Jump to content

Recommended Posts

Posted (edited)

ہوئے مر کے ہم جو رسوا

 

اب تو معمول سا بن گیا ہے کہ کہیں تعزیت یا تجہیز و تکفین میں شریک ہونا پڑے تو مرزا کو ضرور ساتھ لیتا ہوں۔ ایسے موقعوں پر ہر شخص اظہارِ ہمدردی کے طور پر کچھ نہ کچھ ضرور کہتا ہے۔ قطعۂ تاریخِ وفات ہی سہی۔ مگر مجھے نہ جانے کیوں چُپ لگ جاتی ہے، جس سے بعض اوقات نہ صِرف پس ماندگان کو بلکہ خُود مجھے بھی بڑا دکھ ہوتا ہے۔ لیکن مرزا نے چپ ہونا سِیکھا ہی نہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ صحیح بات کو غلَط موقع پر بے دغدغہ کہنے کی جو خدا داد صلاحیّت اُنہیں ودیعت ہوئی ہے وہ کچھ ایسی ہی تقریبوں میں گل کھلاتی ہے۔ وہ گھپ اندھیرے میں سرِ رہگزر چراغ نہیں جلاتے، پھلجھڑی چھوڑتے ہیں، جس سے بس ان کا اپنا چہرہ رات کے سیاہ فریم میں جگ مگ جگ مگ کرنے لگتا ہے۔ اور پھلجھڑی کا لفظ تو یونہی مروّت میں قلم سے نکل گیا، ورنہ ہوتا یہ ہے کہ

جس جگہ بیٹھ گئے آگ لگا کر اُٹھے

اس کے با وصف، وہ خدا کے ان حاضر و ناظر بندوں میں سے ہیں جو محلّے کی ہر چھوٹی بڑی تقریب میں، شادی ہو یا غمی، موجود ہوتے ہیں۔ بالخصوص دعوتوں میں سب سے پہلے پہنچتے اور سب کے بعد اٹھتے ہیں۔ اِس اندازِ نشست و برخاست میں ایک کھُلا فائدہ یہ دیا ہے کہ وہ باری باری سب کی غیبت کر ڈالتے ہیں۔ ان کی کوئی نہیں کر پاتا۔

چنانچہ اس سنیچر کی شام کو بھی میوہ شاہ قبرستان میں وہ میرے ساتھ تھے۔ سورج اس شہر خموشاں کو جسے ہزاروں بندگانِ خُدا نے مرمر کے بسایا تھا، لال انگارہ سی آنکھ سے دیکھتا دیکھتا انگریزوں کے اقبال کی طرح غُروب ہو رہا تھا۔ سامنے بیری کے درخت کے نیچے ایک ڈھانچہ قبر بدر پڑا تھا۔ چاروں طرف موت کی عمل داری تھی اور سارا قبرستان ایسا اداس اور اجاڑ تھا جیسے کسی بڑے شہر کا بازار اتوار کو۔ سبھی رنجیدہ تھے۔ (بقول مرزا، دفن کے وقت میّت کے سوا سب رنجیدہ ہوتے ہیں۔) مگر مرزا سب سے الگ تھلگ ایک پُرانے کتبے پر نظریں گاڑے مسکرا رہے تھے۔ چند لمحوں بعد میرے پاس آئے اور میری پسلیوں میں اپنی کُہنی سے آنکس لگاتے ہوئے اُس کتبے تک لے گئے، جس پر منجملہ تاریخِ پیدائش و پنشن، مولد و مسکن، ولدیّت و عہدہ (اعزازی مجسٹریٹ درجہ سوم) آسُودہ لحد کی تمام ڈگریاں مع ڈویژن اور یونیورسٹی کے نام کے کندہ تھیں اور آخر میں، نہایت جلی حروف میں، مُنہ پھیر کر جانے والے کو بذریعہ قطعہ بشارت دی گئی تھی کہ اللہ نے چاہا تو بہت جلد اُس کا بھی یہی حشر ہونے والا ہے۔

میں نے مرزاسے کہا "یہ لوحِ مرزا ہے یا ملازمت کی درخواست؟ بھلا ڈگریاں، عہدہ اور ولدیت وغیرہ لکھنے کا کیا تُک تھا؟”

انھوں نے حسبِ عادت بس ایک لفظ پکڑ لیا۔ کہنے لگے "ٹھیک کہتے ہو۔ جس طرح آج کل کسی کی عمر یا تنخواہ دریافت کرنا بُری بات سمجھی جاتی ہے، اِسی طرح، بالکل اِسی طرح بیس سال بعد کسی کی ولدیّت پُوچھنا بد اَخلاقی سمجھی جائے گی!”

