Jump to content
  • Join Forums Pakistan .....

    Join Forums Pakistsan now, its FREE !!!

Mehak

Other Poetry - متفرق شاعری

Recommended Posts

مانا چرچے ہیں تمہاری خوبصورتی کے آج کل

مگر شاعری ہماری بھی ان دنوں عروج پر ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

یہ بھی اک خطا تھی کہ میں

خدا سے پہلے،، تیرے سامنے رویا

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہم تو تیری ہر خواہش پوری ہونے کی دعا کر بیٹھے

ہمیں کیا پتہ تھا کہ ہمیں بھول جانا بھی تیری خواہش تھی؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

جو لطف مے کشی ہے نگاروں میں آئے گا

 

جو لطف مے کشی ہے نگاروں میں آئے گا

یا با شعور بادہ گساروں میں آئے گا

 

وہ جس کو خلوتوں میں بھی آنے سے عار ہے

آنے پہ آئے گا تو ہزاروں میں آئے گا

 

ہم نے خزاں کی فصل چمن سے نکال دی

ہم کو مگر پیام بہاروں میں آئے گا

 

اس دور احتیاج میں جو لوگ جی لئے

ان کا بھی نام شعبدہ کاروں میں آئے گا

 

جو شخص مر گیا ہے وہ ملنے کبھی کبھی

پچھلے پہر کے سرد ستاروں میں آئے گا

Share this post


Link to post
Share on other sites

بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا 
ہوا سے ڈرنا بجھے چراغوں سے پیار کرنا 

کھلی زمینوں میں جب بھی سرسوں کے پھول مہکیں 
تم ایسی رت میں سدا مرا انتظار کرنا 

جو لوگ چاہیں تو پھر تمہیں یاد بھی نہ آئیں 
کبھی کبھی تم مجھے بھی ان میں شمار کرنا 

کسی کو الزام بے وفائی کبھی نہ دینا 
مری طرح اپنے آپ کو سوگوار کرنا 

تمام وعدے کہاں تلک یاد رکھ سکو گے 
جو بھول جائیں وہ عہد بھی استوار کرنا 

یہ کس کی آنکھوں نے بادلوں کو سکھا دیا ہے 
کہ سینۂ سنگ سے رواں آبشار کرنا 

میں زندگی سے نہ کھل سکا اس لیے بھی محسنؔ 
کہ بہتے پانی پہ کب تلک اعتبار کرنا

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

راز الفت چھپا کے دیکھ لیا

دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا

اور کیا دیکھنے کو باقی ہے

آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا

وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے

ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا

آج ان کی نظر میں کچھ ہم نے

سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا

فیضؔ تکمیل غم بھی ہو نہ سکی

عشق کو آزما کے دیکھ لیا

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

کوئی تو بات ہے اُس میں فیض...

ہر خُوشی جِس پہ لُٹا دی ہم نے... 

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

جام مے، دست عطا، چشم کرم، شیریں  لب

کاش  مل  جائیں  ہمیں  آج  یہ  سب  سوغاتیں

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

مسکراہٹ دیکھ کر ان کی ہم ہوش گنوا بیٹھے 💕

ہم ہوش میں آنے کو تھے وہ پھر مسکرا بیٹھے 

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

اگر دیکھ پاتے تم____میری چاہت کی انتہا 

‏تو "ہم تم" سے نہیں "تم ہم " سے محبت کرتے

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں ہوں حیراں یہ سلسلہ کیا ہے

آئنہ مجھ میں ڈھونڈھتا کیا ہے

 

خود سے بیتاب ہوں نکلنے کو

کوئی بتلائے راستہ کیا ہے

 

میں حبابوں کو دیکھ کر سمجھا

ابتدا کیا ہے انتہا کیا ہے

 

میں ہوں یکجا تو پھر مرے اندر

ایک مدت سے ٹوٹتا کیا ہے

 

خود ہی تنہائیوں میں چلاؤں

خود ہی سوچوں یہ شور سا کیا ہے

 

جانے کب کیا جنوں میں کر جاؤں

میں تو دیوانہ ہوں مرا کیا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

خود سے میں بے یقیں ہوا ہی نہیں

آسماں تھا زمیں ہوا ہی نہیں

 

