Jump to content
  • Join Forums Pakistan .....

    Join Forums Pakistsan now, its FREE !!!

shariahandbiz.com

کہانی تین عورتوں کی

Recommended Posts

تینوں نے اپنے خاوندوں کا گلا نہ کرنے کا عہد کیا اور کام میں جت گئیں.

 

اس کہانی کا آغاز 15 سال قبل ہوا تھا جب دھول پور کے گاوں کریم پور میں تین عورتیں "انیتا", "ہری پیاری" اور "وجے شرما" نے اپنی شادی کرکے اپنا اپنا گھر سمبھالا. اتفاق سے تینوں کے شوہر کچھ کام کاج نہیں کرتے تھے, جس کی وجہ سے گھر کی مالی حالت نہایت ابتر تھی. گھر میں کھانے پینے اور پہننے کو کچھ نہ تھا, جس کی وجہ سے گھر میں اکثر لڑائی جھگڑا رہنے لگا تھا. تینوں عورتیں ایک جیسے مشکل حالات سے گزر رہیں تھیں. جب کبھی وہ اکٹھی ہوتی ہیں تو اپنے اپنے مسائل کا رونا رونے لگتیں اور اپنے شوہروں کا گلہ شکوہ کیا کرتیں. تینوں کا دکھ سانجھا تھا جس نے ان تینوں کو آپس میں سہیلیاں بنا دیا. ایک دن تینوں نے اپنے خاوندوں کا گلا نہ کرنے کا عہد کیا اور اس مشکل کا حل تلاش کرنے لگیں اور آخر کار انہیں اپنے مسئلے کا حل مل گیا.

 

ان تینوں سہیلیوں نے اپنا گھر چلانے کے لئے خود ہی کچھ کرنے کی تھانی اور ساہوکار سے سود پر چھ چھ ہزار روپے لے کر بھینسیں خریدیں. انہیں گاؤں میں کسی نے بتایا تھا کہ تم اگر بھینس پالو گی تو گاؤں میں دودھ کی خریداری کرنے والے بیوپاری گھر آکر دودھ خرید کر لے جائیں گے اور اچھی بھلی آمدنی ہونے لگی گی اور گھر کا چولہا جلتا رہے گا اور گھر کا نظم بھی عمدگی سے چلتا رہے گا. جب وہ بھینسے خرید سکین تو وہ ایک نئی مشکل میں پھنس گئیں. گوالا روز کسی نہ کسی بہانے دودھ لینے سے انکار کر دیتا اور پھر بلیک میل کر کے اونے پونے داموں پر ان سے دودھ خرید لیتا کبھی کہتا کہ دودھ میں فیٹ ہہت کم ہے تو کبھی کہتا دودھ میں پانی بہت ہے, اسلئے ڈیری والوں نے پیسے نہیں دیے, اس طرح تینوں قرض نہ اتار سکتی تھی اور دن بدن سود کی وجہ سے قرض بڑھ رہا تھا. جب حالات بگڑے تو مجبورا تینوں سہیلیاں بھینس کا دودھ لے کر خود ہی ڈیری جانے لگی. وہاں جا کر پتہ چلا کے گوالہ تو انہیں آدھے پیسے دیتا تھا پھر اسی دن سے یہ تینوں ہی دودھ لے کر ڈیری جانے لگی اور رفتہ رفتہ اپنا قرض اتار دیا. اب ان کو دودھ کے کاروبار کی سمجھ آ چکی تھی ان تینوں نے مشورہ کرکے ایک جیپ کرائے پر لی اور آس پاس کے گاؤں سے بھی دودھ جمع کرنے لگی اور ایک دودھ والی کمپنی کے کلیکشن سنٹر پر جانے لگیں, ان کی آمدنی میں اضافہ ہونے لگا.

 

"انیتا" کہتی ہیں کہ تب ہم نے دن رات کام کرنا شروع کیا. صبح کے تین بجے سے دودھ جمع کرنا شروع کرتین تھیں اور 1000 لیٹر دودھ جمع کر لیتیں. گھریلو خواتین کو دودھ جمع کرنے والے مرد ایجنٹوں سے ہم اچھا ریٹ دینے لگیں تو سبھی لوگ ہم کو دودھ فروخت کرنے لگے. یہیں سے ہم نے کامیابی کا پہلا ذائقہ چکھا. لوگوں سے خالص دودھ لے کر خالص دودھ ہی آگے دیتیں اور بروقت پیسوں کی ادائیگی کرتیں. ہمارے معاملات دیکھ کر لوگ ہمیں دودھ خریدنے کا آرڈر دینے لگے جب کاروبار بڑھا تو ہم نے اپنا کلیکشن سنٹر کھول لیا. اب خواتین ہمارے سنٹر پر دودھ لاکر فروخت کرنے لگیں.