اب مجھے مرزا کی چونچال طبیعت سے خطرہ محسوس ہونے لگا۔ لہٰذا انھیں ولدیّت کے مستقبل پر مسکراتا چھوڑ کر میں آٹھ دس قبر دُور ایک ٹکڑی میں شامل ہو گیا، جہاں ایک صاحب جنّت مکانی کے حالاتِ زندگی مزے لے لے کر بیان کر رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ خُدا غریقِ رحمت کرے، مرحُوم نے اِتنی لمبی عُمر پائی کہ ان کے قریبی اعزّہ دس پندرہ سال سے ان کی اِنشورنس پالیسی کی امّید میں جی رہے تھے۔ ان امّید واروں میں سے بیشتر کو مرحُوم خود اپنے ہاتھ سے مٹیّ دے چکے تھے۔ بقیہ کو یقین ہو گیا تھا کہ مرحُوم نے آبِ حیات نہ صرف چکھا ہے بلکہ ڈگڈگا کے پی چکے ہیں۔ راوی نے تو یہاں تک بیان کیا کہ ازبسکہ مرحُوم شروع سے رکھ رکھاؤ کے حد درجہ قائل تھے، لہٰذا آخر تک اس صحّت بخش عقیدے پر قائم رہے کہ چھوٹوں کو تعظیماً پہلے مرنا چاہیے۔ البتّہ اِدھر چند برسوں سے ان کو فلکِ کج رفتار سے یہ شکایت ہو چلی تھی کہ افسوس اب کوئی دشمن ایسا باقی نہیں رہا، جسے وہ مرنے کی بد دُعا دے سکیں۔

ان سے کٹ کر میں ایک دوسری ٹولی میں جا ملا۔ یہاں مرحوم کے ایک شناسا اور میرے پڑوسی ان کے گیلڑ لڑکے کو صبرِ جمیل کی تلقین اور گول مول الفاظ میں نعم البدل کی دعا دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ برخوردار! یہ مرحوم کے مرنے کے دن نہیں تھے۔ حالانکہ پانچ منٹ پہلے یہی صاحب، جی ہاں، یہی صاحب مجھ سے کہہ رہے تھے کہ مرحوم نے پانچ شال قبل دونوں بیویوں کو اپنے تیسرے سہرے کی بہاریں دکھائی تھیں اور یہ ان کے مرنے کے نہیں، ڈوب مرنے کے دن تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے انگلیوں پرحساب لگا کر کانا پھوسی کے انداز میں یہ تک بتایا کہ تیسری بیوی کی عمر مرحوم کی پنشن کے برابر ہے۔ مگر ہے بالکل سیدھی اور بے زبان۔ اس اللہ کی بندی نے کبھی پلٹ کر نہیں پوچھا کہ تمہارے منہ میں کے دانت نہیں ہیں۔ مگر مرحوم اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ انہوں نے محض اپنی دعاؤں کے زور سے موصوفہ کا چال چلن قابو میں کر رکھا ہے۔ البتہ بیاہتا بیوی سے ان کی کبھی نہیں بنی۔ بھری جوانی میں بھی میاں بیوی 62 کے ہند سے کی طرح ایک دوسرے سے منہ پھیرے رہے اور جب تک جیے، ایک دوسرے کے اعصاب پر سوار رہے۔ ممدوحہ نے مشہور کر رکھا تھا کہ (خدا ان کی روح کو نہ شرمائے) مرحوم شروع سے ہی ایسے ظالم تھے کہ ولیمے کا کھانا بھی مجھ نئی نویلی دلہن سے پکوایا۔

میں نے گفتگو کا رُخ موڑنے کی خاطر گنجان قبرستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھتے ہی چپّہ چپّہ آباد ہو گیا۔ مرزا حسب معمول پھر بیچ میں کود پڑے۔ کہنے لگے، دیکھ لینا، وہ دن زیادہ دور نہیں جب کراچی میں مردے کو کھڑا گاڑنا پڑے گا اور نائیلون کے ریڈی میڈ کفن میں اوپر زِپ (ZIP) لگے گی تاکہ منہ دیکھنے دکھانے میں آسانی رہے۔

مری طبیعت ان باتوں سے اوبنے لگی تو ایک دوسرے غول میں چلا گیا، جہاں دو نوجوان ستارے کے غلاف جیسی پتلونیں چڑھائے چہک رہے تھے۔ پہلے "ٹیڈی بوائے” کی پیلی قمیض پر لڑکیوں کی ایسی واہیات تصویریں بنی ہوئی تھیں کہ نظر پڑتے ہی ثقہ آدمی لاحول پڑھنے لگتے تھے اور ہم نے دیکھا کہ ہر ثقہ آدمی بار بار لاحول پڑھ رہا ہے۔ دوسرے نوجوان کو مرحوم کی بے وقت موت سے واقعی دلی صدمہ پہنچا تھا، کیونکہ ان کا سارا "ویک اینڈ” چوپٹ ہو گیا تھا۔

چونچوں اور چہلوں کا یہ سلسلہ شاید کچھ دیر اور جاری رہتا کہ اتنے میں ایک صاحب نے ہمت کر کے مرحوم کے حق میں پہلا کلمہ خیر کہا اور میری جان میں جان آئی۔ انہوں نے صحیح فرمایا "یوں آنکھ بند ہونے کے بعد لوگ کیڑے نکالنے لگیں، یہ اور بات ہے، مگر خدا ان کی قبر کو عنبریں کرے، مرحوم بلاشبہ صاف دل، نیک نیت انسان تھے اور نیک نام بھی۔ یہ بڑی بات ہے۔”

