Jump to content
Mehak

Other Poetry - متفرق شاعری

Recommended Posts

بڑے ناز سے سویا تھا وہ ہمارے سینے پر سر رکھ کر  اے  ساغر

ہم نے دھڑکن ہی روک لی کہیں اس کی نیند نہ ٹوٹ جاۓ

Edited by sunrise

Share this post


Link to post
Share on other sites

 وہ اشک بن کے مری چشمِ تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے  پانی کے گھر میں رہتا ہے

وہی تو میری شبِ غم کا اِک ستارہ ہے
وہ اِک ستارہ جو چشمِ سحر میں رہتا ہے

جو میرے ہونٹوں پہ آئے تو گنگناؤں اُسے
وہ شعر بن کے بیاضِ نظر میں رہتا ہے

گزرتا وقت مرا غمگسار کیا ہوگا ؟
یہ خود تعاقبِ شام و سحر میں رہتا ہے

مرا ہی روپ ہے تو غور سے اگر دیکھے
بگولہ سا جو تری رہگزر میں رہتا ہے

نہ جانے کون ہے جس کی تلاش میں بسمل
ہر ایک سانـس مرا اب سفر میں رہتا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

 چھپائے دل میں غموں کا جہان بیٹھے ہیں
تمہاری بزم میں ہم بے زبان بیٹھے ہیں

یہ اور بات کہ منزل پہ ہم پہنچ نہ سکے
مگر یہ کم ہے کہ راہوں کو چھان بیٹھے ہیں

فغاں ہے، درد ہے، سوز و فراق و داغ و الم
ابھی تو گھر میں بہت مہربان بیٹھے ہیں

اب اور گردشِ تقدیر کیا ستائے گی
لٹا کے عشق میں نام و نشان بیٹھے ہیں

وہ ایک لفظ محبت ہی دل کا دشمن ہے
جسے شریعتِ احساس مان بیٹھے ہیں

ہے میکدے کی بہاروں سے دوستی ساغرؔ
ورائے حدِ یقین و گمان بیٹھے ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

 ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے 
ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے

نو گرفتار وفا سعئ رہائی ہے عبث 
ہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے پہلے

خوش ہو اے دل کہ محبت تو نبھا دی تو نے 
لوگ اجڑ جاتے ہیں انجام سے پہلے پہلے

اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں 
کتنی رغبت تھی ترے نام سے پہلے پہلے

سامنے عمر پڑی ہے شب تنہائی کی 
وہ مجھے چھوڑ گیا شام سے پہلے پہلے

کتنا اچھا تھا کہ ہم بھی جیا کرتے تھے فرازؔ 
غیر معروف سے گمنام سے پہلے پہلے

Share this post


Link to post
Share on other sites

 ﮔِﻠﮯ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﮩﯽ، ﺣﺪ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ

ﮨﻢ ﺍِﺱ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﮐﻮ ﺷﺮﻁِ ﺍﺩﺏ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻭﮦ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﺁ ﮔﯿﺎ، ﻣِﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ

ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﺩِﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ، ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﻟﮯ
ﯾﮧ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺩﺭ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺗﻮ ﺳُﻨﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ

ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﮯ ﺑﮯ ﺳَﺒﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ
ﺳَﺒﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ، ﺍِﻧﮑﺎﺭ ﮨﻢ ﺳُﻨﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ

ﻋﺠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ، ﺍِﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﮨﻮ
ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﯾﮧ ﮨُﻮﺍ ﮨﮯ، ﮐﮧ ﺍﺏ ﻟﮍﯾﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ

ﮐِﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﮭﻮﮌﺩﯾﮟ ﺗِﺮﯼ ﻗُﺮﺑﺖ
ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﺍِﺱ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺳﮯ ﺑﭽﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ

ﺟﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ
ﺟﻮ ﻧﻘﺶ ﺩِﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﺭﯾﺖ ﭘﺮ ﺑﻨﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ

ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﭙﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺗِﯿﺮﮔﯽ ﺷﮩﺰﺍﺩ
ﭼﺮﺍﻍ ﮨﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍِﺱ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ

Share this post


Link to post
Share on other sites

عشق کو آگ کا دریا میں لکھوں کیسے لکھوں

حسن کو چاند سا چہرہ میں لکھوں کیسے لکھوں

 

کیا سفر نامہ ء صحرائے محبت میں لکھوں

دشتِ آشوب میں جلنا میں لکھوں کیسے لکھوں

 

ڈوب کر کیا کوئی اُبھرا ہے سفینہ دل کا

بحر ِ کلفت سے اُبھرنا میں لکھوں کیسے لکھوں

 

حسن ِ یوسف کی تو عاشق ہے خدائی ساری

اک زلیخا کا ہی قصہ میں لکھوں کیسے لکھوں

 

