Jump to content
Sign in to follow this  
sunrise

کار، کابلی والا اور الہ دین بے چراغ - مشتاق احمد یوسفی

Recommended Posts

Posted (edited)

اعصاب پر گھوڑا ہے سوار

علامہ اقبال نے ان شاعروں، صورت نگاروں اور افسانہ نویسوں پر بڑا ترس کھایا ہے جن کے اعصاب پر عورت سوار ہے۔ مگر ہمارے حبیبِ لبیب اور ممدوح بشارت فاروقی ان بدنصیبوں میں تھے جن کی بے داغ جوانی اس شاعر کے کلام کی طرح تھی جس کے بارے میں کسی نے کہا تھا کہ موصوف کا کلام غلطیوں اور لطف دونوں سے پاک ہے ! بشارت کی ٹریجیڈی شاعروں، آرٹسوں اور افسانہ نویسوں سے کہیں زیادہ گھور گھمبیر تھی۔ اس لئے کہ دُکھیا کے اعصاب پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی سوار رہا۔ سوائے عورت کے۔ اس دور میں جسے ناحق جوانی دیوانی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔، ان کے اعصاب پر بالترتیب مُلا، ناصح بزرگ، ماسٹر فاخر حسین، مولوی مظفر، داغ دہلوی، سیگل اور خُسر بزرگوار سوار رہے۔ خدا خدا کر کے وہ اسی ترتیب سے اُن پر سے اُترے تو گھوڑا سوار ہو گیا، جس کا قصہ ہم " اسکول ماسٹر کا خواب " میں بیان کر چکے ہیں۔ وہ سبز قدم ان کے خواب، ذہنی سکون اور گھریلو بجٹ پر جھاڑو پھیر گیا۔ روز روز کے چالان، جرمانے اور رشوت سے وہ اتنے عاجز آ چکے تھے کہ اکثر کہتے تھے کہ اگر مجھے چوائس دی جائے کہ تم گھوڑا بننا پسند کرو گے یا اس کا مالک یا اس کا کوچوان تو میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے 

SPCA کا انسپکٹر بننا پسند کروں گا جو اُن تینوں کا چالان کرتا ہے۔

Edited by sunrise

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...