Jump to content
Mehak

Other Poetry - متفرق شاعری

Recommended Posts

ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میں

مادہ جیسے نکھر جائے توانائی میں

پہلے منزل پس منزل پس منزل اور پھر

راستے ڈوب گئے عالم تنہائی میں

گاہے گاہے کوئی جگنو سا چمک اٹھتا ہے

میرے ظلمت کدۂ انجمن آرائی میں

ڈھونڈھتا پھرتا ہوں خود اپنی بصارت کی حدود

کھو گئی ہیں مری نظریں مری بینائی میں

ان سے محفل میں ملاقات بھی کم تھی نہ مگر

اف وہ آداب جو برتے گئے تنہائی میں

یوں لگا جیسے کہ بل کھا کے دھنک ٹوٹ گئی

اس نے وقفہ جو لیا ناز سے انگڑائی میں

کس نے دیکھے ہیں تری روح کے رستے ہوئے زخم

کون اترا ہے ترے قلب کی گہرائی می

Share this post


Link to post
Share on other sites

دل سے یا گلستاں سے آتی ہے

تیری خوشبو کہاں سے آتی ہے

کتنی مغرور ہے نسیم سحر

شاید اس آستاں سے آتی ہے

خود وہی میر کارواں تو نہیں

بوئے خوش کارواں سے آتی ہے

ان کے قاصد کا منتظر ہوں میں

اے اجل! تو کہاں سے آتی ہے

شکوہ کیسا کہ ہر بلا اے دوست!

جانتا ہوں جہاں سے آتی ہے

ہو چکیں آزمائشیں اتنی

شرم اب امتحاں سے آتی ہے

عین دیوانگی میں یاد آیا!

عقل عشق بتاں سے آتی ہے

تیری آواز گاہ گاہ اے دوست!

پردۂ ساز جاں سے آتی ہے

دل سے مت سرسری گزر کہ رئیسؔ

یہ زمیں آسماں سے آتی ہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

محبت کے سفر میں کوئی بھی رستا نہیں دیتا 
زمیں واقف نہیں بنتی فلک سایا نہیں دیتا 
خوشی اور دکھ کے موسم سب کے اپنے اپنے ہوتے ہیں 
کسی کو اپنے حصے کا کوئی لمحہ نہیں دیتا 
نہ جانے کون ہوتے ہیں جو بازو تھام لیتے ہیں 
مصیبت میں سہارا کوئی بھی اپنا نہیں دیتا 
اداسی جس کے دل میں ہو اسی کی نیند اڑتی ہے 
کسی کو اپنی آنکھوں سے کوئی سپنا نہیں دیتا 
اٹھانا خود ہی پڑتا ہے تھکا ٹوٹا بدن فخریؔ 
کہ جب تک سانس چلتی ہے کوئی کندھا نہیں دیتا 

زاہد فخری

  • Thumbs Up 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

صبا۔۔ جانا اُدھر تو دردِ دل کا ماجرا کہنا

بہ نرمی بارگاہِ شاہ میں حالِ گدا کہنا

ادب سے پیش آنا، گفتگو کرنا مروت سے

مگر دل کا جو عالم ہو رہا ہے، برملا کہنا

Share this post


Link to post
Share on other sites

عشق کیسا کہ بھروسہ بھی نہیں تھا شاید
اُس سے میرا کوئی رشتہ بھی نہیں تھا شاید

Share this post


Link to post
Share on other sites

جو ان آنکھوں سے رواں ہیں اشک ہیں
جو ان اشکوں میں مکیں ہے عشق ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں
میں باتیں بھول بھی جاؤں تو لہجے یاد رکھتا ہوں
سرِ محفل نگاہیں مجھ پہ جن لوگوں کی پڑتی ہیں
نگاہوں کے معانی سے وہ چہرے یاد رکھتاہوں
ذرا سا ہٹ کے چلتا ہوں زمانے کی روایت سے
کہ جن پہ بوجھ میں ڈالوں وہ کاندھے یاد رکھتا ہوں
میں یوں تو بھول جاتا خراشیں تلخ باتوں کی
مگر جو زخم گہرے دیں وہ رویے یاد رکھتا ہوں


