنے لیۓ بیٹھ کہ سوچیں گے کسی دن یوں ہے کہ تجھے بھول کہ دیکھیں گے کسی دن بھٹکے ہوۓ پھرتے ہیں کئ لفظ جو دل میں دنیا نے دیا وقت تو لکھیں گے کسی دن ہل جائں گے اک بار تو عرشوں کے در و بام یہ خاک نشیں لوگ جو بولیں گے کسی دن آپس کی کسی بات کا ملتا ہی نہیں وقت ہر بار یہ کہتے ہیں کہ بیٹھیں گے کسی دن اے جان تیری یاد کے بے نام پرندے شاخوں پہ میرے درد کی اتاریں گے کسی دن جاتی ہیں کسی جھیل کی گہرائ کہاں تک آنکھوں میں تیری ڈوب کہ دیکھیں گے کسی دن خوشبو سے بھری شام میں جگنو کے قلم سے اک نظم تیرے واسطے لکھیں گے کسی دن سویئں گے تیری آنکھ کی خلوت میں کسی رات ساۓ میں تیری زلف کے جاگیں گے کسی دن خوشبو کی طرح اصل صبا خاک نما سے گلیوں سے تیرے شہر کی گزریں گے کسی دن امجد ہے یہی اب کہ کفن باندھ کہ سر سے اس شہر ستم میں جایئں گے کسی دن
  10. خوشیوں کی شام اور یادوں کا یہ سماں اپنی پلکوں پہ ہرگز ستارے نہ لائیں گے رکھنا سنبھال کر چند خوشیاں میرے لئے میں لوٹ آؤں گا تو عید منائیں گے
  11. وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا تری جدائی میں کس طرح صبر آ جاتا فصیلیں توڑ نہ دیتے جو اب کے اہل قفس تو اور طرح کا اعلان جبر آ جاتا وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میں کہ دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آ جاتا وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا وزیر و شاہ بھی خس خانوں سے نکل آتے اگر گمان میں انگار قبر آ جاتا
  12. صبحِ نَو اے دوست ! ہو نوید کہ پت جھڑ کی رت گئی چٹکی ہے میرے باغ میں پہلی نئی کلی پھر جاگ اٹھی ہیں راگنیاں آبشار کی پھر جھومتی ہیں تازگیاں سبزہ زار کی پھر بس رہا ہے اک نیا عالم خمار کا پھر آ رہا ہے لوٹ کے موسم بہار کا اے دوست ! اس سے بڑھ کے نہیں کچھ بھی میرے پاس یہ پہلا پھول بھیج رہا ہوں میں تیرے پاس کومل سا ، مسکراتا ہوا ، مشک بار پھول پروردگارِ عشق کا یہ بے زباں رسول آتا ہے اک پیام رسانی کے واسطے بسرے دنوں کی یاد دہانی کے واسطے اے دوست ایک پھول کی نکہت ہے زندگی اے دوست ایک سانس کی مہلت ہے زندگی وہ دیکھ پَو پھٹی ، کٹی رات اضطراب کی اچھلی خطِ افق سے صراحی شراب کی آ آ یہ صبح نَو ہے غنیمت ، مرے حبیب ! آیا ہے پھر بہار کا موسم ! زہے نصیب !
  13. ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے رنگ و خوشبو کے، حسن و خوبی کے تم سے تھے جتنے استعارے تھے تیرے قول و قرار سے پہلے اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے جب وہ لعل و گہر حساب کیے جو ترے غم نے دل پہ وارے تھے میرے دامن میں آگرے سارے جتنے طشتِ فلک میں تارے تھے عمرِ جاوید کی دعا کرتے فیض اتنے وہ کب ہمارے تھے
  14. تری قربت کی نشانی ہے مرا عید کا چاند مری اپنی ہی کہانی ہے مرا عید کا چاند پھر لبِ بام وہ چمکا ہے محبت لے کر میری تو شام سہانی ہے مرا عید کا چاند اک ملاقات کے وعدے سے گریزاں رہنا یہ مرا حسن ، جوانی ہے مرا عید کا چاند ہم تجھے پیار، محبت بھی نہیں کر سکتے اور تجھے یاد دہانی ہے عید کا چاند گر نئے موڑ پہ ملنے سے ہیں قاصر ہم تم پھر کوئی راہ پرانی ہے مرا عید کا چاند جس سے گزرے نہ تری یاد کا جھونکا وشمہ زندگی رات کی رانی ہے مرا عید کا چاند
  15. حیراں ہوں اپنے کام کی تدبیر کیا کروں جاتی رہی ہے آہ سے تاثیر کیا کروں شورِ جنوں ہوا ہے گُلو گیر کیا کروں ہے ٹوٹی جاتی پاؤں کی زنجیر کیا کروں نا گفتنی ہے حالِ دلِ ناتواں مرا آتی ہے شرم میں اسے تقریر کیا کروں دل مانگتا ہے مجھ سے، مجھے بھی دیے بنی اتنی سی چیز پر اسے دل گیر کیا کروں دیکھا جو مجھ کو نزع میں، قاتل نے یوں کہا اس جاں بہ لب پہ کھینچ کے شمشیر کیا کروں بن دیکھے اس کے دل کو تسلی نہیں مرے نقاش اس کی لے کے میں تصویر کیا کروں اے یار دردِ دل کی مرے بات ہے کڈھب مت پوچھو تم سے اس کی میں تقریر کیا کروں پوچھا میں مصحفی سے ہوا کیوں تو در بدر بولا کہ یوں ہی تھی مری تقدیر کیا کروں (غلام ہمدانی مصحفی)
  16. کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آو سچ بولیں نہ ہو بلا سے خریدار ، آو سچ بولیں سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر یہی ہے موقع اظہار ، آو سچ بولیں ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے اپنا بنامِ عظمت کردار ، آو سچ بولیں سنا ہے وقت کا حاکم بڑا ہی منصف ہے پکار کر سرِ دربار ، آو سچ بولیں تمام شہر میں ایک بھی نہیں منصور کہیں گے کیا رسن و دار ، آو سچ بولیں جو وصف ہم میں نہیں کیوں کریں کسی میں تلاش اگر ضمیر ہے بیدار ، آو سچ بولیں چھپائے سے کہیں چھپتے ہیں داغ چہروں کے نظر ہے آئینہ بردار ، آو سچ بولیں قتیل جن پہ سدا پتھروں کو پیار آیا کدھر گئے وہ گنہ گار، آو سچ بولیں
×
×
  • Create New...