Bahadur Shah Zafar Poetry بہادر شاہ ظفر کی شاعری

  • جو شخص بہانہ بنانے میں بہت اچھا ہو ، وہ کسی اور کام میں اچھا نہیں ہو سکتا
  • پیسہ بدترین آقا ہے، مگر بہترین غلام بھی ہے
  • کسی فرد یا قوم کو برباد کرنا ہے تو اس کی امید کو مار ڈالیے اور اگر اسے تعمیر کرنا ہے اس کی امید کا دیا روشن کیجئے
  • کامیابی سوچ سے ملتی ہے
  • زندگی کی دوڑ میں دوسروں سے آگے نکلنے کیلئے تیز چلنا ضروری نہیں، بلکہ ہر رکاوٹ کے باوجود چلتے رہنا اور مسلسل چلتے رہنا ضروری ہے
  • جب باتیں آمنے سامنے ہوتی ہیں تو جھوٹ اور غلط فہممی کا خاتمہ ہو جاتا ھے
  • بہت اونچے پہاڑ پر چڑھنے کے لئیے قدم آہستہ آہستہ اٹھانا پڑتے ہیں
  • تین چیزیں نیکی کی بنیاد ہیں، تواضع بے توقع, سخاوت بے منت اور خدمت بے طلبِ مکافات
  • غربت اور افلاس کی وجہ پیداوار کی کمی نہیں، بلکہ اسکی غلط تقسیم ہے
  • دولت ہونے سے آدمی اپنے آپ کو بھول جاتا ہے اور دولت نہ ہونے سے لوگ اس کو بھول جاتے ہیں
  • مصروف زندگی نماز کو مشکل بنا دیتی ہے , لیکن نماز مصروف زندگی کو بھی آسان بنا دیتی ہے
  • گناہ کو پھیلانے کا ذریعہ بھی مت بنو, کیونکہ ہوسکتا ہے آپ تو توبہ کرلو, لیکن جس کو آپ نے گناہ پر لگایا ہے وہ آپ کی آخرت کی تباہی کا سبب بن جائے
  • اپنی زندگی میں ہر کسی کو اہمیت دو, جو اچھا ہوگا وہ خوشی دے گا اور جو برا ہوگا وہ سبق دے گا
  • درخت جتنا اونچا ہو گا اس کا سایہ اتنا ہی چھوٹا ہو گا, اس لیے اونچا بننے کی بجائے بڑا بننے کی کوشش کرو
  • جو شخص کوشش اور عمل میں کوتاہی کرتا ہے, پیچھے رہنا اس کا مقدر ہے
  • جو لوگ میانہ روی اختیار کرتے ہیں, کسی کے محتاج نہیں ہوتے
  • حقیقی بڑا تو وہ ہے جو اپنے ہر چھوٹے کو پہچانتا ہوں اور اس کی ضروریات کا خیال رکھتا ہو

May 28, 2018
235
5
18
Karachi
#1
قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چل


قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا
دنیا سے کیا بخیل بجز رنج لے چلا

منت تھی بوسۂ لب شیریں کہ دل مرا
مجھ کو سوئے مزار شکر گنج لے چلا

ساقی سنبھالتا ہے تو جلدی مجھے سنبھال
ورنہ اڑا کے پاں نشۂ بنج لے چلا

دوڑا کے ہاتھ چھاتی پہ ہم ان کی یوں پھرے
جیسے کوئی چور آ کے ہو نارنج لے چلا

چوسر کا لطف یہ ہے کہ جس وقت پو پڑے
ہم بر چہار بولے تو برپنج لے چلا

جس دم ظفرؔ نے پڑھ کے غزل ہاتھ سے رکھی
آنکھوں پہ رکھ ہر ایک سخن سنج لے چلا

 
Last edited by a moderator:
May 28, 2018
235
5
18
Karachi
#2
رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گا

رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گا
پھر کے برج سنبلہ میں آفتاب آ جائے گا

تیرا احساں ہوگا قاصد گر شتاب آ جائے گا
صبر مجھ کو دیکھ کر خط کا جواب آ جائے گا

ہو نہ بیتاب اتنا گر اس کا عتاب آ جائے گا
تو غضب میں اے دل خانہ خراب آ جائے گا

اس قدر رونا نہیں بہتر بس اب اشکوں کو روک
ورنہ طوفاں دیکھ اے چشم پر آب آ جائے گا

پیش ہووے گا اگر تیرے گناہوں کا حساب
تنگ ظالم عرصۂ روز حساب آ جائے گا

دیکھ کر دست ستم میں تیری تیغ آب دار
میرے ہر زخم جگر کے منہ میں آب آ جائے گا

اپنی چشم مست کی گردش نہ اے ساقی دکھا
دیکھ چکر میں ابھی جام شراب آ جائے گا

خوب ہوگا ہاں جو سینہ سے نکل جائے گا تو
چین مجھ کو اے دل پر اضطراب آ جائے گا

اے ظفرؔ اٹھ جائے گا جب پردہ شرم و حجاب
سامنے وہ یار میرے بے حجاب آ جائے گا
 
May 28, 2018
235
5
18
Karachi
#3
جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا

جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا
یہ عشق جان کو میرے کوئی عذاب ہوا

کیا جو قتل مجھے تم نے خوب کام کیا
کہ میں عذاب سے چھوٹا تمہیں ثواب ہوا

کبھی تو شیفتہ اس نے کہا کبھی شیدا
غرض کہ روز نیا اک مجھے خطاب ہوا

پیوں نہ رشک سے خوں کیونکہ دم بہ دم اپنا
کہ ساتھ غیر کے وہ آج ہم شراب ہوا

تمہارے لب کے لب جام نے لیے بوسے
لب اپنے کاٹا کیا میں نہ کامیاب ہوا

گلی گلی تری خاطر پھرا بچشم پر آب
لگا کے تجھ سے دل اپنا بہت خراب ہوا

تری گلی میں بہائے پھرے ہے سیل سرشک
ہمارا کاسۂ سر کیا ہوا حباب ہوا

جواب خط کے نہ لکھنے سے یہ ہوا معلوم
کہ آج سے ہمیں اے نامہ بر جواب ہوا

منگائی تھی تری تصویر دل کی تسکیں کو
مجھے تو دیکھتے ہی اور اضطراب ہوا

ستم تمہارے بہت اور دن حساب کا ایک
مجھے ہے سوچ یہ ہی کس طرح حساب ہوا

ظفرؔ بدل کے ردیف اور تو غزل وہ سنا
کہ جس کا تجھ سے ہر اک شعر انتخاب ہو