شاعر:۔۔۔فرحتؔ عباس شاہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

حیرتِ عشق سے نکلوں تو کدھر جاؤں میں

ایک صورت نظر آتی ہے جدھر جاؤں میں

 

یہ بھی ممکن ہے کہ ہر سانس سزا ہو جائے

ہو بھی سکتا ہے جدائی میں سنور جاؤں میں

 

یوں مسلسل مجھے تکنے کی نہ عادت ڈالو

یہ نہ ہو آنکھ جو جھپکو تو بکھر جاؤں میں

 

کیا ترے دل پہ قیامت بھی بھلا ٹوٹے گی؟

گر تجھے دیکھ کے چپ چاپ گزر جاؤں میں

 

دیکھو انجام تو دینے ہیں امورِ دنیا

جی تو کرتا ہے ترے پاس ٹھہر جاؤں میں

 

تھام رکھا ہے جو تُو نے تو سلامت ہے بدن

تُو اگر ہاتھ چھڑا لے تو بکھر جاؤں میں

 

جس قدر بگڑا ہوا ہوں میں یہی سوچتا ہوں

کب ترے ہاتھ لگوں اور سُدھر جاؤں میں

 

کون ہے ، بول مرا، میری اداسی ! تجھ بن

تُو بھی گر پاس نہ آئے تو کدھر جاؤں میں

 

یہ مری عمر فقط چاہ میں تیری گزرے

مر نہ جاؤں جو ترے دل سے اتر جاؤں میں

Share this post


Link to post
Share on other sites

تم کمال کرتے ہو
یوں دھڑکنوں کا میری
استعمال کرتے ہو
کہ جلترنگ میں ہو جاؤں
رنگ رنگ میں ہو جاوں
تمھارا نام لے کوئی
میں خودبخودسے ہو جاوں
آمدوں میں کھو جاوں
اور اس خوشی میں روجاوں
تیری دلفریب چھاوں میں
میں آج تھک کے سو جاوں

Share this post


Link to post
Share on other sites

اسے خبر ہی نہیں تھی کہ جا چکا تھا میں
بچھڑ کے اُس سے اُسی کے قریب ایسا تھا

وہ اسکو کہتا رہا میرے ذہن کی الجھن
مرض سمجھ ہی نہ پایا طبیب ایسا تھا

فقط اسی کا نہیں ہے قصور اسمیں سبھی
مزاج میرا بھی یوں تو عجیب ایسا تھا

زباں پہ نام بھی لایا نہیں ہے اُسکا کبھی
ہمارے دور کا دیکھو رقیب ایسا تھا

وہ میرا ہو کے بھی صفدر نہ ہو سکا میرا
نصیب مل نہ سکا کم نصیب ایسا تھا

Share this post


Link to post
Share on other sites

تیرے جوار میں کچھ کم  نصیب ایسے تھے

تجھے نظر ہی نہ آئے قریب ایسے تھے

 

تجھے عزیز تھے دل سے تو پھر شکایت کیا

میرے رفیق تھے میرے رقیب ایسے تھے

 

خوشی خوشی سے لٹا دی الم سمیٹ لئے

کرے گی ناز سخاوت غریب ایسے تھے

 

کچھ اتنے سادہ کہ سادگی کو بھی ہو حیرت

سمجھ نہ آئے کسی کو عجیب ایسے تھے

 

بیان کر دیا آنکھوں میں حالِ دل اپنا

زبان سے کچھ نہ کہا ہم خطیب ایسے تھے

 

اداس کر کے نہ پوچھو اداس کیوں ہو قمــرـ

گلہ کسی سے نہیں ہے، نصیب ایسے تھے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


×
×
  • Create New...