Jump to content
rose

Kitchen Garden with Tofiq Pasha Mooraj

Recommended Posts

Guest
You are commenting as a guest. If you have an account, please sign in.
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Restore formatting

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


  • Similar Content

    • By sunrise
      اوہ سورج اتنا نزدیک آ رہا ہے
      مری ہستی کا سایہ جا رہا ہے
      خدا کا آسرا تم دے گئے تھے
      خدا ہی آج تک کام آ رہا ہے
      بکھرنا اور پھر ان گیسوؤں کا
      دو عالم پر اندھیرا چھا رہا ہے
      جوانی آئنہ لے کر کھڑی ہے
      بہاروں کو پسینہ آ رہا ہے
      کچھ ایسے آئی ہے باد موافق
      کنارا دور ہٹتا جا رہا ہے
      غم فردا کا استقبال کرنے
      خیال عہد ماضی آ رہا ہے
      وہ اتنے بے مروت تو نہیں تھے
      کوئی قصداً انہیں بہکا رہا ہے
      کچھ اس پاکیزگی سے کی ہے توبہ
      خیالوں پر نشہ سا چھا رہا ہے
      ضرورت ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے
      زمانہ ہے کہ گھٹتا جا رہا ہے
      ہجوم تشنگی کی روشنی میں
      ضمیر مے کدہ تھرا رہا ہے
      خدا محفوظ رکھے کشتیوں کو
      بڑی شدت کا طوفاں آ رہا ہے
      کوئی پچھلے پہر دریا کنارے
      ستاروں کی دھنوں پر گا رہا ہے
      ذرا آواز دینا زندگی کو
      عدمؔ ارشاد کچھ فرما رہا ہے
    • By urduitacademy.com
      Android Development Lecture 39
      User Location

    • By itguy
      ایکسپریس نیوز کے مطابق گوجرانوالہ بورڈ کے زیر اہتمام نویں جماعت کے نتائج کا اعلان کردیا گیا جس میں فیڈرل سائنس اسکول واپڈا ٹاؤن کی نویں جماعت کی طالبہ نورین کوثر نے سائنس کے امتحان میں 505 میں سے 504 نمبر لے کر مجموعی طور پر 98.8 فیصد نمبر حاصل کرکے ریکارڈ قائم کردیا۔
       
      دوسری جانب نورین کوثر نے ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ 16 روزانہ گھنٹے پڑھتی تھیں اور مستقبل میں اسی طرح تعلیمی میدان میں آگے بڑھتے ہوئے ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں۔
       
      Source: www.express.pk


    • By AMuslim
      Source:
      www.darsequran.com
      [ATTACH=full]84[/ATTACH]
      [ATTACH=full]85[/ATTACH]
      [ATTACH=full]86[/ATTACH]
      [ATTACH=full]87[/ATTACH]


    • By rose
      تحریر آمنہ خورشید
      Source: http://www.darsequran.com
       
      میرے پیارے بچو! رمضان کا مہینہ ہے اور ننھی منی سارہ روز امی جان سے ضد کرتی ہے کہ میں نے بھی روزہ رکھنا ہے۔ تیسرے روزے میں جب سب سحری کرنے اٹھے تو امی جان نے دیکھا۔ سارہ بھی آنکھیں ملتی ہوئی دسترخوان پر بیٹھی ہوئی ہے۔





      دادو جان نے پیار سے اس کے بال سہلائے اور اسے گود میں بٹھا لیا۔
      ’’ارے میری پیاری بٹیا کاہے کو اٹھ بیٹھی؟ ‘‘
      ’’دادو! کل شام کو دادا ابا نے بتایا تھا سحری کرنا بہت ثواب کا کام ہے۔ ‘‘ سارہ نے توتلی زبان میں بتایا تو سب مسکرانے لگے۔





