Jump to content
Mehak

Bahadur Shah Zafar Poetry بہادر شاہ ظفر کی شاعری

Recommended Posts

قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چل

قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا

دنیا سے کیا بخیل بجز رنج لے چلا

منت تھی بوسۂ لب شیریں کہ دل مرا

مجھ کو سوئے مزار شکر گنج لے چلا

ساقی سنبھالتا ہے تو جلدی مجھے سنبھال

ورنہ اڑا کے پاں نشۂ بنج لے چلا

دوڑا کے ہاتھ چھاتی پہ ہم ان کی یوں پھرے

جیسے کوئی چور آ کے ہو نارنج لے چلا

چوسر کا لطف یہ ہے کہ جس وقت پو پڑے

ہم بر چہار بولے تو برپنج لے چلا

جس دم ظفرؔ نے پڑھ کے غزل ہاتھ سے رکھی

آنکھوں پہ رکھ ہر ایک سخن سنج لے چلا

Share this post


Link to post
Share on other sites

رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گا

رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گا

پھر کے برج سنبلہ میں آفتاب آ جائے گا

 

تیرا احساں ہوگا قاصد گر شتاب آ جائے گا

صبر مجھ کو دیکھ کر خط کا جواب آ جائے گا

 

ہو نہ بیتاب اتنا گر اس کا عتاب آ جائے گا

تو غضب میں اے دل خانہ خراب آ جائے گا

 

اس قدر رونا نہیں بہتر بس اب اشکوں کو روک

ورنہ طوفاں دیکھ اے چشم پر آب آ جائے گا

 

پیش ہووے گا اگر تیرے گناہوں کا حساب

تنگ ظالم عرصۂ روز حساب آ جائے گا

 

دیکھ کر دست ستم میں تیری تیغ آب دار

میرے ہر زخم جگر کے منہ میں آب آ جائے گا

 

اپنی چشم مست کی گردش نہ اے ساقی دکھا

دیکھ چکر میں ابھی جام شراب آ جائے گا

 

خوب ہوگا ہاں جو سینہ سے نکل جائے گا تو

چین مجھ کو اے دل پر اضطراب آ جائے گا

 

اے ظفرؔ اٹھ جائے گا جب پردہ شرم و حجاب

سامنے وہ یار میرے بے حجاب آ جائے گا

Share this post


Link to post
Share on other sites

جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا

جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا

یہ عشق جان کو میرے کوئی عذاب ہوا

 

کیا جو قتل مجھے تم نے خوب کام کیا

کہ میں عذاب سے چھوٹا تمہیں ثواب ہوا

 

کبھی تو شیفتہ اس نے کہا کبھی شیدا

غرض کہ روز نیا اک مجھے خطاب ہوا

 

پیوں نہ رشک سے خوں کیونکہ دم بہ دم اپنا

کہ ساتھ غیر کے وہ آج ہم شراب ہوا

 

تمہارے لب کے لب جام نے لیے بوسے

لب اپنے کاٹا کیا میں نہ کامیاب ہوا

 

گلی گلی تری خاطر پھرا بچشم پر آب

لگا کے تجھ سے دل اپنا بہت خراب ہوا

 

تری گلی میں بہائے پھرے ہے سیل سرشک

ہمارا کاسۂ سر کیا ہوا حباب ہوا

 

جواب خط کے نہ لکھنے سے یہ ہوا معلوم

کہ آج سے ہمیں اے نامہ بر جواب ہوا

 

منگائی تھی تری تصویر دل کی تسکیں کو

مجھے تو دیکھتے ہی اور اضطراب ہوا

 

ستم تمہارے بہت اور دن حساب کا ایک

مجھے ہے سوچ یہ ہی کس طرح حساب ہوا

 

ظفرؔ بدل کے ردیف اور تو غزل وہ سنا

کہ جس کا تجھ سے ہر اک شعر انتخاب ہو

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


×
×
  • Create New...