شب سے پہلے ہی یہ دل چاند سا چہرہ مانگے

دل ِ نادان ہے پگلا میں لکھوں کیسے لکھوں

 

آنکھ کھل جائے تو تنہائی سے خوف آتا ہے

ہجر ِ مژگاں میں سلگلنا میں لکھوں کیسے لکھوں

 

کیوں محبت کی نشانی کو لکھوں تاج محل

عشق کی قید کا نوحہ میں لکھوں کیسے لکھوں

 

قتل ہوتے ہیں زمانے میں سویے حشررقیب

میرا قاتل ہے مسیحا میں لکھوں کیسے لکھوں

 

سنگ برسے تو مرے دوست تماشائی تھے

سنگ دل شہر تھا سارا میں لکھوں کیسے لکھوں

 

سوئے محشر نہ قلم ہے نہ سیاہی نہ دوات

مرگِ درویش کا قصّہ میں لکھوں کیسے لکھوں

 

فاروق درویش

Edited by Mehak

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہو دل لگی میں بھی دل کی لگی تو اچھا ہے

سجاد باقر رضوی

 

 

ہو دل لگی میں بھی دل کی لگی تو اچھا ہے

لگا ہو کام سے گر آدمی تو اچھا ہے

 

اندھیری شب میں غنیمت ہے اپنی تابش دل

حصار جاں میں رہے روشنی تو اچھا ہے

 

شجر میں زیست کے ہے شاخ غم ثمر آور

جو ان رتوں میں پھلے شاعری تو اچھا ہے

 

یہ ہم سے ڈوبتے سورج کے رنگ کہتے ہیں

زوال میں بھی ہو کچھ دل کشی تو اچھا ہے

 

سزا ضمیر کی چہرہ بگاڑ دیتی ہے

خود اپنی جون میں ہو آدمی تو اچھا ہے

 

نہیں جو لذت دنیا نشاط غم ہی سہی

ملے جو یک دو نفس سر خوشی تو اچھا ہے

 

سفر میں ایک سے دو ہوں تو راہ آساں ہو

چلے جو ساتھ مرے بیکسی تو اچھا ہے

 

دیار دل میں مہکتے ہیں پھول یادوں کے

رچے بسے جو ابھی زندگی تو اچھا ہے

 

چلو جو کچھ نہیں باقرؔ متاع درد تو ہے

اسے سنبھال کے رکھو ابھی تو اچھا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

دل لگی تھی اسے ہم سے محبت کب تھی 
محفل غیر سے ستم گر کو فرصت کب تھی 

ہم تھے محبت میں لٹ جانے کے قائل 
ہماری خاطر کسی کو چھوڑنے کی اس میں ہمت کب تھی 

وہ تو وقت گزرنے کے لیے کرتا تھا پیار کی باتیں 
ورنہ میری خاطر اس کے دل میں چاہت کب تھی 

بہت روکا پھر بھی نکل آئے کمبخت آنْسُو 
ورنہ بزم یار میں آنسو بہانے کی اِجازَت کب تھی . . . !

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں کسے سنا رہا ہوں یہ غزل محبتوں کی

میں کسے سنا رہا ہوں یہ غزل محبتوں کی
کہیں آگ سازشوں کی ، کہیں آنچ نفرتوں کی

کوئی باغ جل رہا ہے، یہ مگر مری دعا ہے
مرے پھول تک نہ پہنچے، یہ ہوا تمازتوں کی

مرا کون سا ہے موسم مرے موسموں کے والی!
یہ بہار بے دلی کی، یہ خزاں مروّتوں کی

میں قدیم بام و در میں انہیں جا کے ڈھونڈتا ہوں
وہ دیار نکہتوں کے، وہ فضائیں چاہتوں کی

کہیں چاند یا ستارے ہوئے ہم کلام مجھ سے
کہیں پھول سیڑھیوں کے، کہیں جھاڑیاں پتوں کی

مرے کاغذوں میں شاید کہیں اب بھی سو رہی ہو
کوئی صُبح گلستاں کی، کوئی شام پربتوں کی

