Jump to content
Sign in to follow this  
sunrise

Noshi Gilani Poetry - نوشی گیلانی کی شاعری

Recommended Posts

 دل تھا کہ خوش خیال ، تجھے دیکھ کر ھُوا 
یہ شہر بے مثال ، تجھے دیکھ کر ھُوا

اپنے خلاف شہر کے ، اندھے ھُجوم میں 
دل کو بہت ملال ، تجھے دیکھ کر ھُوا

طولِ شبِ فراق ، تیری خیر ھو کہ دِل 
آمادۂ وصال ، تجھے دیکھ کر ھُوا

یہ ھم ھی جانتے ھیں ، جدائی کے موڑ پر 
اِس دل کا جو بھی حال ، تجھے دیکھ کر ھُوا

آئی نہ تھی کبھی ، میرے لفظوں میں روشنی 
اور مجھ سے یہ کمال ، تجھے دیکھ کر ھُوا

بچھڑے تو جیسے ذھن معطل سا ھو گیا 
شہرِ سخن بحال ، تجھے دیکھ کر ھُوا

پھر لوگ آ گئے ، میرا ماضی کریدنے 
پھر مجھ سے اِک سوال ، تجھے دیکھ کر ھُوا

Share this post


Link to post
Share on other sites

اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا 
اس دل کی جھیل سی آنکھوں میں اک خواب بہت برباد ہوا

یہ ہجر ہوا بھی دشمن ہے اس نام کے سارے رنگوں کی 
وہ نام جو میرے ہونٹوں پر خوشبو کی طرح آباد ہوا

اس شہر میں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب بھول گئے 
اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا

وہ اپنے گاؤں کی گلیاں تھیں دل جن میں ناچتا گاتا تھا 
اب اس سے فرق نہیں پڑتا ناشاد ہوا یا شاد ہوا

بے نام ستائش رہتی تھی ان گہری سانولی آنکھوں میں 
ایسا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا دل اب جتنا بیداد ہوا

Share this post


Link to post
Share on other sites

اِک پشیمان سی حسرت سے مُجھے سوچتا ہے

اب وُہی شہر محبت سے مُجھے سوچتا ہے

میں تو محدُود سے لمحوں میں مِلی تھی اُس سے

پھر بھی وہ کِتنی وضاحت سے مُجھے سوچتا ہے

جِس نے سوچا ہی نہ تھا ہجر کا ممکن ہونا

دُکھ میں ڈوُبی  ہُوئی حیرت سے مُجھے سوچتا ہے

میں تو مَر جاؤں اگر سوچتے لگ جاؤں اُسے

اور وہ کِتنی سہُولت سے مُجھے سوچتا ہے

گرچہ اب ترکِ مراسم کو بہت دیر ہُوئی

اب بھی وہ میری اجازت سے مُجھے سوچتا ہے

کِتنا خوش فہم ہے وہ شخص کہ ہر موسم میں

اِک نئے رُخ نئی صُورت سے مُجھے سوچتا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

برف کے پگھلنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

اُس نے ہنس کے دیکھا تو مُسکرا دیے ہم بھی

ذات سے نکلنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

ہجر کی تمازت سے وصَل کے الاؤ تک

لڑکیوں کے جلنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

بات جیسی بے معنی بات اور کیا ہو گی

بات کے مُکرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

زعم کِتنا کرتے ہو اِک چراغ پر اپنے

اور ہَوا کے چلنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

جب یقیں کی بانہوں پر شک کے پاؤں  پڑ جائیں

چوڑیاں بِکھرنے میں دیر کِتنی لگنی ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