"نیک نامی میں کیا کلام ہے۔ مرحوم اگر یونہی منہ ہاتھ دھونے بیٹھ جاتے تو سب یہی سمجھتے کہ وضو کر رہے۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔” جملہ ختم ہونے سے پہلے مدّاح کی چمکتی چندیا یکایک ایک دھنسی ہوئی قبر میں غروب ہو گئی۔

اس مقام پر ایک تیسرے صاحب نے (جن سے میں واقف نہیں) کہا "روئے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہ” والے لہجے میں نیک نیتی اور صاف دلی کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض لوگ اپنی پیدائشی بزدلی کے سبب تمام عمر گناہوں سے بچے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس بعضوں کے دل و دماغ واقعی آئینے کی طرح صاف ہوتے ہیں۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ یعنی نیک خیال آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔

شامتِ اعمال کہ میرے منہ سے نکل گیا "نیت کا حال صرف خدا پر روشن ہے مگر اپنی جگہ یہی کیا کم ہے کہ مرحوم سب کے دکھ سکھ میں شریک اور ادنیٰ سے ادنیٰ پڑوسی سے بھی جھک کر ملتے تھے۔”

ارے صاحب! یہ سنتے ہی وہ صاحب تو لال بھبھوکا ہو گئے۔ بولے "حضرات! مجھے خدائی کا دعویٰ تو نہیں۔ تاہم اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اکثر بوڑھے خرّانٹ اپنے پڑوسیوں سے محض اس خیال سے جھک کر ملتے ہیں کہ اگر وہ خفا ہو گئے تو کندھا کون دے گا۔”

خوش قسمتی سے ایک خدا ترس نے میری حمایت کی۔ میرا مطلب ہے مرحوم کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے، ماشا اللہ، اتنی لمبی عمر پائی۔ مگر صورت پر ذرا نہیں برستی تھی۔ چنانچہ سوائے کنپٹیوں کے اور بال سفید نہیں ہوئے۔ چاہتے تو خضاب لگا کے خوردوں میں شامل ہو سکتے تھے۔ مگر طبیعت ایسی قلندرانہ پائی تھی کہ خضاب کا کبھی جھوٹوں بھی خیال نہیں آیا۔

وہ صاحب سچ مچ پھٹ پڑے "آپ کو خبر بھی ہے؟ مرحوم کا سارا سر پہلے نکاح کے بعد ہی سفید گالا ہو گیا تھا۔ مگر کنپٹیوں کو قصداً سفید رہنے دیتے تھے تاکہ کسی کو شبہ نہ گزرے کہ خضاب لگاتے ہیں۔ سلور گرے قلمیں! یہ تو ان کے میک اپ میں ایک نیچرل ٹچ تھا!”

"ارے صاحب! اسی مصلحت سے انہوں نے اپنا ایک مصنوعی دانت بھی توڑ رکھا تھا” ایک دوسرے بد گو نے تابُوت میں آخری کیل ٹھونکی۔

"کچھ بھی سہی وہ ان کھوسٹوں سے ہزار درجے بہتر تھے جو اپنے پوپلے منہ اور سفید بالوں کی داد چھوٹوں سے یوں طلب کرتے ہیں، گویا یہ ان کی ذاتی جد و جہد کا ثمرہ ہے۔” مرزا نے بگڑی بات بنائی۔

اُن سے پیچھا چھڑا کر کچی پکی قبریں پھاندتا میں منشی ثناء اللہ کے پاس جا پہنچا، جو ایک کتبے سے ٹیک لگائے بیری کے ہرے ہرے پتے کچر کچر چبا رہے تھے اور اس امر پر بار بار اپنی حیرانی کا اظہار فرما رہے تھے کہ ابھی پرسوں تک تو مرحوم باتیں کر رہے تھے۔ گویا ان کے اپنے آداب جانکنی کی رُو سے مرحوم کو مرنے سے تین چار سال پہلے چپ ہو جانا چاہیے تھا، بھلا مرزا ایسا موقع کہاں خالی جانے دیتے تھے۔ مجھے مخاطب کر کے کہنے لگے، یاد رکھو! مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔

یوں تو مرزا کے بیان کے مطابق مرحوم کی بیوائیں بھی ایک دوسرے کی چھاتی پر دو ہتّڑ مار مار کر بین کر رہی تھیں، لیکن مرحوم کے بڑے نواسے نے جو پانچ سال سے بے روزگار تھا، چیخ چیخ کر اپنا گلا بٹھا لیا تھا۔ منشی جی بیری کے پتوں کا رس چوس چوس کر جتنا اسے سمجھاتے پچکارتے، اتنا ہی وہ مرحوم کی پنشن کو یاد کر کے دھاڑیں مار مار کر روتا۔ اسے اگر ایک طرف حضرت عزرائیل سے گلہ تھا کہ انہوں نے تیس تاریخ تک انتظار کیوں نہ کیا تو دوسری طرف خود مرحوم سے بھی سخت شکوہ تھا

کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور؟

ادھر منشی جی کا سارا زور اس فلسفے پر تھا کہ برخوردار! یہ سب نظر کا دھوکا ہے۔ در حقیقت زندگی اور موت میں کوئی فرق نہیں۔ کم از کم ایشیا میں۔ نیز مرحوم بڑے نصیبہ ور نکلے کہ دنیا کے بکھیڑوں سے اتنی جلدی آزاد ہو گئے۔ مگر تم ہو کہ ناحق اپنی جوان جان کو ہلکان کیے جا رہے ہو۔ یونانی مثل ہے کہ

وہی مرتا ہے جو محبُوبِ خُدا ہوتا ہے

حاضرین ابھی دل ہی دل میں حسد سے جلے جا رہے تھے کہ ہائے، مرحوم کی آئی ہمیں کیوں نہ آ گئی کہ دم بھر کو بادل کے ایک فالسئی ٹکڑے نے سورج کو ڈھک لیا اور ہلکی ہلکی پھوار پڑنے لگی۔ منشی جی نے یکبارگی بیری کے پتّوں کا پھوک نگلتے ہوئے اس کو مرحوم کے بہشتی ہونے کا غیبی شگون قرار دیا۔ لیکن مرزا نے بھرے مجمع میں سر ہلا ہلا کر اس پیشگوئی سے اختلاف کیا۔ میں نے الگ لے جا کر وجہ پوچھی تو ارشاد ہوا:

"مرنے کے لیے سنیچرکا دن بہت منحوس ہوتا ہے۔”

لیکن سب سے زیادہ پتلا حال مرحوم کے ایک دوست کا تھا، جن کے آنسو کسی طرح تھمنے کا نام نہیں لیتے تھے کہ انھیں مرحوم سے دیرینہ ربط و رفاقت کا دعویٰ تھا۔ اِس رُوحانی یک جہتی کے ثبوت میں اکثر اس واقعے کا ذکر کرتے کہ بغدادی قاعدہ ختم ہونے سے ایک دن پہلے ہم دونوں نے ایک ساتھ سگرٹ پینا سیکھا۔ چنانچہ اس وقت بھی صاحب موصوف کے بین سے صاف ٹپکتا تھا کہ مرحوم کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت داغ بلکہ دغا دے گئے اور بغیر کہے سنے پیچھا چھڑا کے چپ چپاتے جنت الفردوس کو روانہ ہو گئے۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ اکیلے ہی اکیلے!

بعد میں مرزا نے صراحتہً بتایا کہ باہمی اخلاص و یگانگت کا یہ عالم تھا کہ مرحوم نے اپنی موت سے تین ماہ پیشتر موصوف سے دس ہزار روپئے سکّہ رائج الوقت بطور قرض حسنہ لیے اور وہ تو کہیے، بڑی خیریّت ہوئی کہ اسی رقم سے تیسری بیوی کا مہر معجّل بیباق کر گئے ورنہ قیامت میں اپنے ساس سسر کو کیا منہ دکھاتے۔

 

(۲)

آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ گنجان محلّوں میں مختلف بلکہ متضاد تقریبیں ایک دوسرے میں بڑی خوبی سے ضم ہو جاتی ہیں۔ گویا دونوں وقت مل رہے ہوں۔ چنانچہ اکثر حضرات دعوت ولیمہ میں ہاتھ دھوتے وقت چہلُم کی بریانی کی ڈکار لیتے، یا سویم میں شبینہ فتوحات کی لذیذ داستان سناتے پکڑے جاتے ہیں۔ لذّتِ ہمسایگی کا یہ نقشہ بھی اکثر دیکھنے میں آیا کہ ایک کوارٹر میں ہنی مون منایا جا رہا ہے تو رت جگا دیوار کے اس طرف ہو رہا ہے۔ اور یوں بھی ہوتا ہے کہ دائیں طرف والے گھر میں آدھی رات کو قوال بلّیاں لڑا رہے ہیں، تو حال بائیں طرف والے گھر میں آ رہا ہے۔ آمدنی ہمسائے کی بڑھتی ہے تو اس خوشی میں ناجائز خرچ ہمارے گھر کا بڑھتا ہے اور یہ سانحہ بھی بارہا گزرا کہ مچھلی طرحدار پڑوسن نے پکائی اور

مدّتوں اپنے بدن سے تری خوشبو آئی

اس تقریبی گھپلے کا صحیح اندازہ مجھے دوسرے دن ہوا جب ایک شادی کی تقریب میں تمام وقت مرحوم کی وفات حسرت آیات کے تذکرے ہوتے رہے۔ ایک بزرگ نے، کہ صورت سے خود پا بہ رکاب معلوم ہوتے تھے، تشویش ناک لہجے میں پوچھا، آخر ہوا کیا؟ جواب میں مرحوم کے ایک ہم جماعت نے اشاروں کنایوں میں بتایا کہ مرحوم جوانی میں اشتہاری امراض کا شکار ہو گئے۔ ادھیڑ عمر میں جنسی تونس میں مبتلا رہے۔ لیکن آخری ایام میں تقویٰ ہو گیا تھا۔

