Jump to content
  • Join Forums Pakistan .....

    Join Forums Pakistsan now, its FREE !!!

sunrise

Mohsin Naqvi Poetry - محسن نقوی کی شاعری

Recommended Posts

میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا

 

میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا

مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا

 

یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو

میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا

 

ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں

ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا

 

وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے

پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا

 

اسی خیال میں گزری ہے شام درد اکثر

کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا

 

تو آسمان کی صورت ہے گر پڑے گا کبھی

زمیں ہوں میں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا

 

بڑھا رہی ہیں مرے دکھ نشانیاں تیری

میں تیرے خط تری تصویر تک جلا دوں گا

 

بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسنؔ

اس آئنے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا

Edited by sunrise

Share this post


Link to post
Share on other sites

بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں

 

بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں

صحرا میرا چہرہ ہے تو سمندر تیری آنکھیں

 

پھر کون بھلا دادِ تبسم انھیں دے گا

روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تیری آنکھیں

 

بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن

کھلتی ہیں بہت دل میں اُتر کر تیری آنکھیں

 

اب تک میری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا

بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تیری آنکھیں

 

ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں

پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تیری آنکھیں

 

یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسن

وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تیری آنکھیں

Edited by sunrise
  • Thanks 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

نہ وہ مِلتا ہے نہ مِلنے کا اِشارہ کوئی

کیسے اُمّید کا چمکے گا سِتارہ کوئی

 

حد سے زیادہ، نہ کسی سے بھی محبّت کرنا

جان لیتا ہے سدا ، جان سے پیارا کوئی

 

بیوفائی کے سِتم تم کو سمجھ آجاتے

کاش ! تم جیسا اگر ہوتا تمھارا کوئی

 

چاند نے جاگتے رہنے کا سبب پُوچھا ہے

کیا کہَیں ٹُوٹ گیا خواب ہمارا کوئی

 

سب تعلّق ہیں ضرورت کے یہاں پر، مُحسنؔ

نہ کوئی دوست، نہ اپنا، نہ سہارا کوئی

 

مُحسنؔ نقوی

Edited by sunrise
  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

محبتوں کی ہوس کے اسیر ہم بھی نہیں

غلط نہ جان کہ اتنے حقیر ہم بھی نہیں

 

نہیں ہو تم بھی قیامت کی تُندوتیز ہوا

کسی کے نقشِ قدم کی لکیر ہم بھی نہیں

 

ہماری ڈوبتی نبضوں سے زندگی تو نہ مانگ

سخی تو ہیں مگر اتنے امیر ہم بھی نہیں

 

کرم کی بھیک نہ دے، اپنا تخت بخت سنبھال

ضرورتوں کا خُدا تُو ہےتو فقیر ہم بھی نہیں

 

ہمیں بُجھا دے، ہماری اَنا کو قتل نہ کر

کہ بے ضررہی سہی، بے ضمیر ہم بھی نہیں

Edited by sunrise
  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

اتنی مدت بعد ملے ہو

کن سوچوں میں گم پھرتے ہو

 

اتنے خائف کیوں رہتے ہو

ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو

 

تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا

ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو

 

کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے

رات گئے تک کیوں جاگے ہو

 

میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں

تم دریا سے بھی گہرے ہو

Share this post


Link to post
Share on other sites

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں

کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں

 

کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دل

زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں

 

موسم زرد میں اک دل کو بچاؤں کیسے

ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

 

اب کوئی کیا مرے قدموں کے نشاں ڈھونڈے گا

تیز آندھی میں تو خیمے بھی اکھڑ جاتے ہیں

 

شغل ارباب ہنر پوچھتے کیا ہو کہ یہ لوگ

پتھروں میں بھی کبھی آئنے جڑ جاتی ہیں

 

سوچ کا آئنہ دھندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ

چاند چہروں کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں

 

شدت غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی

کچھ دیئے تند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں

 

وہ بھی کیا لوگ ہیں محسنؔ جو وفا کی خاطر

خود تراشیدہ اصولوں پہ بھی اڑ جاتے ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا

دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا

 

کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دے

خامشی کا وہی انداز صداؤں جیسا

 

پاس رہ کر بھی ہمیشہ وہ بہت دور ملا

اس کا انداز تغافل تھا خداؤں جیسا

 

کتنی شدت سے بہاروں کو تھا احساس‌ مآل

پھول کھل کر بھی رہا زرد خزاؤں جیسا

 

کیا قیامت ہے کہ دنیا اسے سردار کہے

جس کا انداز سخن بھی ہو گداؤں جیسا

 

پھر تری یاد کے موسم نے جگائے محشر

پھر مرے دل میں اٹھا شور ہواؤں جیسا

 

بارہا خواب میں پا کر مجھے پیاسا محسنؔ

اس کی زلفوں نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا

Share this post


Link to post
Share on other sites

اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا

 

کس کے بس میں تھا ہوا کی وحشتوں کو روکنا

برگ گل کو خاک شعلے کو دھواں ہونا ہی تھا

 

جب کوئی سمت سفر طے تھی نہ حد رہ گزر

اے مرے رہ رو سفر تو رائیگاں ہونا ہی تھا

 

مجھ کو رکنا تھا اسے جانا تھا اگلے موڑ تک

فیصلہ یہ اس کے میرے درمیاں ہونا ہی تھا

 

چاند کو چلنا تھا بہتی سیپیوں کے ساتھ ساتھ

معجزہ یہ بھی تہہ آب رواں ہونا ہی تھا

 

میں نئے چہروں پہ کہتا تھا نئی غزلیں سدا

میری اس عادت سے اس کو بد گماں ہونا ہی تھا

 

شہر سے باہر کی ویرانی بسانا تھی مجھے

اپنی تنہائی پہ کچھ تو مہرباں ہونا ہی تھا

 

اپنی آنکھیں دفن کرنا تھیں غبار خاک میں

یہ ستم بھی ہم پہ زیر آسماں ہونا ہی تھا

 

بے صدا بستی کی رسمیں تھیں یہی محسنؔ مرے

میں زباں رکھتا تھا مجھ کو بے زباں ہونا ہی تھا

Share this post


Link to post
Share on other sites

اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا

ابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتا

 

اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے جب تک

زیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا

 

موج در موج الجھنے کی ہوس بے معنی

ڈوبتا ہو تو سہارا نہیں دیکھا جاتا

 

تیرے چہرے کی کشش تھی کہ پلٹ کر دیکھا

ورنہ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا

 

آگ کی ضد پہ نہ جا پھر سے بھڑک سکتی ہے

راکھ کی تہہ میں شرارہ نہیں دیکھا جاتا

 

زخم آنکھوں کے بھی سہتے تھے کبھی دل والے

اب تو ابرو کا اشارا نہیں دیکھا جاتا

 

کیا قیامت ہے کہ دل جس کا نگر ہے محسنؔ

دل پہ اس کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا

Share this post


Link to post
Share on other sites

بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا

ہوا سے ڈرنا بجھے چراغوں سے پیار کرنا

 

کھلی زمینوں میں جب بھی سرسوں کے پھول مہکیں

تم ایسی رت میں سدا مرا انتظار کرنا

 

جو لوگ چاہیں تو پھر تمہیں یاد بھی نہ آئیں

کبھی کبھی تم مجھے بھی ان میں شمار کرنا

 

کسی کو الزام بے وفائی کبھی نہ دینا

مری طرح اپنے آپ کو سوگوار کرنا

 

تمام وعدے کہاں تلک یاد رکھ سکو گے

جو بھول جائیں وہ عہد بھی استوار کرنا

 

یہ کس کی آنکھوں نے بادلوں کو سکھا دیا ہے

کہ سینۂ سنگ سے رواں آبشار کرنا

 

میں زندگی سے نہ کھل سکا اس لیے بھی محسنؔ

کہ بہتے پانی پہ کب تلک اعتبار کرنا

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


×
×
  • Create New...