      دوپہر کو جب امی جان کچن میں مصروف تھیں تو سارہ بھی کچن میں آگئی۔
      ’’امی جان! آج میں نے روزہ رکھا ہے ناں! ‘‘ سارہ نے شوق سے پوچھا۔
      تو امی جان کو ہنسی آگئی۔ کیونکہ کچھ دیر پہلے ہی انہوں نے سارہ کو شہد کے ساتھ کیلا ملائی کھلایا تھا۔ لیکن انہوں نے سارہ کے شوق کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’جی بیٹا! ‘‘
      ’’تو میرا روزہ کہاں ہے؟‘‘ سارہ نے بہت پریشانی سے پوچھا ۔
      امی جان ہنس پڑیں۔ پھر انہوں نے بتایا کہ ہم روزہ کسی خاص جگہ پر نہیں رکھتے۔ لیکن سارہ کی سمجھ میں نہیں آیا۔
      ’’دادا ابا! ہم روزہ کہاں رکھتے ہیں؟‘‘
      دادا ابا نے اخبار کے اوپر سے سارہ کو دیکھا ۔ وہ بہت فکر مند لگ رہی تھی۔ انہیں بھی ہنسی آگئی۔ لیکن انہوں نے بھی امی جان کی طرح کا جواب دیا۔
      عصر کے بعد سارہ بھیا کے کمرے میں تھی جو کتاب تھامے کسی گہری سوچ میں گم تھے۔
      ’’بھیا ! ہم روزہ کہاں رکھتے ہیں۔ ‘‘ اس نے پوچھا اور اچھل کر پاس پڑے سٹول پر بیٹھ گئی۔ بھیا نے دیکھا سارہ آسانی سے تو ماننے والی نہیں تو کہ اٹھے۔ ’’فریج میں!‘‘
      ’’اچھا!‘‘ یہ کہتے ہی سارہ نے کچن کی جانب دوڑ لگا دی جہاں امی جان فریج سے فروٹ نکال رہی تھیں۔
      ’’امی جان! ایک منٹ!بھیا نےکہا ہے میرا روزہ فریج میں ہے! مجھے نکال کر دیں ناں!‘‘ امی جان نے مصنوعی غصے سے اس کی جانب دیکھا ۔
      ’’سارہ بیٹا! میں نے آپ کو صبح بتایا تھا کہ ہم رو زہ ۔۔! اچھا چھوڑیں! یہاں آئیں!‘‘ پھر انہوں نے سارہ کو شیلف پر بٹھا لیا۔
      ’’آپ کو پتہ ہے روزہ کسے کہتے ہیں؟ ‘‘ انہوں نے پیار سے پوچھا۔
      ’’نہیں تو!‘‘ سارہ نے سر ہلایا۔
      ’’سنو! سارا دن۔۔ کچھ نہ کھانا ۔۔۔ کچھ نہ پینا کو روزہ کہتے ہیں!‘‘ امی جان نے اسے تین چار بار کہلوایا تو ہماری ذہین سارہ کو روزے کی تعریف یاد ہوگئی۔
      ’’اچھا امی جان! میں دادو کو بتا کر آتی ہوں!‘‘ یہ کہتے ہی سارہ نے چھلانگ لگائی اور یہ جا وہ جا۔
      ’’دادو جان! آپ کو پتہ ہے روزہ کسے کہتے ہیں؟ میں بتاؤں! ‘‘ سارہ نے بے صبری سے پوچھا تو دادو مسکرا اٹھیں۔
      ’’ہاں ہاں بتلاؤ!‘‘
      ’’سارا دن ۔۔ کچھ نہ کھانا کچھ نہ پینا کو ۔۔ روزہ کہتے ہیں۔ ‘‘ سارہ نے مزے سے بتایا تو دادو ہنس پڑیں۔ افطاری تک گھر کے ہر فرد کو روزہ کی تعریف ازبر ہو چکی تھی۔
      جب سب افطار کرنے بیٹھے تو یکدم سارہ کو یاد آگیا۔
      ’’امی جان!‘‘
      ’’جی بیٹا! کہیے۔ ‘‘ امی جان شربت کا جگ میز پر رکھتے ہوئے بولیں۔
      ’’میرا روزہ کہاں گیا؟‘‘ یہ سنتے ہی امی جان نے سر پیٹ لیا اور سب ہنس پڑے۔


×