"پھر بھی آخر ہوا کیا؟” پا بہ رکاب مرد بزرگ نے اپنا سوال دہرایا۔

"بھلے چنگے تھے۔ اچانک ایک ہچکی آئی اور جاں بحق ہو گئے” دوسرے بزرگ نے انگوچھے سے ایک فرضی آنسو پوچھتے ہوئے جواب دیا۔

"سنا ہے چالیس برس سے مرض الموت میں مبتلا تھے” ایک صاحب نے سوکھے سے مُنہ سے کہا۔

"کیا مطلب؟”

"چالیس برس سے کھانسی میں مبتلا تھے اور آخر اسی میں انتقال فرمایا۔”

"صاحب! جنّتی تھے کہ کسی اجنبی مرض میں نہیں مرے۔ ورنہ اب تو میڈیکل سائنس کی ترقی کا یہ حال ہے کہ روز ایک نیا مرض ایجاد ہوتا ہے۔”

"آپ نے گاندھی گارڈن میں اس بوہری سیٹھ کو کار میں چہل قدمی کرتے نہیں دیکھا جو کہتا ہے کہ میں ساری عمر دمے پر اتنی لاگت لگا چکا ہوں کہ اب اگر کسی اور مرض میں مرنا پڑا تو خدا کی قسم، خودکشی کر لوں گا۔ "مرزا چٹکلوں پر اتر آئے۔

"واللہ! موت ہو تو ایسی ہو! (سسکی) مرحوم کے ہونٹوں پر عالم سکرات میں بھی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔”

"اپنے قرض خواہوں کا خیال آ رہا ہو گا” مرزا میرے کان میں پھُسپھُسائے۔ "گنہ گاروں کا منہ مرتے وقت سؤرجیسا ہوتا ہے، مگر چشم بد دُور۔ مرحوم کا چہرہ گلاب کی طرح کھلا ہوا تھا۔”

"صاحب! سلیٹی رنگ کا گلاب ہم نے آج تک نہیں دیکھا” مرزا کی ٹھنڈی ٹھنڈی ناک میرے کان کو چھونے لگی اور ان کے منہ سے کچھ ایسی آوازیں نکلنے لگیں جیسے کوئی بچہ چمکیلے فرنیچر پر گیلی انگلی رگڑ رہا ہو۔

اصل الفاظ تو ذہن سے محو ہو گئے، لیکن اتنا اب بھی یاد ہے کہ انگوچھے والے بزرگ نے ایک فلسفیانہ تقریر کر ڈالی، جس کا مفہوم کچھ ایسا ہی تھا کہ جینے کا کیا ہے۔ جینے کو تو جانور بھی جی لیتے ہیں، لیکن جس نے مرنا نہیں سیکھا، وہ جینا کیا جانے، ایک متبسم خود سپردگی، ایک بے تاب آمادگی کے ساتھ مرنے کے لیے ایک عمر کا ریاض درکار ہے۔ یہ بڑے ظرف، بڑے حوصلے کا کام ہے، بندہ نواز!

پھر انہوں نے بے موت مرنے کے خاندانی نسخے اور ہنستے کھیلتے اپنی روح قبض کرانے کے پینترے کچھ ایسے استادانہ تیور سے بیان کیے کہ ہمیں عطائی مرنے والوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نفرت ہو گئی۔

خاتمۂ کلام اس پر ہوا کہ مرحوم نے کسی روحانی ذریعہ سے سن گن پالی تھی کہ میں سنیچر کو مر جاؤں گا۔

"ہر مرنے والے کے متعلّق یہی کہا جاتا ہے” با تصویر قمیض والا ٹیڈی بوائے بولا۔

"کہ وہ سنیچر کو مر جائے گا؟” مرزا نے اس بد لگام کا منہ بند کیا۔

انگوچھے والے بزرگ نے شئے مذکور سے، پہلے اپنے نری کے جوتے کی گرد جھاڑی، پھر پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے مرحوم کے عرفان مرگ کی شہادت دی کہ جنت مکانی نے وصال سے ٹھیک چالیس دن پہلے مجھ سے فرمایا تھا کہ انسان فانی ہے!