کون روک سکتا ہے

لاکھ ضبطِ خواہش کے

بے شمار دعوے ہوں

اُس کو بھُول جانے کے

بے پنہ اِرادے ہوں

اور اس محبت کو ترک کر کے جینے کا

فیصلہ سُنانے کو

کتنے لفظ سوچے ہوں

دل کو اس کی آہٹ پر

برَملا دھڑکنے سے کون روک سکتا ہے

پھر وفا کے  صحرا میں

اُس کے نرم لہجے اور سوگوار آنکھوں کی

خُوشبوؤں کو چھُونے کی

جستجو میں رہنے سے

رُوح تک پگھلنے سے

ننگے پاؤں چلنے سے

کون روک سکتا ہے

آنسوؤں کی بارش میں

چاہے دل کے ہاتھوں میں

ہجر کے مُسافر کے

پاؤں تک بھی چھُو آؤ

جِس کو لَوٹ جانا ہو

اس کو دُور جانے سے

راستہ بدلنے سے

دُور جا نکلنے سے

کون روک سکتا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

خامشی سے ہاری میں

خامشی سے ہاری میں

جان تجھ پہ واری میں

تِیرگی کے موسم میں

روشنی … پُکاری میں

عِشق میں بکھرنے تک

حوصلہ نہ ہاری میں

ڈھونڈنے وفا نِکلی

قِسمتوں کی ماری میں

اُس طرف زمانہ تھا

اِس طرف تھی ساری میں

زندگی کی بے سمتی

دیکھ تجھ سے باری میں

Share this post


Link to post
Share on other sites

عُمر رائیگاں کر دی تب یہ بات مانی ہے

موت اور محّبت کی ایک ہی کہانی ہے

کھیل جو بھی تھا جا ناں اب حساب کیا کرنا

جیت جس کسی کی ہو ہم نے بار مانی ہے

وصل پر بھی نادم تھے ہجر پر بھی شرمندہ

وہ بھی رائیگانی تھی یہ بھی رائیگانی ہے

یہ مِرا ہُنر تیری خوشبوؤں سے وابستہ

میرے سارے لفظوں پر تیری حکمرانی ہے

جانے کون شہزادہ کب چُرا کے لے جائے

وہ جو اپنے آنگن میں خُوشبوؤں کی رانی ہے

٭٭٭

Share this post


Link to post
Share on other sites

محّبت کم نہیں ہو گی

مِری آنکھیں سلامت ہیں

مِرا دل میرے سینے میں دھڑکتا ہے

مُجھے محسوس ہوتا ہے

محّبت کم نہیں ہو گی

محّبت ایک وعدہ ہے

جو سچاّئی کی ان دیکھی کسی ساعت میں ہوتا ہے

کِسی راحت میں ہوتا ہے

یہ وعدہ شاعری بن کر مرے جذبوں میں دھُلتا ہے

مجھے محسوس ہوتا ہے

محّبت کم نہیں ہو گی

محّبت ایک موسم ہے

کہ جس میں خواب اُگتے ہیں تو خوابوں کی ہری

شاخیں

گُلابوں کو بُلاتی ہیں

انھیں خُوشبو بناتی ہیں

یہ خُوشبو جب ہماری کھڑکیوں پر دستکیں دے کر

گُزرتی ہے

مُجھے محسوس ہوتا ہے

محّبت کم نہیں ہو گی

٭٭٭

Share this post


Link to post
Share on other sites

قریب تھا تو کسے فُرصت محبّت تھی

ہُوا ہے دُور تو اُس کی وفائیں یاد آئیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی

تری بات بات کی روشنی

مِرے حرف حرف میں بھر سکے

ترے لمس کی یہ شگفتگی

مرے جسم و جاں میں اُتر سکے

کوئی چاندنی کسِی گہرے رنگ کے راز کی

مرے راستوں میں بکھر سکے

تری گفتگو سے بناؤں میں

کوئی داستاں کوئی کہکشاں

ہوں محبتوں کی تمازتیں بھی کمال طرح سے مہرباں

ترے بازوؤں کی بہار میں

کبھی جُھولتے ہُوئے گاؤں میں

تری جستجو کے چراغ کو سر شام دِل میں جلاؤں

اِسی جھلملاتی سی شام میں

لِکھوں نظم جو ترا رُوپ ہو

کہیں سخت جاڑوں میں ایک دم جو چمک اُٹھے

کوئی خوشگوار سی دھُوپ ہو

جو وفا کی تال کے رقص کا

کوئی جیتا جاگتا عکس ہو

کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی

کہ ہر ایک لفظ کے ہاتھ میں

ترے نام کی

ترے حروف تازہ کلام کے

کئی راز ہوں

جنھیں مُنکشف بھی کروں اگر

تو جہان شعر کے باب میں

مِرے دل میں رکھی کتاب میں

ترے چشم و لب بھی چمک اٹھیں

مجھے روشنی کی فضاؤں میں کہیں گھیر لیں

کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی

٭٭٭

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...