Jump to content

Recommended Posts

فیصلہ

                   ماریہ نورین

 

وہ ایک چھوٹا سا بچہ تھا۔ اس نے اسی معاشرے میں آنکھ کھولی تھی۔ جس میں رہنے والوں کی خواہشات کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ اس کی بھی چند معصوم سی خواہشات تھیں۔ سکول کا اچھا سا بستہ کتابیں ٹافیاں کھلونے اور اسی طرح کی چند دوسری چیزیں جو وہ اپنے ہم عمر بچوں کے ہاتھوں میں دیکھتا تھا۔

وہ کون تھا؟ یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ خود بھی نہیں۔ اس کا کیا نام تھا؟ معاشرے میں اسے لوگ ننھا کہہ کر پکارتے تھے ننھے کی ایک چھوٹی سی دنیا تھی جس میں وہ اٹھتا بیٹھتا تھا۔ کام کرتا اور سو جاتا تھا۔ یہ دنیا ایک چھوٹی سی دکان اور دو کمروں پر مشتمل تھی۔ جس میں وہ کام کرتا اور سوتا تھا یہ دکان اور گھر اس کے استاد کا تھا۔ ا سے ارد گرد کے ماحول سے کوئی سروکار نہ تھا۔ لیکن پھر ایک د ن ایسا بھی آیا کہ جب اس کی دنیا میں انقلاب آ گا۔

ادھر بیٹھ ذرا یہ ادھر سے کھول۔ استاد کے احکامات پر وہ اس طرح عمل کرتا جیسے وہ کوئی مشین ہو۔ استاد ہی تھا جو اس کا سب کچھ تھا۔ وہ اسے باپ کی طرح سمجھتا تھا۔ اور استاد نے بھی اسے بیٹوں کی طرح پالا تھا۔ لیکن کام کے معاملے میں وہ ذرا رعایت نہیں کرتا تھا۔

یہ کیا کر رہے ہو؟ ادھر سے کھولو۔ استاد کی آواز پر وہ چونکا ورنہ وہ تو کسی اور ہی دنیا میں پہنچا ہو ا تھا۔ وہ جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگا۔ لیکن پھر بھی اس کا ہاتھ ٹھیک طرح نہیں چل رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے ذہن میں ایک کار کے مالک کے الفاظ گونج رہے تھے۔

استاد تمہیں شرم نہیں آتی اتنے معصوم بچے سے کام لیتے ہو۔ یہ تو اس کے کھیلنے کودنے کے دن ہیں۔

آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں جناب لیکن ا س مہنگائی کے دور میں ہم غریب لو گ کیا کریں ؟ تعلیم اس قدر مہنگی ہے کہ اس کی کتابوں یونیفارم اور سکول کی فیس کا خرچ کون نکالے۔ ویسے بھی اس نے ایک دن پڑھ لکھ کر مکینک ہی بننا ہے۔

یہ تمہارا بچہ نہیں ہے نا اس لے تم اس کے ساتھ زیادتی کر رہے ہو۔ اس کے بعد کیا باتیں ہوئیں اسے کچھ یاد نہیں تھا۔ بس یہ آخری جملہ تیر کی طرح اس کے ذہن میں چبھ گیا تھا اور بار بار یہی جملہ گونج رہا تھا۔

لگتا ہے آج کام میں دل نہیں لگ رہا ہے تمہارا استاد کا لہجہ سخت تھا۔

نہیں تو… نہیں تو ایسی کوئی بات نہیں۔ بس صبح سے سر میں درد ہے۔ اس نے بہانہ کیا۔

اچھا! پہلے کیوں نہیں بتایا۔ جا اندر جا کا دراز میں رکھی شیشی سے ای گولی کھا لے اور ہاں … گولی کھ ا کر آرام کرنا استاد کا لہجہ نرم ہو گیا تھا۔

لگتا ہے بیچارا رات بھر کام کرنے کی وجہ سے تھک گیا ہے رات دیر سے جو سویا تھا۔ استادنے بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا لیکن ننھے نے جاتے جاتے بھی یہ الفاظ سن لیے۔

استاد میرا خیال کرتا ہے لیکن میں اس کا کیا لگتا ہوں ؟ وہ میرا کیوں خیال کرنے لگا۔ اسے تو بس اپنے کام سے غرض ہے ڈرتا ہے میں بیمار پڑ گیا تو اس کا اتنا کام کون کرے گا؟ اس نے دل میں سوچتے ہوئے اپنے آپ سے خود کلامی کی پھر یہی باتیں سوچتے سوچتے وہ سو  گیا۔ جب بیدار ہوا تو اس کے کا ن میں وہ مانوس آواز سن رہے تھے جو کل اس نے سنے تھے اگر تم کہو تو میں اس کی تعلیم کا خرچ اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔ میرا اپنا سکول ہے اسے کسی قسم کا مسئلہ نہیں رہے گا۔