انسان کے متعلق یہ تازہ خبر سن کر مرزا مجھے تخلیے میں لے گئے۔ در اصل تخلیے کا لفظ انھوں نے استعمال کیا تھا، ورنہ جس جگہ وہ مجھے دھکیلتے ہوئے لے گئے، وہ زنانے اور مردانے کی سرحد پر ایک چبوترہ تھا، جہاں ایک میراثن گھونگھٹ نکالے ڈھولک پر گالیاں گا رہی تھی۔ وہاں انھوں نے اس شغف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جو مرحوم کو اپنی موت سے تھا، مجھے آگاہ کیا کہ یہ ڈراما تو جنت مکانی اکثر کھیلا کرتے تھے۔ آدھی آدھی راتوں کو اپنی ہونے والی بیواؤں کو جگا کر دھمکیاں دیتے کہ میں اچانک اپنا سایہ تمھارے سر سے اٹھا لوں گا۔ چشم زون میں مانگ اجاڑ دوں گا۔ اپنے بے تکلف دوستوں سے بھی کہا کرتے کہ و اللہ! اگر خود کشی جرم نہ ہوتی تو کبھی کا اپنے گلے میں پھندا ڈال لیتا۔ کبھی یوں بھی ہوتا کہ اپنے آپ کو مردہ تصور کر کے ڈکرانے لگتے اور چشم تصور سے منجھلی کے سونٹا سے ہاتھ دیکھ کر کہتے: بخدا! میں تمہارا رنڈاپا نہیں دیکھ سکتا۔ مرنے والے کی ایک ایک خوبی بیان کر کے خشک سسکیاں بھرتے اور سسکیوں کے درمیان سگرٹ کے کش لگاتے اور جب اس عمل سے اپنے اوپر وقت طاری کر لیتے تو رو مال سے بار بار آنکھ کے بجائے اپنی ڈبڈبائی ہوئی ناک پونچھتے جاتے۔ پھر جب شدت گریہ سے ناک سرخ ہو جاتی تو ذرا صبر آتا اور وہ عالم تصّور میں اپنے کپکپاتے ہوئے ہاتھ سے تینوں بیواؤں کی مانگ میں یکے بعد دیگرے ڈھیروں افشاں بھرتے۔ اس سے فارغ ہو کر ہر ایک کو کہنیوں تک مہین مہین، پھنسی پھنسی چوڑیاں پہناتے (بیاہتا کو چوڑیاں کم پہناتے تھے)۔

حالانکہ اس سے پہلے بھی مرزا کو کئی مرتبہ ٹوک چکا تھا کہ خاقانیِ ہند استاد ذوقؔ ہر قصیدے کے بعد منہ بھر بھر کے کُلّیاں کیا کرتے تھے۔ تم پر ہر کلمے، ہر فقرے کے بعد واجب ہیں، لیکن اس وقت مرحوم کے بارے میں یہ اول جلول باتیں اور ایسے واشگاف لہجے میں سن کر میری طبیعت کچھ زیادہ ہی منغّض ہو گئی۔ میں نے دوسروں پر ڈھال کر مرزا کو سُنائی:

"یہ کیسے مسلمان ہیں مرزا! دعائے مغفرت نہیں کرتے، نہ کریں۔ مگر ایسی باتیں کیوں بناتے ہیں یہ لوگ؟”

"خلق خدا کی زبان کس نے پکڑی ہے۔ لوگوں کا منہ تو چہلم کے نوالے ہی سے بند ہوتا ہے۔ ”

 

(۳)

مجھے چہلم میں بھی شرکت کا اتفاق ہوا۔ لیکن سوائے ایک نیک طینت مولوی صاحب کے جو پلاؤ کے چاولوں کی لمبائی اور گلاوٹ کو مرحوم کے ٹھیٹ جنّتی ہونے کی نشانی قرار دے رہے تھے، بقیہ حضرات کی گل افشانی گفتار کا وہی انداز تھا۔ وہی جگ جگے تھے، وہی چہچہے!

ایک بزرگوار جو نان قورمے کے ہر آتشیں لقمے کے بعد آدھا آدھا گلاس پانی پی کر قبل از وقت سیر بلکہ سیراب ہو گئے تھے، منہ لال کر کے بولے کہ مرحوم کی اولاد نہایت نا خلف نکلی۔ مرحوم و مغفور شدومد سے وصیت فرما گئے تھے، کہ میری مٹی بغداد لے جائی جائے۔ لیکن نافرمان اولاد نے ان کی آخری خواہش کا ذرا پاس نہ کیا۔

اس پر ایک منہ پھٹ پڑوسی بول اٹھے "صاحب! یہ مرحوم کی سراسر زیادتی تھی کہ انہوں نے خود تو تا دم مرگ میونسپل حدود سے قدم باہر نہیں نکالا۔ حد یہ کہ پاسپوڑٹ تک نہیں بنوایا اور۔۔ ۔۔”

ایک وکیل صاحب نے قانونی موشگافی کی "بین الاقوامی قانون کے بموجب پاسپورٹ کی شرط صرف زندوں کے لیے ہے۔ مردے پاسپورٹ کے بغیر بھی جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔”

"لے جائے جا سکتے ہیں” مرزا پھر لقمہ دے گئے۔

"میں کہہ رہا تھا کہ یوں تو ہر مرنے والے کے سینے میں یہ خواہش سلگتی رہتی ہے کہ میرا کانسی کا مجسّمہ (جسے قدِ آدم بنانے کے لیے بسا اوقات اپنی طرف سے پورے ایک فٹ کا اضافہ کرنا پڑتا ہے) میونسپل پارک کے بیچوں بیچ استادہ کیا جائے اور۔۔ ۔۔ ۔”

"اور جملہ نازنینان شہر چار مہینے دس دن تک میرے لاشے کو گود میں لیے، بال بکھرائے بیٹھی رہیں” مرزا نے دوسرا مصرع لگایا۔

