Jump to content
ali

Ahmad Faraz Poetry - احمد فراز کی شاعری

Recommended Posts

اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا

اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا

 

ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شب فراق

اے مرگ ناگہاں ترا آنا بہت ہوا

 

ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا

اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا

 

اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی

اس سے ذرا سا ربط بڑھانا بہت ہوا

 

اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں

اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا

 

اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا

مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا

 

کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل

اے یاد یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا

 

کہتا تھا ناصحوں سے مرے منہ نہ آئیو

پھر کیا تھا ایک ہو کا بہانہ بہت ہوا

 

لو پھر ترے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر

احمد فرازؔ تجھ سے کہا نہ بہت ہوا

Share this post


Link to post
Share on other sites

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا

وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا

 

اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنی

تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا

 

ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں

میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا

 

زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا

تیری بخشش تری دہلیز پہ دھر جائے گا

 

ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فرازؔ

ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا

Share this post


Link to post
Share on other sites

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ

آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ

تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ

پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو

رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم

تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم

اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ

اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں

یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ

Share this post


Link to post
Share on other sites

Suna Hai Log Usay Aankh Bhar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Log Usay Aankh Bhar Ke Dekhte Hain

So Us Ke Shahar Mein Kuch Din Thehar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Rabt Hai Usko Kharaab Halon Se

So Apne Aap Ko Barbaad Karke Dekhte Hain

Suna Hai Dard Ki Ga-Hak Hai Chashm-E-Naaz Uski

So Ham Bhi Uski Gali Se Guzar Kar Dekhte Hain

Suna Hai Usko Bhi Hai Sheir-O-Shaeri Se Shaghaf

So Ham Bhi Moajze Apne Hunar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Bole To Baton Se Phol Jharte Hain

Yeh Baat Hai To Chalo Baat Kar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Raat Use Chaand Taktaa Rehta Hai

Sitare Baam-E-Falak Se Utar Kar Dekhte Hain

Suna Hai Din Ko Use Titliyaan Satati Hain

Suna Hai Raat Ko Jugnu Thehr Ke Dekhte Hain

Suna Hai Hashr Hain Uski Ghazal Si Aankhein

Suna Hai Usko Hiran Dasht Bhar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Uski Siyah Chashmagi Qayamat Hai

So Usko Surma Farosh Aankh Bhar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Uske Labon Se Gulab Jalte Hain

So Ham Bahaarh Pe Ilzaam Dhar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Aaeinaa Tamasil Hai Jabin Uski

Jo Saadaa Dil Hai Use Ban-Sanwar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Uske Badan Ke Taraash Aise Hain

Ke Phol Apni Qabaaein Katar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Uski Shabistaan Se Mut-Tasil Hai Bahisht

Makeen Udhar Ke Bhi Jalve Idhar Ke Dekhte Hain

Ruke Toh Gardishein Uska Tawaaf Karti Hain

Chale To Usko Zamaane Thehr Ke Dekhte Hain

Kahaniyan He Sahi Sab Mubalghe He Sahi

Agar Woh Khawab Hai Tou Taabir Kar Ke Dekhte Hain

Ab Usake Shehar Mein Thehrein Ke Koch Kar Jaein

"Faraz" Aao Sitare Safar Ke Dekhte Hain

Share this post


Link to post
Share on other sites

سنا ہے لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ہیں

 

سنا ہے لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ہیں

تو اس کے شہر میں‌کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے

سو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں

سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی

سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف

تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بولےتو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے

ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں

سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتےہیں

سنا ہے حشر ہیں‌اس کی غزال سی آنکھیں

سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں‌کاکلیں اس کی

سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے

سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہےجب سے حمائل ہے اس کی گردن میں

مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں

سو ہم بہار پہ الزام دھر کےدیکھتے ہیں

سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی

جو سادہ دل ہیں‌اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں

بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا

سو راہ روانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں

وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں

کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں

بس اك نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل كا

سو رہ روان تمنا بھی ڈر كے دیكھتے ہیں

سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت

مکیں‌ ادھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں

کسے نصیب کے بے پیرہن اسے دیکھے

کبھی کبھی درودیوار گھر کے دیکھتے ہیں

رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں

چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں

کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی

اگر وہ خواب ہے تعبیر کرکے دیکھتے ہیں

اب اس کے شہر میں‌ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں

فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں‌‌

احمد فراز

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا

 

عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا

خبر نہیں ہے کہ سورج کدھر سے نکلا تھا

 

یہ کون پھر سے انہیں راستوں میں چھوڑ گیا

ابھی ابھی تو عذاب سفر سے نکلا تھا

 

یہ تیر دل میں مگر بے سبب نہیں اترا

کوئی تو حرف لب چارہ گر سے نکلا تھا

 

یہ اب جو آگ بنا شہر شہر پھیلا ہے

یہی دھواں مرے دیوار و در سے نکلا تھا

 

میں رات ٹوٹ کے رویا تو چین سے سویا

کہ دل کا زہر مری چشم تر سے نکلا تھا

 

یہ اب جو سر ہیں خمیدہ کلاہ کی خاطر

یہ عیب بھی تو ہم اہل ہنر سے نکلا تھا

 

وہ قیس اب جسے مجنوں پکارتے ہیں فرازؔ

تری طرح کوئی دیوانہ گھر سے نکلا تھا

Share this post


Link to post
Share on other sites

قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتا

 

قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتا

وہ شخص کوئی فیصلہ کر بھی نہیں جاتا

 

آنکھیں ہیں کہ خالی نہیں رہتی ہیں لہو سے

اور زخم جدائی ہے کہ بھر بھی نہیں جاتا

 

وہ راحت جاں ہے مگر اس در بدری میں

ایسا ہے کہ اب دھیان ادھر بھی نہیں جاتا

 

ہم دوہری اذیت کے گرفتار مسافر

پاؤں بھی ہیں شل شوق سفر بھی نہیں جاتا

 

دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے

اور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا

 

پاگل ہوئے جاتے ہو فرازؔ اس سے ملے کیا

اتنی سی خوشی سے کوئی مر بھی نہیں جاتا

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے وال

 

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا

وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

 

اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا

سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا

 

صبح دم چھوڑ گیا نکہت گل کی صورت

رات کو غنچۂ دل میں سمٹ آنے والا

 

کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے

وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا

 

تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیا

آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا

 

منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں

کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا

 

کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتنا

ہے وہی مجھ کو سر دار بھی لانے والا

 

میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے

ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا

 

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

Share this post


Link to post
Share on other sites

 تُو پاس بھی ھو تو ، دل بے قرار اپنا ھے
کہ ھم کو تیرا نہیں ، انتظار اپنا ھے

ملے کوئی بھی ، ذکر تیرا چھیڑ دیتے ھیں
کہ جیسے سارا جہاں ، راز دار اپنا ھے

وہ دُور ھو تو بجا ، ترکِ دوستی کا خیال
وہ سامنے ھو تو ، کب اختیار اپنا ھے

زمانے بھر کے دُکھوں کو ، لگا لیا دل سے
اس آسرے پہ ، کہ اِک غمگسار اپنا ھے

فراز راحتِ جاں بھی وھی ھے ، کیا کیجیے
وہ جس کے ھاتھوں سینہ فگار اپنا ھے

Share this post


Link to post
Share on other sites

 یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے 
ہم خواب بیچنے سرِ بازار آ گئے

یوسفؑ نہ تھے مگر سرِ بازار آ گئے 
خُوش فہمیاں یہ تھیں کہ خریدار آ گئے

اب دل میں حوصلہ نہ سکت بازوؤں میں ہے 
اب کہ مقابلے پہ میرے یار آ گئے

آواز دے کے چُھپ گئی ہر بار زندگی 
یم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آ گئے

ہم کج ادا چراغ کہ جب بھی ہوا چلی
تاکوں کو چھوڑ کر سرِ دیوار آ گئے

سُورج کی روشنی پہ جنہیں ناز تھا فرازؔ
وہ بھی تو زیرِ سایۂ دیوار آ گئے

Share this post


Link to post
Share on other sites

 ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے 
ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے

نو گرفتار وفا سعئ رہائی ہے عبث 
ہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے پہلے

خوش ہو اے دل کہ محبت تو نبھا دی تو نے 
لوگ اجڑ جاتے ہیں انجام سے پہلے پہلے

اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں 
کتنی رغبت تھی ترے نام سے پہلے پہلے

سامنے عمر پڑی ہے شب تنہائی کی 
وہ مجھے چھوڑ گیا شام سے پہلے پہلے

کتنا اچھا تھا کہ ہم بھی جیا کرتے تھے فرازؔ 
غیر معروف سے گمنام سے پہلے پہلے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


×
×
  • Create New...