 

"ہری پیاری" کہتی ہیں کہ جب دودھ زیادہ ہونے لگا, تب ہم نے حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں سے رابطہ کیا کہ کیسے اپنے کاروبار کو بڑھائیں. پھر ہم نے حکومت کی مدد سے ایک گروپ "اپنی مدد آپ" تیار کیا. ہماری محنت اور کامیابی دیکھ کر کئی لوگ مدد کے لئے آگے بڑھے.

 

پیسے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے انہوں نے تنظیم کی مدد سے خواتین کا "خود امدادی گروپ" بنایا اور قرض لیا جس سے یکم اکتوبر 2013 کو ایک لاکھ کی لاگت سے "اپنی سہیلی پروڈیوسر" نام کی کمپنی بنا لی. پھر ایک فاونڈیشن کی تکنیکی معاونت سے کریم پور گاؤں میں دودھ کا ایک پلانٹ لگایا. اس کے لیے چار لاکھ روپیوں کا قرض لیا گیا. اپنی کمپنی کے شیئرز دیہاتی خواتین کو بیچنا شروع کیے تین سال میں کمپنی کے شیئرز ہولڈرز دیہاتی خواتین کی تعداد 8000 ہوگئی. تین سالوں میں کمپنی کے مالیت ڈیڑھ کروڑ روپے ہوگئی.

 

شیئر ہولڈر خواتین کمپنی کو دودھ فروخت کرتی ہیں. کمپنی کے بورڈ میں کل گیارہ خواتین ہیں, جن کی ماہانہ آمدنی 12 ہزار روپے ہے. کمپنی کو حکومت کی طرف سے پانچ لاکھ روپے حوصلہ افزائی کے طورپر موصول ہوئے جنہیں قرض کی شکل میں دیگر خواتین کو دے کر انہیں گوالوں کے چنگل سے آزاد کیا اور اپنی سہلی پروڈیوسر کمپنی کو دودھ فروخت کرنے کی ترغیب دی گئی.

 

"وجے شرما" نے بتایا کہ ایک وقت تھا کہ ہم خود بے روزگار تھیں اور اس کی وجہ سے ہمارے گھروں میں لڑائی جھگڑے رہتے تھے, اب ہم نہ صرف خود روزگار والی ہیں بلکہ کئی دوسرے غریب گھرانوں اور خواتین کو روزگار فراہم کررہی ہیں, جس سے غریب لوگوں کی بنیادی ضرورتیں پوری ہونے کے ساتھ ان کے بچوں کی تعلیم کے اخراجات بھی پورے ہو رہے ہیں.

 

"انیتا" کہتی ہیں کہ ہمارے کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تقریبا 18 گاؤں میں ہماری کمپنی کے شیئر ہولڈرز خواتین موجود ہیں. ہر گاؤں میں شیئرہولڈرز خاتون کے گھر پر کلیکشن سنٹر بنایا گیا ہے, جہاں خواتین خود دودھ فروخت کر جاتی ہیں. ہر گاؤں کو 3 علاقوں میں تقسیم کرکے الگ الگ گاڑیاں وہاں جاتی ہیں اور وہ دودھ جمع کرکے کریم پور پلانٹ تک لاتی ہیں. پلانٹ پر ایک اعلی تعلیم یافتہ "برج راج سنگھ" کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر مقرر کیا گیا ہے اور دیگر پڑھے لکھے لوگوں کو بھی بھرتی کیا گیا ہے, جو ہمارے ہاں کام کرتے ہیں.

 

"ہری پیاری" کہتی ہیں کہ ہم ان پڑھ خواتین نے کئی بے کار اور بے روزگار نوجوانوں اور مردوں کی سوچ بدلی ہے کہ جب خواتین کام کرسکتی ہیں تو مرد کیوں نہیں کر سکتے کیا ابھی بھی وہ ہاتھوں میں چوڑیاں پہنے رہیں گے.

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


×
×
  • Create New...