کہیں دشتِ دل میں شاید مری راہ تک رہی ہو
وہ قطار جُگنوں کی، وہ مہک ہری رُتوں کی

یہ نہیں کہ دب گئی ہے کہیں گردِ روز و شب میں
وہ خلش محبتوں کی، وہ کسک رفاقتوں کی

Share this post


Link to post
Share on other sites

حکم تیرا ہے

حکم تیرا ہے تو تعمیل کیے دیتے ہیں
زندگی ہجر میں تحلیل کیے دیتے ہیں

تو میری وصل کی خواہش پہ بگڑتا کیوں ہے
راستہ ہی ہے چلو تبدیل کیے دیتے ہیں

آج سب اشکوں کو آنکھوں کے کنارے پہ بلاؤ
آج اس ہجر کی تکمیل کیے دیتے ہیں

ہم جو ہنستے ہوئے اچھے نہیں لگتے تم کو
تو حکم کر آنکھ ابھی جھیل کیے دیتے ہیں

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

شرط

یہ تم جانتی ہو میں ضدی بہت ہوں
انا بھی ہے مجھ میں
میں سنتا ہوں دل کی (فقط اپنے دل کی)
کسی کی کوئی بات سنتا نہیں ہوں
مگر اپنی دھن میں صبح و شام رہنا
کوئی درد اپنا کسی سے نہ کہنا
یہ عادت ہے میری
میں عادت بھی کوئی بدلتا نہیں ہوں
یہ تم جانتی ہو
مگر یہ بھی سچ ہے
میں ضد چھوڑ دوں گا
انا کی یہ دیوار بھی توڑ دوں گا
بدل لوں گا ہر ایک عادت بھی اپنی
"اگر تم کہو گی

Share this post


Link to post
Share on other sites

اک چاند تنہا کھڑا رہا

اک چاند تنہا کھڑا رہا، میرے آسمان سے ذرا پرے
میرے ساتھ ساتھ سفر میں تھا، میری منزلوں سے ذرا پرے

تیری جستجو کے حصار سے، تیرے خواب تیرے خیال سے
میں وہ شخص ہوں جو کھڑا رہا، تیری چاہتوں سے ذرا پرے

کبھی دل کی بات کہی نہ تھی، جو کہی تو وہ بھی دبی دبی
میرے لفظ پورے تو تھے مگر، تیری سماعتوں سے ذرا پرے

تو چلا گیا میرے ہمسفر، ذرا دیکھ مڑ کے تو اک نظر
میری کشتیاں ہیں جلی ہوئی، تیرے ساحلوں سے ذرا پرے

Share this post


Link to post
Share on other sites

وصالِ یار اب تو خواب ہوتا جا رہا ہے

Poet: JAVAID DANIEL

وصالِ یار اب تو خواب ہوتا جا رہا ہے
یہ دِل اُس کے لیے بے تاب ہوتا جا رہا ہے

یہ کیسا دشتِ حیرت ہے جہاں ہم آ گئے ہیں
کہ پیاسا دُھوپ میں سیراب ہوتا جا رہا ہے

بہت سے لوگ جائیں گے اُسے اب ڈھونڈ نے کو
وفا کا نام بھی نایاب ہوتا جا رہا ہے

مجھے اِس عہد کا سُقراط سمجھا جا رہا ہے
کہ ہر اِک جام اب زَہراب ہوتا جا رہا ہے

نجانے کب تلک یونہی قرنطینہ رہے گا؟
رقم جاویدؔ ! پھر اِک باب ہوتا جا رہا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

مجھے تم یاد آتی ہو

مقدر کے ستاروں پر
زمانے کے اشاروں پر
اداسی کے کناروں پر
کبھی ویران صحرا میں
کبھی سنسان راہوں میں
کبھی حیران آنکھوں میں
کبھی بے جان لمحوں میں
تمہاری یاد ہولے سے
کوئی سرگوشی کرتی ہے
یہ پلکیں بھیگ جاتی ہیں
دو آنسو ٹوٹ گرتے ہیں
میں پلکوں کو جھکاتا ہوں
بظاہر مسکراتا ہوں
فقط اتنا ہی کہتا ہوں
مجھے کتنا ستاتی ہو
مجھے تم یاد آتی ہو
مجھے تم یاد آتی ہو

Share this post


Link to post
Share on other sites

قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے
محبتوں میں جو احسان ہو ، تمھارا ہو
میں اپنے حصے کے سُکھ جس کے نام کر ڈالوں
کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو

Share this post


Link to post
Share on other sites

تازہ ہے ابھی پہلی ملاقات کی خوشبو 
جذبات میں ڈوبی ہوئ اس بات کی خوشبو 

جس ہاتھ کو پل بھر کے لیے تھام لیا تھا 
مدت سے ہاتھ میں ہے اس ہاتھ کی خوشبو

Share this post


Link to post
Share on other sites

وہ کچھ سنتا تو میں کہتا مجھے کچھ اور کہنا تھا 

وہ پل بھر کو جورک جاتا مجھے کچھ اور کہنا تھا 

غلط فہمی نے باتوں کو بڑھا ڈالا یونہی ورنہ

کہا کچھ تھا، وہ کچھ سمجھا مجھے کچھ اور کہنا تھا

Share this post


Link to post
Share on other sites

وہ اس انداز کی مجھ سے محبت چاہتا ہے
مرے ہر خواب پر اپنی حکومت چاہتا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


×
×
  • Create New...