Sad Poetry - اداس شاعری

  • جو شخص بہانہ بنانے میں بہت اچھا ہو ، وہ کسی اور کام میں اچھا نہیں ہو سکتا
  • پیسہ بدترین آقا ہے، مگر بہترین غلام بھی ہے
  • کسی فرد یا قوم کو برباد کرنا ہے تو اس کی امید کو مار ڈالیے اور اگر اسے تعمیر کرنا ہے اس کی امید کا دیا روشن کیجئے
  • کامیابی سوچ سے ملتی ہے
  • زندگی کی دوڑ میں دوسروں سے آگے نکلنے کیلئے تیز چلنا ضروری نہیں، بلکہ ہر رکاوٹ کے باوجود چلتے رہنا اور مسلسل چلتے رہنا ضروری ہے
  • جب باتیں آمنے سامنے ہوتی ہیں تو جھوٹ اور غلط فہممی کا خاتمہ ہو جاتا ھے
  • بہت اونچے پہاڑ پر چڑھنے کے لئیے قدم آہستہ آہستہ اٹھانا پڑتے ہیں
  • تین چیزیں نیکی کی بنیاد ہیں، تواضع بے توقع, سخاوت بے منت اور خدمت بے طلبِ مکافات
  • غربت اور افلاس کی وجہ پیداوار کی کمی نہیں، بلکہ اسکی غلط تقسیم ہے
  • دولت ہونے سے آدمی اپنے آپ کو بھول جاتا ہے اور دولت نہ ہونے سے لوگ اس کو بھول جاتے ہیں
  • مصروف زندگی نماز کو مشکل بنا دیتی ہے , لیکن نماز مصروف زندگی کو بھی آسان بنا دیتی ہے
  • گناہ کو پھیلانے کا ذریعہ بھی مت بنو, کیونکہ ہوسکتا ہے آپ تو توبہ کرلو, لیکن جس کو آپ نے گناہ پر لگایا ہے وہ آپ کی آخرت کی تباہی کا سبب بن جائے
  • اپنی زندگی میں ہر کسی کو اہمیت دو, جو اچھا ہوگا وہ خوشی دے گا اور جو برا ہوگا وہ سبق دے گا
  • درخت جتنا اونچا ہو گا اس کا سایہ اتنا ہی چھوٹا ہو گا, اس لیے اونچا بننے کی بجائے بڑا بننے کی کوشش کرو
  • جو شخص کوشش اور عمل میں کوتاہی کرتا ہے, پیچھے رہنا اس کا مقدر ہے
  • جو لوگ میانہ روی اختیار کرتے ہیں, کسی کے محتاج نہیں ہوتے
  • حقیقی بڑا تو وہ ہے جو اپنے ہر چھوٹے کو پہچانتا ہوں اور اس کی ضروریات کا خیال رکھتا ہو

May 28, 2018
222
4
18
Karachi
#3
اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس​

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس
درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

عشق جب تک نہ کر چکے رسوا
آدمی کام کا نہیں ہوتا

ٹوٹ پڑتا ہے دفعتاً جو عشق
بیشتر دیر پا نہیں ہوتا

وہ بھی ہوتا ہے ایک وقت کہ جب
ماسوا ماسوا نہیں ہوتا

ہائے کیا ہو گیا طبیعت کو
غم بھی راحت فزا نہیں ہوتا

دل ہمارا ہے یا تمہارا ہے
ہم سے یہ فیصلہ نہیں ہوتا​
 
Last edited:
May 28, 2018
222
4
18
Karachi
#5
آخری خدا حافظ​

بہت مشکل تھا وہ آخری خدا حافظ کہنا
چلتے چلتے رکنا، پلٹنا اور مجھ سے یہ کہنا۔
کچھ لمحے ہی تو تھے جو گزر گئے اک پل میں
تھےجو کچھ ھنسی میں تو کچھ تھے غمی میں
مسکراتے لبوں پر آنسوؤں کا کچھ اس طرح بہنا
بہت مشکل تھا وہ آخری خدا حافظ کہنا
کہ پھر سے دوریاں اور فاصلے یہ کیسے سہوں گی
میں پھرسے ٹوٹ کے چاہوں گی پر کیسے ملوں گی
مجھے ان سب سوالوں کے جواب دیتے رہنا
بہت مشکل تھاوہ آخری خدا حافظ کہنا
تمہاری خشبو سے میں اتنی متعارف سی ہو گئی
میں اپنے پیار سے کچھ ایسی آشنا سی ہو گئی
کٹھن سا لگے گا ہر اک پل اب یہ رہنا
بہت مشکل تھا وہ آخری خداحافظ کہنا۔​
 
May 28, 2018
222
4
18
Karachi
#6
خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم

خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم
بچھڑ گیا تری صورت بہار کا موسم

کئی رتوں سے مرے نیم وا دریچوں میں
ٹھہر گیا ہے ترے انتظار کا موسم

وہ نرم لہجے میں کچھ تو کہے کہ لوٹ آئے
سماعتوں کی زمیں پر پھوار کا موسم

پیام آیا ہے پھر ایک سرو قامت کا
مرے وجود کو کھینچے ہے دار کا موسم

وہ آگ ہے کہ مری پور پور جلتی ہے
مرے بدن کو ملا ہے چنار کا موسم

رفاقتوں کے نئے خواب خوش نما ہیں مگر
گزر چکا ہے ترے اعتبار کا موسم

ہوا چلی تو نئی بارشیں بھی ساتھ آئیں
زمیں کے چہرے پہ آیا نکھار کا موسم

وہ میرا نام لیے جائے اور میں اس کا نام
لہو میں گونج رہا ہے پکار کا موسم

قدم رکھے مری خوشبو کہ گھر کو لوٹ آئے
کوئی بتائے مجھے کوئے یار کا موسم

وہ روز آ کے مجھے اپنا پیار پہنائے
مرا غرور ہے بیلے کے ہار کا موسم

ترے طریق محبت پہ بارہا سوچا
یہ جبر تھا کہ ترے اختیار کا موسم​
 
May 28, 2018
222
4
18
Karachi
#7
ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملا

ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملا
مگر جو تو نہ ملا زیست کا مزا نہ ملا

حیات شوق کی یہ گرمیاں کہاں ہوتیں
خدا کا شکر ہمیں نالۂ رسا نہ ملا

ازل سے فطرت آزاد ہی تھی آوارہ
یہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملا

یہ کائنات کسی کا غبار راہ سہی
دلیل راہ جو بنتا وہ نقش پا نہ ملا

یہ دل شہید فریب نگاہ ہو نہ سکا
وہ لاکھ ہم سے بہ انداز محرمانہ ملا

کنار موج میں مرنا تو ہم کو آتا ہے
نشان ساحل الفت ملا ملا نہ ملا

تری تلاش ہی تھی مایۂ بقائے وجود
بلا سے ہم کو سر منزل بقا نہ ملا
 

Latest posts