Altaf Hussain Hali Poetry الطاف حسین حالی کی شاعری

  • جو شخص بہانہ بنانے میں بہت اچھا ہو ، وہ کسی اور کام میں اچھا نہیں ہو سکتا
  • پیسہ بدترین آقا ہے، مگر بہترین غلام بھی ہے
  • کسی فرد یا قوم کو برباد کرنا ہے تو اس کی امید کو مار ڈالیے اور اگر اسے تعمیر کرنا ہے اس کی امید کا دیا روشن کیجئے
  • کامیابی سوچ سے ملتی ہے
  • زندگی کی دوڑ میں دوسروں سے آگے نکلنے کیلئے تیز چلنا ضروری نہیں، بلکہ ہر رکاوٹ کے باوجود چلتے رہنا اور مسلسل چلتے رہنا ضروری ہے
  • جب باتیں آمنے سامنے ہوتی ہیں تو جھوٹ اور غلط فہممی کا خاتمہ ہو جاتا ھے
  • بہت اونچے پہاڑ پر چڑھنے کے لئیے قدم آہستہ آہستہ اٹھانا پڑتے ہیں
  • تین چیزیں نیکی کی بنیاد ہیں، تواضع بے توقع, سخاوت بے منت اور خدمت بے طلبِ مکافات
  • غربت اور افلاس کی وجہ پیداوار کی کمی نہیں، بلکہ اسکی غلط تقسیم ہے
  • دولت ہونے سے آدمی اپنے آپ کو بھول جاتا ہے اور دولت نہ ہونے سے لوگ اس کو بھول جاتے ہیں
  • مصروف زندگی نماز کو مشکل بنا دیتی ہے , لیکن نماز مصروف زندگی کو بھی آسان بنا دیتی ہے
  • گناہ کو پھیلانے کا ذریعہ بھی مت بنو, کیونکہ ہوسکتا ہے آپ تو توبہ کرلو, لیکن جس کو آپ نے گناہ پر لگایا ہے وہ آپ کی آخرت کی تباہی کا سبب بن جائے
  • اپنی زندگی میں ہر کسی کو اہمیت دو, جو اچھا ہوگا وہ خوشی دے گا اور جو برا ہوگا وہ سبق دے گا
  • درخت جتنا اونچا ہو گا اس کا سایہ اتنا ہی چھوٹا ہو گا, اس لیے اونچا بننے کی بجائے بڑا بننے کی کوشش کرو
  • جو شخص کوشش اور عمل میں کوتاہی کرتا ہے, پیچھے رہنا اس کا مقدر ہے
  • جو لوگ میانہ روی اختیار کرتے ہیں, کسی کے محتاج نہیں ہوتے
  • حقیقی بڑا تو وہ ہے جو اپنے ہر چھوٹے کو پہچانتا ہوں اور اس کی ضروریات کا خیال رکھتا ہو

May 28, 2018
174
4
18
Karachi
#1
Hai Justajoo Ke Khoob Se Hai

Hai Justajoo Ke Khoob Se Hai Khoobtar Kahan
Ab Dekhiye Theharti Hai Ja Kar Nazar Kahan

Yarab Is Ikhtilat Ka Anjam Ho Bakhair
Tha Us Ko Hum Se Rabt, Magar Is Qadar Kahan

Ek Umr Chahye Ke Gawara Ho Naish-E-Ishq
Rakkhi Hai Aaj Lazzat-E-Zakhm-E-Jigar Kahan

Hum Jis Pe Mar Rahe Hain Wo Hai Baat Hi Kuch Aur
Alam Mein Tujhse Lakh Sahi Tu Magar Kahan

Hoti Nahin Qubool Dua Tark-E-Ishq Ki
Dil Chahta Na Ho To Zuban Mein Asar Kahan

'Hali' Nishat Nagma-O-Mai Dhundhte Ho Ab
Aye Ho Waqt-E-Subh, Rahe Rat Bhar Kahan
 
May 28, 2018
174
4
18
Karachi
#2
گو جوانی میں تھی کج رائی بہ

گو جوانی میں تھی کج رائی بہت
پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت

زیر برقع تو نے کیا دکھلا دیا
جمع ہیں ہر سو تماشائی بہت

ہٹ پہ اس کی اور پس جاتے ہیں دل
راس ہے کچھ اس کو خود رائی بہت

سرو یا گل آنکھ میں جچتے نہیں
دل پہ ہے نقش اس کی رعنائی بہت

چور تھا زخموں میں اور کہتا تھا دل
راحت اس تکلیف میں پائی بہت

آ رہی ہے چاہ یوسف سے صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

وصل کے ہو ہو کے ساماں رہ گئے
مینہ نہ برسا اور گھٹا چھائی بہت

جاں نثاری پر وہ بول اٹھے مری
ہیں فدائی کم تماشائی بہت

ہم نے ہر ادنیٰ کو اعلیٰ کر دیا
خاکساری اپنی کام آئی بہت

کر دیا چپ واقعات دہر نے
تھی کبھی ہم میں بھی گویائی بہت

گھٹ گئیں خود تلخیاں ایام کی
یا گئی کچھ بڑھ شکیبائی بہت

ہم نہ کہتے تھے کہ حالیؔ چپ رہو
راست گوئی میں ہے رسوائی بہت​
 
May 28, 2018
174
4
18
Karachi
#3
رنج اور رنج بھی تنہائی کا

رنج اور رنج بھی تنہائی کا
وقت پہنچا مری رسوائی کا

عمر شاید نہ کرے آج وفا
کاٹنا ہے شب تنہائی کا

تم نے کیوں وصل میں پہلو بدلا
کس کو دعویٰ ہے شکیبائی کا

ایک دن راہ پہ جا پہنچے ہم
شوق تھا بادیہ پیمائی کا

اس سے نادان ہی بن کر ملئے
کچھ اجارہ نہیں دانائی کا

سات پردوں میں نہیں ٹھہرتی آنکھ
حوصلہ کیا ہے تماشائی کا

درمیاں پائے نظر ہے جب تک
ہم کو دعویٰ نہیں بینائی کا

کچھ تو ہے قدر تماشائی کی
ہے جو یہ شوق خود آرائی کا

اس کو چھوڑا تو ہے لیکن اے دل
مجھ کو ڈر ہے تری خود رائی کا

بزم دشمن میں نہ جی سے اترا
پوچھنا کیا تری زیبائی کا

یہی انجام تھا اے فصل خزاں
گل و بلبل کی شناسائی کا

مدد اے جذبۂ توفیق کہ یاں
ہو چکا کام توانائی کا

محتسب عذر بہت ہیں لیکن
اذن ہم کو نہیں گویائی کا

ہوں گے حالیؔ سے بہت آوارہ
گھر ابھی دور ہے رسوائی کا​
 
May 28, 2018
174
4
18
Karachi
#4
Dhum Thi Apni Parsai Ki

Dhum Thi Apni Parsai Ki
Ki Bhi Aur Kis Se Ashnai Ki

Kyon Barhte Ho Ikhtilat Bahut
Ham Mein Taqat Nahin Judai Ki

Munh Kahan Tak Chupaoge Ham Se
Ham Ko Adat Hai Khudnumai Ki

Lag Mein Hai Lagw Ki Baten
Sulah Mein Cher Hai Larai Ki

Dil Bhi Pahlu Mein Ho To Yan
Kis Se Rakhiye Ummid Dil-Rubai Ki

Na Mila Koi Garat-E-Iman
Rah Gai Sharm Parsai Ki

Maut Ki Tarah Jis Se Darte The
Saat A Pahunchi Us Judai Ki

Zinda Phirne Ki Hai Hawas “Hali”
Intaha Hai Ye Behayai Ki
 
May 28, 2018
174
4
18
Karachi
#5
دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا

دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا
سینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گا

تم کو ہزار شرم سہی مجھ کو لاکھ ضبط
الفت وہ راز ہے کہ چھپایا نہ جائے گا

اے دل رضائے غیر ہے شرط رضائے دوست
زنہار بار عشق اٹھایا نہ جائے گا

دیکھی ہیں ایسی ان کی بہت مہربانیاں
اب ہم سے منہ میں موت کے جایا نہ جائے گا

مے تند و ظرف حوصلۂ اہل بزم تنگ
ساقی سے جام بھر کے پلایا نہ جائے گا

راضی ہیں ہم کہ دوست سے ہو دشمنی مگر
دشمن کو ہم سے دوست بنایا نہ جائے گا

کیوں چھیڑتے ہو ذکر نہ ملنے کا رات کے
پوچھیں گے ہم سبب تو بتایا نہ جائے گا

بگڑیں نہ بات بات پہ کیوں جانتے ہیں وہ
ہم وہ نہیں کہ ہم کو منایا نہ جائے گا

ملنا ہے آپ سے تو نہیں حصر غیر پر
کس کس سے اختلاط بڑھایا نہ جائے گا

مقصود اپنا کچھ نہ کھلا لیکن اس قدر
یعنی وہ ڈھونڈتے ہیں جو پایا نہ جائے گا

جھگڑوں میں اہل دیں کے نہ حالیؔ پڑیں بس آپ
قصہ حضور سے یہ چکایا نہ جائے گا​
 
May 28, 2018
174
4
18
Karachi
#6
Haq Wafa Ka Jo Ham Jatane Lage

Haq Wafa Ka Jo Ham Jatane Lage
Ap Kuch Kah K Muskurane Lage

Ham Ko Jina Parega Furqat Mein
Wo Agar Himmat Azmane Lage

Dar Hai Meri Zuban Na Khul Jaye
Ab Wo Baten Bahut Banane Lage

Jan Bachti Nazar Nahin Ati
Gair Ulfat Bahut Jatane Lage

Tum Ko Karna Parega Uzr-E-Jafa
Ham Agar Dard-E-Dil Sunane Lage

Bahut Mushkil Hai Shewa-E-Taslim
Ham Bhi Akhir Ko Ji Churane Lage

Waqt-E-Rukhsat Tha Sakht "Hali" Par
Ham Bhi Baithe The Jab Wo Jane Lage​
 
May 28, 2018
174
4
18
Karachi
#7
بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج

بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج
بول کر ہم نے منہ کی کھائی آج

چپ پر اپنی بھرم تھے کیا کیا کچھ
بات بگڑی بنی بنائی آج

شکوہ کرنے کی خو نہ تھی اپنی
پر طبیعت ہی کچھ بھر آئی آج

بزم ساقی نے دی الٹ ساری
خوب بھر بھر کے خم لنڈھائی آج

معصیت پر ہے دیر سے یا رب
نفس اور شرع میں لڑائی آج

غالب آتا ہے نفس دوں یا شرع
دیکھنی ہے تری خدائی آج

چور ہے دل میں کچھ نہ کچھ یارو
نیند پھر رات بھر نہ آئی آج

زد سے الفت کی بچ کے چلنا تھا
مفت حالیؔ نے چوٹ کھائی آج​
 

Forum statistics

Threads
1,121
Messages
5,546
Members
160
Latest member
maamahamida

Latest posts