"مگر صاحب! وصّیتوں کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ چھٹپن کا قصّہ ہے۔ پیپل والی حویلی کے پاس ایک جھونپڑی میں 39ء تک ایک افیمی رہتا تھا۔ ہمارے محتاط اندازے کے مطابق عمر 66 سال سے کسی طرح کم نہ ہو گی، اس لیے کہ خود کہتا تھا کہ پینسٹھ سال سے تو افیم کھا رہا ہوں۔ چوبیس گھنٹے انٹا غفیل رہتا تھا۔ ذرا نشہ ٹوٹتا تو مغموم ہو جاتا۔ غم یہ تھا کہ دنیا سے بے اولادا جا رہا ہوں۔ اللہ نے کوئی اولاد دیرینہ نہ دی جو اس کی بان کی چارپائی کی جائز وارث بن سکے! اس کے متعلق محلے میں مشہور تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد سے نہیں نہایا ہے۔ اس کو اتنا تو ہم نے بھی کہتے سنا کہ خدا نے پانی صرف پینے کے لیے بنایا تھا مگر انسان بڑا ظالم ہے

راحتیں اور بھی ہیں غُسل کی راحت کے سوا

ہاں تو صاحب! جب اس کا دم آخر ہونے لگا تو محلے کی مسجد کے امام کا ہاتھ اپنے ڈوبتے دل پر رکھ کر یہ قول و قرار کیا کہ میری میت کو غسل نہ دیا جائے۔ بس پولے پولے ہاتھوں سے تیمّم کرا کے کفنا دیا جائے ورنہ حشر میں دامن گیر ہوں گا۔ ”

وکیل صاحب نے تائید کرتے ہوئے فرمایا "اکثر مرنے والے اپنے کرنے کے کام پسماندگان کو سونپ کر ٹھنڈے ٹھنڈے سدھار جاتے ہیں۔ پچھلی گرمیوں میں دیوانی عدالتیں بند ہونے سے چند یوم قبل ایک مقامی شاعر کا انتقال ہوا۔ واقعہ ہے کہ ان کے جیتے جی کسی فلمی رسالے نے بھی ان کی عُریاں نظموں کو شرمندۂ طباعت نہ کیا۔ لیکن آپ کو حیرت ہو گی کہ مرحوم اپنے بھتیجے کو ایصال ثواب کی یہ راہ سُجھا گئے کہ بعد مُردن میرا کلام حنائی کاغذ پر چھپوا کر سال کے سال میری برسی پر فقیروں اور مدیروں کو بلا ہدیہ تقسیم کیا جائے۔

پڑوسی کی ہمت اور بڑھی "اب مرحوم ہی کو دیکھیے۔ زندگی میں ہی ایک قطعۂ اراضی اپنی قبر کے لیے بڑے ارمانوں سے رجسٹری کرا لیا تھا گو کہ بچارے اس کا قبضہ پورے بارہ سال بعد لے پائے۔ نصیحتوں اور وصیتوں کا یہ عالم تھا کہ موت سے دس سال پیشتر اپنے نواسوں کے ایک فہرست حوالے کر دی تھی، جس میں نام بنام لکھا تھا کہ فلاں ولد فلاں کو میرا منہ نہ دکھایا جائے۔ (جن حضرات سے زیادہ آزردہ خاطر تھے، ان کے نام کے آگے ولدیت نہیں لکھی تھی۔) تیسری شادی کے بعد انہیں اس کا طویل ضمیمہ مرتب کرنا پڑا، جس میں تمام جوان پڑوسیوں کے نام شامل تھے۔”

"ہم نے تو یہاں تک سنا ہے کہ مرحوم نہ صرف اپنے جنازے میں شرکا کی تعداد متعین کر گئے بلکہ آج کے چہلم کا ’مینو’ بھی خود ہی طے فرما گئے تھے۔” وکیل نے خاکے میں شوخ رنگ بھرا۔

اس نازک مرحلے پر خشخشی داڑھی والے بزرگ نے پلاؤ سے سیر ہو کر اپنے شکم پر ہاتھ پھیرا اور ’مینو’ کی تائید و توصیف میں ایک مسلسل ڈکار داغی، جس کے اختتام پر اس معصوم حسرت کا اظہار فرمایا کہ کاش آج مرحوم زندہ ہوتے تو یہ انتظامات دیکھ کر کتنے خوش ہوتے!

اب پڑوسی نے تیغ زبان کو بے نیام کیا "مرحوم سدا سے سُوء ہضم کے مریض تھے۔ غذا تو غذا، بچارے کے پیٹ میں بات تک نہیں ٹھیرتی تھی۔ چٹ پٹی چیزوں کو ترستے ہی مرے۔ میرے گھر میں سے بتا رہی تھیں کہ ایک دفعہ ملیریا میں سرسام ہو گیا اور لگے بہکنے۔ بار بار اپنا سر منجھلی کے زانو پر پٹختے اور سہاگ کی قسم دلا کر یہ وصیت کرتے تھے کہ ہر جمعرات کو میری فاتحہ، چاٹ اور کنواری بکری کی سری پر دلوائی جائے۔”

مرزا پھڑک ہی تو گئے۔ ہونٹ پر زبان پھیرتے ہوئے بولے "صاحب! وصیتوں کی کوئی حد نہیں۔ ہمارے محلے میں ڈیڑھ پونے دو سال پہلے ایک اسکول ماسٹر کا انتقال ہوا، جنھیں میں نے عید بقر عید پر بھی سالم و ثابت پاجامہ پہنے نہیں دیکھا۔ مگر مرنے سے پہلے وہ بھی اپنے لڑکے کو ہدایت کر گئے کہ

پل بنا، چاہ بنا، مسجد و تالاب بنا!