وہ تو ٹھیک ہے … استاد کی آواز میں لڑکھڑاہٹ تھی۔

لیکن ویکن چھوڑو۔ میری بات مان لو۔ میں تمہیں سوچنے کا موقع دیتا ہوں۔ اگر تمہیں ننھے سے ذرا بھی محبت ہے تو اس سے یہ کام مت لو۔ یہ بچوں کے حقوق کے منافی ہے۔ اس کے بعد آوازیں آنا بند ہو گئیں۔ شاید وہ چال گیا تھا۔

ننھا فوراً اٹھا اور پھر  کام میں جٹ گیا لیکن اب وہ دیکھ رہا تھا کہ استاد کچھ کچھ پریشان ہے اور کن اکھیوں سے بار بار اس کی طرف دیکھتا۔ آخر کار جب رات ہوئی اور دونوں کھانا کھانے بیٹھے تو استاد نے ننھے کی طرف دیکھ کر کہا

ننھے تمہیں پتا ہے کہ آج وہی لال گاڑی والے سیٹھ آئے تھے جنہوں نے تمہیں پڑھنے کے لیے کتاب دی تھی۔

ہاں ہاں وہی جو مجھے پڑھنے کا کہ  رہے تھے۔ ننھا دل ہی دل میں خوش ہو کر بولا۔ آج کیا کہہ رہے تھے وہ؟ اس نے انجان بن کر پوچھا۔

کہتے تھے کہ تمہیں ان کے سکول میں داخل کرا دوں وہ تمہاری تعلیم کا خرچ اٹھانے کے لیے تیار ہیں لیکن ان کی ایک شرط ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ تم سے ورکشاپ میں کام نہ لوں وہ تمہیں اپنے پاس  رکھ لیں گے سکول کے کام کاج وہ تم سے لیں گے۔

استاد تم نے کیا کہا؟ ننھا جھٹ بول پڑا۔

میں تو بس تمہارے جواب کا منتظر ہوں۔ یہ فیصلہ تمہیں خود کرنا ہے کہ اپنے استاد کے پاس رہنا ہے یا ماسٹر صاحب کے پاس۔ وہ یہ سن کر بہت خوش ہو ا لیکن جب استاد کو چھوڑنے کی بات آئی تو اس کے دل میں عجب سی کشمکش شروع ہو گئی۔ وہ کچھ نہ بول سکا۔ لیکن استاد یہ کہہ کر کھانا چھوڑ کر اٹھ گیا کہ اس نے صاف محسوس کیا کہ استاد آنکھوں میں آنے والے آنسوؤں کو چھپانا چاہتا ہے۔

ایک طرف اس کا استاد تھا اور دوسری طرف ماسٹر صاحب اب اس کی آرزوئیں اور خواہشات پوری ہونے کا وقت آ گیا تھا۔ لیکن اس کے دل میں عجیب سی کسک تھی۔ آخر مجھے کیا ہو گیا ہے ؟ اس نے سوچا مجھے کیا پڑی ہے محنت مشقت کرنے کی۔ ان تمام تسلی دینے والی باتوں کے باوجود وہ اپنے دل کو تسلی نہ دے سکا۔ اب اسے انداز ہو رہا تھا کہ اس کے استاد کا اس سے کیا رشتہ ہے ؟

استاد اس نے بھرائی ہوئی آواز میں استاد کو مخاطب کیا میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ مجھے ایسی تعلیم نہیں چاہیے جو مجھے اپنوں سے بیگانہ کر دے۔ مجھے وہ تعلیم چاہے جو تم مجھے دیتے ہو یہ کہہ کر وہ بے اختیار استاد ک گلے لگ گیا۔ دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

نہیں ننھے ایسا نہیں ہو گا۔ تم سکول میں پڑھو گے۔ میں نے سوچ لیا ہے۔ میں نے یہ فیصلہ بہت پہلے ہی کر لیا تھا لیکن میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم کس کا ساتھ دیتے ہو؟ استادنے ننھے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ہکا۔

لیکن استاد… اس نے خوش ہو کر کہا۔ لیکن اب میری ایک شرط ہے ؟ اس نے کہا۔

وہ کیا؟ استاد نے حیران ہو کر پوچھا۔

استاد میں شام کو تمہارے ساتھ کام کروں گا۔ ننھے نے معصومیت سے کہا تو استاد نے خوشی سے اسے پھر گلے سے لگا لیا ہاں ہاں !! کیوں نہیں ننھے ؟

٭٭٭

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...