عشق کہتے ہیں سب جسے ہم سے

وہ گناہ حسیں ہوا ہی نہیں

 

وصل بھی اس کا اس کے جیسا تھا

جو گماں سے یقیں ہوا ہی نہیں

 

خانۂ دل سرا کی صورت ہے

کوئی اس میں مکیں ہوا ہی نہیں

 

لاکھ چاہا مگر سخن میرا

قابل آفریں ہوا ہی نہیں

 

میں بھی خود کو سنوارتا محسنؔ

آئنہ نکتہ چیں ہوا ہی نہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

چاند تارے بنا کے کاغذ پر

خوش ہوئے گھر سجا کے کاغذ پر

 

بستیاں کیوں تلاش کرتے ہیں

لوگ جنگل اگا کے کاغذ پر

 

جانے کیا ہم سے کہہ گیا موسم

خشک پتا گرا کے کاغذ پر

 

ہنستے ہنستے مٹا دیے اس نے

شہر کتنے بسا کے کاغذ پر

 

ہم نے چاہا کہ ہم بھی اڑ جائیں

ایک چڑیا اڑا کے کاغذ پر

 

لوگ ساحل تلاش کرتے ہیں

ایک دریا بہا کے کاغذ پر

 

ناؤ سورج کی دھوپ کا دریا

تھم گئے کیسے آ کے کاغذ پر

 

خواب بھی خواب ہو گئے عادلؔ

شکل و صورت دکھا کے کاغذ پر

Share this post


Link to post
Share on other sites

شباب آ گیا اس پر شباب سے پہلے

دکھائی دی مجھے تعبیر خواب سے پہلے

 

جمال یار سے روشن ہوئی مری دنیا

وہ چمکی دل میں کرن ماہتاب سے پہلے

 

دل و نگاہ پہ کیوں چھا رہا ہے اے ساقی

یہ تیری آنکھ کا نشہ شراب سے پہلے

 

نہ پیش نامۂ اعمال کر ابھی اے جوشؔ

حساب کیسا یہ روز حساب سے پہلے

Share this post


Link to post
Share on other sites

آنکھ ٹکتی نہ تھی چہرے پہ حسین ایسا تھا

دل کی دنیا میں کوئی جلوہ نشین ایسا تھا

 

دسترس میں تھی مگر پا نہ سکا وہ مجھ کو

دل میں اک عمر سے وہ شخص مکین ایسا تھا

 

عہد و پیماں سے مکرنے کا سلیقہ تھا اسے

دیتا رہتا تھا دلیلیں وہ ذہین ایسا تھا

 

اب تو بنجر ہوا ویراں ہوا برباد ہوا

خطۂ دل کبھی شاداب زمین ایسا تھا

 

مجھ کو جاگیر سمجھتا تھا وہ اپنی جاناں

میں اسی کی ہوں اسے مجھ پہ یقین ایسا تھا

 

جاناں ملک

Share this post


Link to post
Share on other sites

پھول خوشبو ان پہ اڑتی تتلیوں کی خیر ہو

سب کے آنگن میں چہکتی بیٹیوں کی خیر ہو

 

جتنے میٹھے لہجے ہیں سب گیت ہوں گے ایک دن

میٹھے لہجوں سے مہکتی بولیوں کی خیر ہو

 

چنریوں میں خواب لے کر چل پڑی ہیں بیٹیاں

ان پرائے دیس جاتی ڈولیوں کی خیر ہو

 

بارشوں کے شور میں کیوں جاگتے ہیں درد بھی

صحن جاں میں رقص کرتی بدلیوں کی خیر ہو

 

رخت دل کو تھام کر وہ آ گئی ہیں ریت پر

خواہشوں کی خیر ہو ان پگلیوں کی خیر ہو

 

اب کبوتر فاختائیں جا چکی ہیں گاؤں سے

اے خداوند پیڑ کی اور بستیوں کی خیر ہو

 

رات ہے بابرؔ کھڑی سیلاب کا بھی زور ہے

ساحلوں کی مانجھیوں کی کشتیوں کی خیر ہو

 

احمد سجاد بابر

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


×
×
  • Create New...