لیکن حضور ابّا کی آخری وصیت کے مطابق فیض کے اسباب بنانے میں لڑکے کی مفلسی کے علاوہ ملک کا قانون بھی مزاحم ہوا۔”

"یعنی کیا؟” وکیل صاحب کے کان کھڑے ہوئے۔

"یعنی یہ کہ آج کل پُل بنانے کی اجازت صرف پی۔ ڈبلیو۔ ڈی کو ہے۔ اور بالفرض محال کرچی میں چار فٹ گہرا کنواں کھود بھی لیا تو پولیس اس کا کھاری کیچڑ پینے والوں کا چالان اقدام خود کشی میں کر دے گی۔ یوں بھی پھٹیچر سے پھٹیچر قصبے میں آج کل کنویں صرف ایسے ویسے موقعوں پر ڈوب مرنے کے لیے کام آتے ہیں۔ رہے تالاب، تو حضور! لے دے کے ان کا یہ مصرف رہ گیا ہے کہ دن بھر ان میں گاؤں کی بھینسیں نہائیں اور صبح جیسی آئی تھیں، اس سے کہیں زیادہ گندی ہو کر چراغ جلے باڑے میں پہنچیں۔ ”

خدا خدا کر کے یہ مکالمہ ختم ہوا تو پٹاخوں کا سلسلہ شروع ہو گیا:

"مرحوم نے کچھ چھوڑا بھی؟”

"بچے چھوڑے ہیں!”

"مگردوسرا مکان بھی تو ہے۔”

"اس کے کرایے کو اپنے مرزا کی سالانہ مرمت سفیدی کے لیے وقت کر گئے ہیں۔”

"پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ بیاہتا بیوی کے لیے ایک انگوٹھی بھی چھوڑی ہے۔ اگر اس کا نگینہ اصلی ہوتا تو کسی طرح بیس ہزار سے کم کی نہیں تھی۔”

"تو کیا نگینہ جھوٹا ہے؟”

"جی نہیں۔ اصلی امی ٹیشن ہے!”

"اور وہ پچاس ہزار کی انشورنس پالیسی کیا ہوئی؟”

"وہ پہلے ہی منجھلی کے مہر میں لکھ چکے تھے۔”

"اس کے بارے میں یار لوگوں نے لطیفہ گھڑ رکھا ہے کہ منجھلی بیوہ کہتی ہے کہ سرتاج کے بغیر زندگی اجیرن ہے۔ اگر کوئی ان کو دوبارہ زندہ کر دے تو میں بخوشی دس ہزار لوٹانے پر تیار ہوں۔”

"مرحوم اگر ایسا کرتے ہیں تو بالکل ٹھیک کرتے ہیں۔ ابھی تو ان کا کفن بھی میلا نہیں ہوا ہو گا۔ مگر سننے میں آیا ہے کہ منجھلی نے رنگے چنے دوپٹے اوڑھنا شروع کر دیا ہے۔”

"اگر منجھلی ایسا کرتی ہے تو بالکل ٹھیک کرتی ہے۔ آپ نے سنا ہو گا کہ ایک زمانے میں لکھنؤ کے نچلے طبقے میں یہ رواج تھا کہ چالیسویں پر نہ صرف انواع و اقسام کے پر تکلف کھانوں کا اہتمام کیا جاتا، بلکہ بیوہ بھی سولہ سنگھار کر کے بیٹھتی تھی تاکہ مرحوم کی ترسی ہوئی روح کماحقہ، متمتّع ہو سکے۔” مرزا نے ’ح’ اور ’ع’ صحیح مخرج سے ادا کرتے ہوئے مَرے پر آخری دُرّہ لگایا۔

واپسی پر راستے میں میں نے مرزا کو آڑے ہاتھوں لیا "جمعہ کو تم نے وعظ نہیں سنا؟ مولوی صاحب نے کہا تھا کہ مَرے ہوؤں کا ذکر کرو تو اچھائی کے ساتھ۔ موت کو نہ بھولو کہ ایک نہ ایک دن سب کو آنی ہے۔”

سڑک پار کرتے کرتے ایک دم بیچ میں اکڑ کر کھڑے ہو گئے۔ فرمایا "اگر کوئی مولوی یہ ذمّہ لے لے کہ مرنے کے بعد میرے نام کے ساتھ رحمۃ اللہ لکھا جائے گا تو آج ہی۔۔ ۔۔ اِسی وقت، اِسی جگہ مرنے کے لیے تیآر ہوں۔ تمہاری جان کی قس سم!”

آخری فقرہ مرزا نے ایک بے صبری کار کے بمپر پر تقریباً اکڑوں بیٹھ کر جاتے ہوئے ادا کیا۔

Edited by sunrise

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...