Jump to content
Sign in to follow this  
sunrise

تربیتِ اَولاد اور یہ فقیرِ پُر تقصیر

Recommended Posts

تربیتِ اَولاد اور یہ فقیرِ پُر تقصیر

 

نصیحت کی دھن میں مرزا یہ بھول گئے کہ دُشمنوں کی فہرست میں اضافہ کرنے میں خود انہوں نے ہمارا ہاتھ بٹایا ہے۔ جس کا اندازہ اگر آپ کو نہیں ہے تو آنے والے واقعات سے ہو جائے گا۔ ہم سے کچھ دور پی۔ ڈلیو۔ ڈی کے ایک نامی گرامی ٹھیکیدار تین کوٹھیوں میں رہتے ہیں۔ مارشل لاء کے بعد سے بچارے اتنے رقیق القلب ہو گئے ہیں کہ برسات میں کہیں سے بھی چھت گرنے کی خبر آئے، ان کا کلیجہ دھک سے رہ جاتا ہے۔ حُلیہ ہم اس لئے نہیں بتائیں گے کہ اسی بات پر مرزا سے بری طرح ڈانٹ کھا چکے ہیں۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ "ناک فلپس کے بلب جیسی، آواز میں بنک بلنیس کی کھنک، جسم خُوبصورت صراحی کے مانند۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ یعنی وسط سے پھیلا ہوا۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔” ہم نے آؤٹ لائن ہی بنائی تھی کہ مرزا گھایل لہجے میں بولے، "بڑے مزاح نگار بنے پھرتے ہو۔ تمہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ جسمانی نقائص کا مذاق اڑانا طنز و مزاح نہیں۔” کروڑ پتی ہیں، مگر انکم ٹیکس کے ڈر سے اپنے آپ کو لکھ پتی کہلواتے ہیں۔ مبدءِ فیّاض نے ان کی طبیعت میں کنجوسی کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے۔ روپیہ کمانے کو تو سبھی کماتے ہیں۔ وہ رکھنا بھی جانتے ہیں۔ کہتے ہیں، آمدنی بڑھانے کی سہل ترکیب یہ ہے کہ خرچ گھٹا دو۔ مرزا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بڑی بیٹی کو اس وجہ سے جہیز نہیں دیا کہ اس کی شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی، جو خود لکھ پتی تھا۔ اور دوسری بیٹی کو اس لئے نہیں دیا کہ اس کا دولہا دوالیہ تھا۔ سال چھ مہینے میں ناک کی کیل تک بیچ کھاتا۔ غرض لکشمی گھر کی گھر میں رہی۔

ہاں، تو انہی ٹھیکیدار صاحب کا ذکر ہے، جن کی جائداد منقولہ و غیر منقولہ، منکوحہ و غیر منکوحہ کا نقشہ شاعر شیوہ بیاں نے ایک مصرع میں کھینچ کر رکھ دیا ہے:

ایک اک گھر میں سو سو کمرے، ہر کمرے میں نار

اس حسین صورت حال کا نتائج اکثر ہمیں بھگتنے پڑتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ ہر نو مولود کے عقیقہ اور پہلی سال گرہ پر ہمیں سے یاد گار تصویر کھنچواتے ہیں۔ اور یہی کیا کم ہے کہ ہم سے کچھ نہیں لیتے۔ ادھر ڈھائی تین سال سے اتنا کرم اور فرمانے لگے ہیں کہ جیسے ہی خاندانی منصوبہ شکنی کی شبھ گھڑی قریب آتی ہے تو ایک نوکر، دائی کو اور دوسرا ہمیں بلانے دوڑتا ہے، بلکہ ایک آدھ دفعہ ایسا بھی ہوا کہ "وہ جاتی تھی کہ ہم نکلے” جن حضرات کو اس بیان میں شرارت ہمسایہ کی کار فرمائی نظر آئے، وہ ٹھیکیدار صاحب کے البم ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ ہمارے ہاتھ کی ایک نہیں، درجنوں تصویریں ملیں گی، جن میں موصوف کیمرے کی آنکھ میں آنکھیں ڈال کر نو مولود کے کان میں اذان دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

آئے دن کی زچگیاں جھیلتے جھیلتے ہم ہلکان ہو چکے تھے، مگر بوجہ شرم و خوش اخلاقی خاموش تھے۔ عقل کام نہیں کرتی تھی کہ اس کاروبار شوق کو کس طرح بند کیا جائے۔ مجبوراً (انگریزی محاورے کے مطابق) مرزا کو اپنے اعتماد میں لینا پڑا۔ احوال پُر ملال سن کر بولے، صاحب! ان سب پریشانیوں کا حل ایک پھولدار فراک ہے۔ ہم نے کہا، مرزا! ہم پہلے ہی ستائے ہوئے ہیں۔ ہم سے یہ ابسٹریکٹ گفتگو تو نہ کرو۔ بولے، تمہاری ڈھلتی جوانی کی قسم! مذاق نہیں کرتا۔ تمہاری طرح ہمسایوں کے لخت ہائے جگر کی تصویریں کھینچتے کھینچتے اپنا بھی بھُرکس نکل گیا تھا۔ پھر میں نے تو یہ کیا کہ ایک پھول دار فراک خریدی اور اس میں ایک نو زائیدہ بچے کی تصویر کھینچی۔ اوراس کی تین درجن کاپیاں بنا کر اپنے پاس رکھ لیں۔ اب جو کوئی اپنے نو مولود کی فرمائش کرتا ہے تو یہ شرط لگا دیتا ہوں کہ اچھی تصویر درکار ہے تو یہ خوبصورت پھولدار فراک پہنا کر کھنچواؤ۔ پھر کیمرے میں فلم ڈالے بغیر بٹن دباتا ہوں۔ اور دو تین دن کا بھلاوا دے کر اسی امّ التصاویر کی ایک کاپی پکڑا دیتا ہوں۔ ہر باپ کو اس میں اپنی شباہت نظر آتی ہے!

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...